اہلِ سنت کا نظریہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اہلِ سنت کا نظریہ

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک اَرۡجُلَكُمۡ میں لام کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ دونوں قرأتیں درست ہیں۔ مگر لام کے فتحہ کے ساتھ قرأت زیادہ مشہور ہے۔ اور اَرۡجُلَكُمۡ کا عطف اَيۡدِيَكُمۡ پر ہے، جو کہ ان اعضاء میں سے ہے جن کو دھویا جاتا ہے، اور پاؤں بھی دھوئے جانے والے اعضاء میں سے ہے۔

اور اس کی تائید حضرت عمر بن عبسہؓ کی روایت کرتی ہے کہ انہوں نے حضورﷺ سے جب وضو کے بارے میں پوچھا تو آپ نے جواب میں یہ بھی فرمایا:  

ثُمَّ يَغسِلُ قَدَمَيهِ إِلَى الكَعبَينِ كَمَا أَمَرَهُ اللّٰهُ تَعَالىٰ 

(صحیح ابو عوانہ: صفحہ245، 246 صحیح ابنِ خزیمہ: جلد1 صفحہ85)  

ترجمہ: پھر وہ اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھوئے جیسا کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ 

اس میں حضورﷺ نے وضاحت فرما دی کہ قرآن کریم میں وَاَرۡجُلَكُمۡ میں پاؤں کے دھونے کا حکم ہے۔

اور ایک روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا جس کے پاؤں پر ایک درہم برابر جگہ ایسی تھی جس پر پاؤں دھونے کے دوران پانی نہیں پہنچا تھا، تو آپﷺ نے اس کو دوبارہ وضو کرنے کا حکم فرمایا۔  

(ابو داؤد: جلد1 صفحہ 23)

اور اسی طرح ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے وضو کرتے ہوئے اپنے پاؤں کی ایک ناخن برابر جگہ خشک چھوڑ دی تھی، تو انہوں نے حضورﷺ کو بتایا، تو آپﷺ‏ نے فرمایا: ارجِع فَأَحسِن وُضُوءَكَ 

(مسلم: جلد1 صفحہ225 ابو داؤد: جلد1 صفحہ23)  

ترجمہ: جاؤ جا کر اچھے طریقے سے وضو کرو۔ 

اگر پاؤں کا وضو میں دھونا ضروری نہ ہوتا تو آپﷺ اس کو دوبارہ وضو کرنے کا حکم نہ فرماتے، اور آپ کا فرمان ہی قرآن کریم کی تفسیر ہے۔

اعتراض:

اگر وضو میں پاؤں کا دھونا ضروری ہوتا تو اس کو دھوئے جانے والے اعضاء چہرہ اور ہاتھوں کے ساتھ ذکر کیا جاتا، حالانکہ اس کو سر کے مسح کے بعد ذکر کیا گیا ہے۔

جواب:ایسا اس لیے کیا گیا تھا کہ ترتیب کو ملحوظ رکھا جائے، اور وضو میں ترتیب کا لحاظ کم از کم سنت ہے۔