کیا اہل تشیع کے ہاں عورت غیر منقولہ ملکیت کی وارث ہوتی ہے؟…

کیا اہل تشیع کے ہاں عورت غیر منقولہ ملکیت کی وارث ہوتی ہے؟ شیعہ مناظر کی کمزور تاویلات اور تحریر وسیلہ کے متعلق خیانتیں!(قسط 19)

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 3

کیا اہل تشیع کے ہاں عورت غیر منقولہ ملکیت کی وارث ہوتی ہے؟

شیعہ مناظر کی کمزور تاویلات اور تحریر وسیلہ کے متعلق خیانتیں!(قسط 19)

سنی مناظر: حسب سابق غیر ضروری جواب اور ٹائیم پاس کا طریقہ! آپ کی گفتگو میرے ساتھ چل رہی ہے، نئے آنے والوں کو پرسنل میں کاپی پیسٹ بھیجا کریں۔ مجھ سمیت تمام ممبرز پہلے ہی آپ کے کاپی پیسٹ  طرز عمل اور لمبی لمبی تحریروں  سے بیزار ہیں۔ جو نکات زیر بحث ہیں ان کے جوابات کون دے گا؟ غیر ضروری لنکس بھیجنے سے پرہیز کریں۔

میرا سادہ سا  انداز گفتگو ہے۔ میں شروع سے آپ کی تحریر کے پہلے مرحلے کے الف پر ہی بات کرتا رہا ہوں۔ ہم نے یہی طئے کیا تھا کہ ترتیب سے ہر نکتہ الگ الگ زیر بحث لایا جائے گا۔میری پوچھی گئیں وضاحتیں الف کے متعلق ہیں۔ آپ انہیں کلیئر کرنے کے بجائے اگلے حصے پر جانے کی لاکھ کوششیں کریں میں واپس آپ آپ کو الف پر ہی لےآؤں گا کیونکہ میرے سوالات  ابھی تک قائم ہیں اور ان کا علمی رد اور دو ٹوک جوابات آپ کی طرف سے آ نہیں سکے۔!

آپ نے اقوال علماء کا سہارہ لیا تو میں نے تین علماء اہل سنت سے اسی حدیث کا دفاع اور اہل سنت مؤقف دکھادیا۔ عجیب بات ہے کہ  علمائے اہلسنت کا جو  قول آپ کے مطلب کا ہو اسے سر آنکھوں پر رکھتے ہیں باقی اقوال سب اپنی تاویل سے مسترد!

کیا واقعی شیعہ سیدہ فاطمہ کے مطالبہ میراث پر یقین رکھتے ہیں۔ یہ تو آپ نے بہت بڑا  انکشاف کیا ہے۔ اب کھل کر یہ اقرار بھی کریں کہ فدک پورا سیدہ فاطمہ کا حصہ نہیں تھا بلکہ سیدہ نے فدک کا صرف کچھ حصہ بطور میراث طلب کیا تھا۔

فدک پر فیصلہ کس قرآن کی آیت کے خلاف ہے؟  وہ آیت پیش کریں جس میں انبیاء کرام کی مالی وراثت کا ذکر آیا ہے۔

میں نے اہل تشیع کتب سے دو صحیح روایات پیش کر کے ثابت کیا ہے کہ

1۔  انبیائے کرام کی مالی وراثت نہیں ہوتی۔ (یہ متفق علیہ بین الفریقین حدیث ہے)

2۔  عورت غیر منقولہ جائیداد کی وارث نہیں ہوتی۔ (اصول کافی امام معصوم کا صحیح قول)

آپ کو اس کا رد اپنی کتب سے کرنا تھا۔ پہلے آپ نے تاویل کرتے ہوئے کہا کہ اس قول سے مراد یہ ہے کہ علماء کو نبی کی مالی وراثت نہیں ملے گی۔ میں نے اس کا رد کیا کہ یہ غیر منطقی بات ہے کیونکہ علماء کا نبی کی مالی وراثت ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مالی وراثت تو صرف قریبی رشتہ داروں کو ملتی ہے۔

اب آپ اصول کافی میں موجود صحیح قول امام معصوم کو اہل سنت حدیث (خلیفہ دوم) والی  روایت  سے  رد کر رہے ہیں۔ حد ہے!! 


