پروفیسر غلام صابر نے شیعہ حضرات کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھا کہ کانوں کا مسح ثابت نہیں ہے۔ اس کے برخلاف اہلِ سنت کا نظریہ یہ ہے کہ کانوں کا مسح سنت ہے۔ اس میں الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأسِ والی روایت کے بعض حوالے پہلے بیان کیے جا چکے ہیں۔ اور الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأسِ والی روایت حضرت عائشہ صدیقہؓ سے کنز العمال: جلد، 9 صفحہ، 184 میں، اور حضرت ابو امامہ، حضرت ابو ہریرہ، حضرت عبداللہ بن زید، حضرت انس، حضرت ابو موسیٰ اور حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہم سے کنز العمال: جلد9 صفحہ194 میں بھی ہے۔ حضرت عثمانؓ نے جو حضور علیہ السلام جیسا وضو کر کے دکھایا تھا اس میں ہے:
وَمَرَّ بِيَدَيهِ عَلَى ظَاهِرِ أُذُنَيهِ
(کنز العمال: جلد 2 صفحہ 251)
ترجمہ: اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے کانوں کے ظاہر پر پھیرا۔
اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے حضور اکرمﷺ جیسا وضو جو کر کے دکھایا اس میں ہے:
ثُمَّ مَسَحَ رَأسَهُ وَأُذُنَيهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا
(کنز العمال: جلد9 صفحہ253)
اور حضرت ربیع بنتِ معوذؓ نے جو حضورﷺ کا وضو بتایا اس میں ہے:
وَمَسَحَ أُذُنَيهِ مَعَ مُؤَخَّرِ رَأسِهِ
(کنز العمال: جلد 9 صفحہ256)
ترجمہ: اور سر کے پچھلے حصے کے ساتھ اپنے دونوں کانوں کا مسح کیا۔
اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے جو حضورﷺ جیسا وضو کر کے دکھایا اس میں ہے:
ثُمَّ مَسَحَ بِهَا رَأسَهُ وَأُذُنَيهِ
(ابو داؤد: جلد 1 صفحہ 18)
ترجمہ: پھر اس سے اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا۔
اور حضرت ابنِ عباسؓ کی کانوں کے مسح سے متعلق روایت ترمذی: جلد 1 صفحہ 7 میں بھی ہے۔