یہ کہ بے شک اَرۡجُلِكُمۡ کی لام کے کسرہ سے قرأت ہے اور یہ بِرُءُوۡسِكُمۡ کی با کے تحت داخل ہو کر وَامۡسَحُوۡا کے ساتھ متعلق ہے اور پاؤں کا مسح ہے۔ مگر پاؤں کے مسح سے غسلِ خفیف مراد ہے۔ یعنی زیادہ شدت سے نہیں بلکہ ہلکے پھلکے انداز سے اس طرح دھونا کہ کوئی جگہ خشک باقی نہ رہے۔ اور یہ ہو سکتا ہے کہ فعل ایک ہی ہو مگر دو فاعل یا دو متعلق یا دو مفعول کی حیثیت الگ الگ ہونے کی وجہ سے اس فعل کی نوعیت مختلف ہو جائے۔ جیسا کہ
اِنَّ اللّٰهَ وَمَلٰٓئِكَتَهٗ يُصَلُّوۡنَ عَلَى النَّبِىِّ میں صلوة فعل ہے اور اللہ تعالیٰ اور فرشتے اس کے فاعل ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ کی صلوۃ کی اور نوعیت ہے اور فرشتوں کی صلوۃ کی نوعیت اور ہے۔ اسی طرح قرآنِ کریم میں:
زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالۡبَـنِيۡنَ وَالۡقَنَاطِيۡرِ الۡمُقَنۡطَرَةِ
(سورۃ آل عمران: آیت 14)
ترجمہ: لوگوں کے لیے عورتوں، بیٹوں اور خزانوں کی محبت مزین کی گئی ہے۔ اس میں مزین کیا جانا فعل ہے اور خواہشات کی محبت اس کا نائبِ فاعل ہے۔ مگر عورتوں سے خواہشات کی محبت اور نوعیت کی ہے، بیٹوں سے اور نوعیت کی ہے، اور خزانوں سے اور نوعیت کی ہے۔ اسی طرح قرآنِ کریم میں:
وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ
(سورۃ الانفال: آیت 1)
ترجمہ: اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اس میں اطاعت فعل ہے، واؤ ضمیرِ بارز اس کا فاعل ہے، اور اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗۤ اس کے مفعول ہیں۔ مگر اللہ کی اطاعت اور نوعیت کی ہے اور رسول کی اطاعت اور نوعیت کی ہے۔ بعینہٖ اسی طرح وَامۡسَحُوۡا بِرُءُوۡسِكُمۡ وَاَرۡجُلِكُمۡ میں بے شک سر اور پاؤں کے مسح کا حکم ہے، مگر سر کے مسح کی نوعیت اور ہے اور پاؤں کے مسح کی نوعیت اور ہے۔ جن حضرات نے پاؤں کے مسح کا قول کیا ہے انہوں نے بھی پاؤں کے مسح کو سر کے مسح کی طرح نہیں سمجھا۔ جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے کہ انہوں نے اَرۡجُلِكُمۡ کو لام کے کسرہ سے پڑھا، جبکہ ان کا عمل یہ تھا:
إِذَا مَسَحَ قَدَمَيهِ بَلَّهُمَا
(تفسیر الطبری: جلد6 صفحہ128 تفسیر ابنِ کثیر: جلد 2 صفحہ 25)
ترجمہ: کہ جب وہ اپنے پاؤں کا مسح کرتے تو ان کو تر کرتے۔ اور اسی کو غسلِ خفیف کہا جاتا ہے۔ اس لیے اَرۡجُلِكُمۡ کے لام کے کسرہ کی صورت میں بھی اہلِ سنت کا نظریہ بالکل واضح ہے۔