پروفیسر غلام صابر لکھتے ہیں کہ شیعہ سر کے پچھلے حصے کے بجائے سر کے اگلے حصے کا مسح کرتے ہیں، جب کہ اہلِ سنت سر کا مسح کرتے وقت گردن کو بھی شامل کرتے ہیں۔ (صفحہ، 11) پھر آگے لکھتے ہیں: ان دلائل سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ سارے سر پر اور خاص طور پر گردن اور کانوں کا مسح کرنا قرآن کریم کی آیت سے تو ثابت نہیں ہوتا، بلکہ سر کے بعض حصے اور خاص کر مقدم حصے کا مسح کرنا ثابت ہو رہا ہے۔ (صفحہ، 29)
پروفیسر مسح کے متعلق مزید لکھتے ہیں کہ بائیں ہاتھ سے مسح جائز ہے لیکن احتیاط واجب کی بناء پر دائیں ہاتھ سے مسح کرنا چاہیے۔ (صفحہ، 14) اس میں پروفیسر نے شیعہ حضرات کی ترجمانی کرتے ہوئے چار باتیں ذکر کی ہیں:
اول یہ کہ سارے سر کا مسح درست نہیں۔
دوم یہ کہ گردن کا مسح درست نہیں۔
سوم یہ کہ کانوں کا مسح درست نہیں، اس لیے کہ یہ قرآن کی آیت سے ثابت نہیں ہو رہے
اور چہارم یہ کہ مسح میں احتیاط واجب یہ ہے کہ دائیں ہاتھ سے مسح کیا جائے۔ اس کے برخلاف اہلِ سنت کا نظریہ یہ ہے کہ سارے سر کا مسح کرنا کم از کم سنت ہے۔ کانوں کا مسح بھی سنت ہے۔ سر کا مسح کرتے وقت ہاتھوں کو گدی تک لے جانا بھی سنت ہے، جس میں گردن کا کچھ حصہ بھی آ جاتا ہے۔ اور دونوں ہاتھوں کے ساتھ مسح کرنا سنت ہے۔
جب یہ کام اہلِ سنت کے نزدیک سنت ہیں تو ان کی دلیل بھی سنت سے طلب کرنی چاہیے۔ یہ کہہ کر رد کرنا کہ یہ قرآن کی آیت سے ثابت نہیں، تو یہ انداز بالکل غلط ہے۔
چنانچہ خود پروفیسر نے وضو میں ہاتھوں کو کلائیوں تک دھونا، اور پھر تین مرتبہ کلی کرنا، اور تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالنا تسلیم کیا ہے، اور ان کے بارے میں کہا ہے کہ یہ تینوں کام سنت ہیں واجب نہیں۔ (صفحہ، 12) حالانکہ ان میں سے کوئی بھی قرآن کریم کی آیت سے ثابت نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کام سنت ہے ان کی دلیل قرآن کریم کی آیت سے تلاش نہیں کی جاتی۔ تو اہلِ سنت بھی سارے سر کے مسح کو سنت کہتے ہیں۔ اس لیے ان کی تردید میں یہ کہنا کہ یہ قرآن کی آیت سے ثابت نہیں ہے، سراسر جہالت یا محض ہٹ دھرمی ہے۔