چھٹا مسئلہ وضوء کے اعضاء کو کتنی بار دھونا چاہیے - ردِ…

چھٹا مسئلہ وضوء کے اعضاء کو کتنی بار دھونا چاہیے

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

پروفیسر  شیعہ حضرات کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وضو میں چہرے اور بازوؤں کا پہلی دفعہ دھونا واجب، دوسری دفعہ دھونا مستحب، اور تیسری مرتبہ یا اس سے زیادہ بار دھونا حرام ہے۔  

(صفحہ، 13)

اس کے برخلاف اہلِ سنت کا نظریہ یہ ہے کہ وضومیں جن اعضاء کو دھویا جاتا ہے ان کو تین تین بار دھونا سنت اور افضل ہے۔ اس لیے حضور اکرمﷺ نے ایک ایک دفعہ اعضاء کو دھو کر، اور دو دو دفعہ اعضاء دھو کر، اور تین تین بار اعضاء کو دھو کر وضوکیا، اور تین تین بار دھونے کو اپنا اور اپنے سے پہلے انبیاء کرام علیہم السلام کا وضوء قرار دیا۔ جس کے بعض حوالے گزر چکے ہیں۔

اور نبی کریمﷺ کا ایک ایک مرتبہ وضو کرنا، دو دو مرتبہ وضوکرنا، اور تین تین مرتبہ وضوکرنے کی احادیث بے شمار ہیں۔ ملاحظہ ہو:  

(بخاری: جلد 1 صفحہ27 ترمذی: جلد1 صفحہ7 اور ابو داؤد: جلد1 صفحہ 18)

اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور علیہ السلام جیسا جو وضو کر کے دکھایا اس میں بھی اعضاء کو تین تین مرتبہ دھونے کا ذکر ہے۔ ملاحظہ ہو:  

(مسند احمد: جلد 1 صفحہ127، 135، 158 وغیرہ)

اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جو حضور علیہ السلام جیسا وضو کر کے دکھایا اس میں بھی تین تین دفعہ کا ذکر ہے۔ ملاحظہ ہو:  

(بخاری: جلد 1 صفحہ27، 28 مسند احمد: جلد 1 صفحہ61، 68 تفسیر ابن کثیر: جلد2 صفحہ24 وغیرہ)