پروفیسر نے اپنا اور اپنے ہم مذہب لوگوں کا نظریہ یہ بتایا ہے کہ ہاتھ کہنیوں کی طرف سے دھونا شروع کرے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ احتیاط واجب کی بناء پر چہرہ اور ہاتھوں کو اوپر سے نیچے کی طرف دھونا چاہیے۔ اگر نیچے سے اوپر دھویا جائے تو وضو باطل ہے۔ (صفحہ13)
اس کے برخلاف اہلِ سنت کا نظریہ یہ ہے کہ ہاتھ دھوتے وقت انگلیوں سے شروع کیا جائے۔ امام رازی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَاَيۡدِيَكُمۡ اِلَى الۡمَرَافِقِ ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو۔ تو اللہ تعالیٰ نے دھونے کی انتہا کہنیوں کو قرار دیا ہے۔ اگر کسی نے اس کا الٹ کیا تو جمہور فقہاء فرماتے ہیں: اس کا وضو تو صحیح ہو گا، اِلَّا أَن يَّكُونَ تَارِکًا لِّلسُّنَّۃِ
(تفسیر کبیر: جلد11 صفحہ160)
مگر وہ سنت چھوڑنے والا ہو گا۔ باقی رہی یہ بات کہ حدیث میں آتا ہے کہ انگلیوں کی جانب سے گناہ جھڑتے ہیں، تو اس کو اہلِ سنت کے عمل سے خلاف پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کہ اہلِ سنت وضو کرتے وقت انگلیوں کی جانب سے شروع کرتے ہیں اور پھر ہاتھ الٹا کر کہنیوں کی جانب سے بھی دھوتے ہیں تاکہ کوئی جگہ خشک نہ رہ جائے۔ اور پھر اہلِ سنت وضو کے بعد ہاتھ نیچے کی جانب ہی کر کے اٹھتے ہیں، تو اس حدیث پر ان کا مکمل عمل ہے۔ جبکہ شیعہ حضرات کا عمل اس حدیث کے خلاف ہے۔ اس لیے کہ حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں: جب آدمی پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کی انگلیوں کی جانب سے گناہ جھڑ جاتے ہیں۔ اور اول تو شیعہ حضرات پاؤں دھونے کے قائل ہی نہیں، پھر مسح کرتے وقت پاؤں کی انگلیوں کی جانب سے شروع کرتے ہیں اور کعب تک مسح کرتے ہیں۔ تو انگلیوں کی جانب گناہ جھڑنے کی روایت شیعہ حضرات کے خلاف ہے۔