نواں مسئلہ گردن کا مسح - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

نواں مسئلہ گردن کا مسح

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

پروفیسر غلام صابر  نے لکھا کہ گردن کا مسح ثابت نہیں ہے۔ اس کے برعکس جمہور اہلِ سنت کا نظریہ یہ ہے کہ حضورﷺ کا سر کے مسح میں ہاتھوں کو گدی تک لے جانا ثابت ہے، اور اس سے گردن کا کچھ مسح بھی ثابت ہو جاتا ہے۔  

اس لیے گردن کا مسح کم از کم مستحب ہے۔ گردن کے مسح سے متعلق جو بعض احادیث وارد ہیں تو حضرات محدثین کرام نے ان کی فنی حیثیت کو واضح کیا ہے کہ گدی تک لے جانے والی روایات کے علاوہ دیگر روایات اگرچہ انفرادی طور پر درجہ صحت کو نہیں پہنچتیں بلکہ ان میں کمزوری ہے، مگر مجموعی طور پر ان سے کم از کم اس طور پر استحباب ضرور ثابت ہو جاتا ہے۔ اسی لیے جمہور اہلِ سنت گردن کے مسح کے سنت یا مستحب ہونے کے قائل ہیں۔