اعتراض - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اعتراض

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

پروفیسر غلام صابر  اہلِ سنت پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اہلِ سنت کے معتبر علماء کی کتب میں اِلَى الۡمَرَافِقِ کے معنیٰ مَعَ المَرَافِقِ کیے ہیں۔ (جلالین، فتح الباری) مطلب یہ ہوا کہ ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھویا جائے۔ (صفحہ28)  

اس میں پروفیسر  کا مقصد یہ ہے کہ اِلَى کو انتہا کے لیے نہیں بلکہ مَعَ کے معنیٰ میں لیا گیا ہے، تو پھر انگلیوں سے ابتدا نہیں ہو گی۔

پہلا جواب:بے شک مفسرین کرام نے اِلَى الۡمَرَافِقِ کے معنیٰ مَعَ المَرَافِقِ اور اِلَى الۡـكَعۡبَيۡنِ‌ کے معنیٰ مَعَ الكَعبَينِ کیے ہیں، مگر اس سے ہاتھوں کو کہنیوں کی جانب سے دھونا تو ثابت نہیں ہوتا، بلکہ اس صورت میں بھی ہاتھوں کو اور پاؤں کو انگلیوں کی جانب سے ہی دھونا ثابت ہوتا ہے۔ اس لیے کہ حضرات مفسرین کرام نے وضاحت کی ہے کہ اِلَى الۡمَرَافِقِ اور اِلَى الۡـكَعۡبَيۡنِ‌ کی قید اِسقَاطُ مَا رَاءَ کے لیے ہے، یعنی ان سے اوپر والے حصے کو دھونے کے حکم سے خارج کرنے کے لیے ہے۔ اس لیے کہ عربی زبان میں یَد ہاتھ کی انگلیوں سے لے کر کندھے کے جوڑ تک سارے بازو کو کہتے ہیں، اور رِجل پاؤں کی انگلیوں سے لے کر ران کے جوڑ تک ساری ٹانگ کو کہتے ہیں۔ 

اگر اِلَى الۡمَرَافِقِ اور اِلَى الۡـكَعۡبَيۡنِ‌ کی قید نہ ہوتی تو جس طرح سارے چہرے کو دھویا جاتا ہے اسی طرح سارے بازو اور ساری ٹانگ کو دھونا پڑتا۔ جب یہ قید آ گئی تو واضح ہو گیا کہ یَدَین (ہاتھوں) کا دھونا مرافق (کہنیوں) سے اوپر، اور پاؤں کا دھونا كَعبَين (ٹخنوں) سے اوپر ضروری نہیں ہے اس لیے کہ اوپر کا حصہ دھونے کے حکم سے خارج ہے۔ اس لحاظ سے اِلَى الۡمَرَافِقِ کا معنیٰ مَعَ المَرَافِقِ اور اِلَى الۡـكَعۡبَيۡنِ‌ کا معنیٰ مَعَ الكَعبَينِ ہو گیا اور یہ دھونے کی فرض جگہ کی آخری حد ہیں۔ جب یہ آخری حد ہیں تو ابتدا انگلیوں کی طرف سے ہی ہو گی اور یہی سنت ہے۔

دوسرا جواب:جس طرح ہاتھ دھونے میں اِلَى الۡمَرَافِقِ کی قید ہے اسی طرح پاؤں میں بھی اِلَى الۡـكَعۡبَيۡنِ‌ کی قید ہے اور اس میں شیعہ حضرات بھی پاؤں کی انگلیوں کی جانب سے شروع کرنے کے قائل ہیں۔ جب ایک جگہ انگلیوں کی جانب سے شروع کرنے کے شیعہ حضرات بھی قائل ہیں، تو دوسری جگہ یعنی ہاتھوں میں انگلیوں کی جانب سے شروع کرنے سے وضو کیوں کر باطل ہو جاتا ہے؟