مناظروں کا مسلمہ اصول ہے کہ ہر مسلک اپنے اوپر اعتراض کا رد اپنی ہی کتب سے کرتا ہے اس کے بعد الزامی جواب فریق مخالف سے دیا جاتا ہے۔


 

(باب ثواب العالم والمتعلم)

1 - محمد بن الحسن وعلي بن محمد، عن سهل بن زياد، ومحمد بن يحيى، عن أحمد بن محمد جميعا، عن جعفر بن محمد الأشعري، عن عبد الله بن ميمون القداح، وعلي بن إبراهيم، عن أبيه، عن حماد بن عيسى، عن القداح، عن أبي عبد الله عليه السلام قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله: من سلك طريقا يطلب فيه علما سلك الله به طريقا إلى الجنة وإن الملائكة لتضع أجنحتها لطالب العلم رضا به وإنه يستغفر لطالب العلم من في السماء ومن في الأرض حتى الحوت في البحر، وفضل العالم على العابد كفضل القمر على سائر النجوم ليلة البدر، وإن العلماء ورثة الأنبياء إن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما ولكن ورثوا العلم فمن أخذ منه أخذ بحظ وافر.

اصول کافی جلد 1  ص 18,19

 

 

آپ نے اپنی اس صحیح روایت اور قول امام  معصوم کی تاویل کچھ اس طرح کی تھی۔

 

میں نے اس کمزور تاویل کا رد کرتے ہوئے واضح کردیا کہ اہل تشیع کے ہاں بھی یہی ثابت ہے کہ انبیائے کرام کی مالی ملکیت نہیں ہوتی۔

 

 

آپ کے پاس اس قول معصوم کا نہ علمی رد ہے اور نہ مناسب تاویل۔  اور یہ ممکن بھی نہیں ہے۔ یہ دو ٹوک قول امام ہے جس سے پورا مسئلہ ہی حل ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد آتے ہیں عورت کی غیر منقولہ وراثت نہ ہونے پر اصول کافی کے اس باب پر جس کا رد آپ مدرسے کی کتب سے کرنے لگے ہیں۔

اس دلیل کے رد میں آپ نے یہ کہا کہ یہ پورا باب بیوی (زوجہ) کے متعلق ہے اور نساء سے مراد بیوی ہے۔  

میں نے اصول کافی کی فہرست بھیج کر کہا کہ اگر کوئی باب اوپر یا نیچے بیوی کے متعلق ہو بھی تو اس سے یہ باب بیوی کے لئے مخصوص کیسے سمجھا جائے؟   پھر میں نے آپ کو  موقعہ دیا کہ چلیں اس طرح ثابت کریں۔

یہ ان نکات کا مختصر پسمنظر تھا جو  ابھی تک زیر بحث  ہیں۔

آج آپ نے مدرسے کی کتب سے دھندلے عکس رکھ کر اپنا علمی رعب جھاڑنے کی کوشش کی ہے اور یہ مغرورانہ انداز اختیار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ترجمہ نہیں کروں گا  حالانکہ مناظرے ہمیشہ عام لوگوں تک حق پہچانے کی غرض سے کئے جاتے ہیں اور عوام کی اکثریت عربی نہیں سمجھتی ۔ مناظر اپنی دلیل کی وضاحت دینے  کا پابند بھی ہوتا ہے لیکن آپ پہلے بھی اسی طرح بغیر استدلال کے عکس رکھتے رہے ہو۔  میں نے ان عکس کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے پھر بھی الفاظ سمجھنے سے قاصر ہوں۔

اس عکس میں کہاں بیان ہوا ہے کہ  عورت غیر منقولہ ملکیت کی وارث ہوتی ہے؟

اور یہ بات کس اصول سے امام معصوم کے اقوال کو بھی رد کر سکتی ہے؟

جبکہ میں واضح اصول کافی کی چار  مضبوط روایات پیش کرچکا ہوں کہ عورت کو بطور ورثہ زمین نہیں ملتی۔

آپ نے کہا کہ مجھے عربی نہیں آتی اور روایات میں زوجہ کا لفظ موجود ہے۔ دوبارہ غور سے پڑھیں۔

چار اور چھ نمبر روایات میں واضح لکھا ہوا ہے کہ عورت  زمین کی وارث نہیں ہوتی۔

اوپر توثیق بھی پیش کرچکا ہوں۔

اس کے بعد آپ نے مدرسے کی اسی کتاب سے یہ عکس بھی بھیجا ہے۔

کافی غور سے پڑھنے کے باوجود مجھے کہیں بھی عورت کے غیر منقولہ جائیداد کا وارث ہونے کے الفاظ نہیں مل سکے۔ براہ کرم دوبارہ دونوں پیجز دوبارہ دیکھیں اور وضاحت سے سمجھائیں کہ آپ ان پیجز سے ثابت کیا کر رہے ہیں۔

صفحہ 1 از 3