اس آیت میں ایک ہی منکوحہ یا لونڈی کا ذکر کر کے جو سکوت اللہ تعالیٰ نے اختیار کیا ہے اس سے لازماً یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ زنِ ممتوعہ درست نہیں ہے علاوہ ازیں اس آیت میں ذکر ان عورتوں کا ہے جن پر انتظامِ خانہ داری کا موقوف ہے اور وہ یا زوجہ ہوتی ہے یا لونڈی اور زنِ ممتوعہ نہیں ہوتی بلکہ اس سے فقط رفعِ حاجت منظور ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر یہاں نہیں کیا۔
(تنبیہ المنکرین)
جواب: یہ غلط ہے کہ خداوندِ کریم نے اسی جگہ ہی سکوت اختیار کیا ہے بلکہ قرآنِ مجید میں جہاں جہاں نکاح کے احکامات درج ہیں وہاں زوجہ اور لونڈیوں کے علاوہ کسی تیسری صنف کا ذکر ہی نہیں ہے جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے چونکہ زنِ ممتوعہ سے کفِ دشتِ زن کا کام لیا جاتا ہے اس لیے نہ صرف اس جگہ ہی بلکہ کسی اور جگہ بھی اس بد نصیب آلہ اخراجِ منی کا ذکر خداوندِ عزوجل نے نہیں کیا جب قرآنِ مجید کی آیات ایک دوسری کی مفسر ہیں تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ ایک طرف تو اللہ پاک نے متعہ کے حکم کو صرف ایک ہی جگہ اور وہ بھی نہایت ہی دبی زبان سے ادا کیا ہے اور دوسری طرف دیگر مقامات پر ایسی آیات بیان فرما دی ہیں جن سے صراحتاً و کنایۃً اس حکم کی بلا واسطہ یا با لواسطہ تردید و تکذیب ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے وہ احکامات بھی جو محض اضطراری حالات میں جواز کا حکم رکھتے ہیں مثلاً:
فَمَنِ اضۡطُرَّ فِىۡ مَخۡمَصَةٍ غَيۡرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثۡمٍ الخ۔
(سورۃ المائدہ: آیت 3)
اور جن سے لاکھ میں سے ایک آدھ مسلمان کو صدِ سالہ زندگی میں ایک بار نہیں تو دو بار بالکراہت مستفید ہونے کا موقع ملتا ہے متعدد آیات کے ذریعہ سے اظہر من الشمس کر دئیے ہیں تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ذاتِ علیم ایک ایسے اہم قانون کا جس کا اطلاق بقولِ شیعہ کم و بیش ہر مسلمان متنفس پر معمولی حالت میں ہو سکتا ہے صرف ایک اور ایک ہی محدود جگہ پر اور پھر نہایت ہی حجابانہ طور پر ذکر کرے۔
علاوہ ازیں چونکہ صاحبِ تنبیہ المنکرین خود تسلیم کرتا ہے کہ عقدِ متعہ فقط قضاءِ شہوت کی نیت سے کیا جاتا ہے اور زنِ ممتوعہ سے فقط رفعِ حاجت منظور ہوتی ہے تو مدعی کے اپنے اقبال کے مطابق یہ عقد ایسا نہیں کہ جس پر غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
کا اطلاق ہو سکے لہٰذا یہ عقدِ متعہ عقدِ قرآنی کے اُن جملہ احکامات کے احاطہ سے خارج ہے کہ جن پر باری تعالیٰ نے احصان اور عدمِ اسفاح کی قید لازماً مقرر فرمائی ہوئی ہے وگرنہ تجویزِ متعہ ایک ایسا حکم قرآن سے نکال کر دیکھا دیں جو ان قیود سے خالی ہو۔
لفظ اسفاح کے لغوی و اصطلاحی معانی پر اگر غور کیا جائے تو اس کا مطلب سوائے قضاءِ شہوت کے اور کچھ ہوتا ہی نہیں اور چونکہ بقولِ صاحبِ تنبیہ المنکرین عقدِ متعہ سے کبھی متعہ اور قضاءِ شہوت ہی ہے اس لیے عقدِ متعہ قرآنی عقد نہیں قرار دیا جا سکتا بلکہ یہ خالص زنا ہے۔
دلیلِ چہارم:
خداوندِ کریم اپنے فرقانِ حمید میں فرماتا ہے:
وَلۡيَسۡتَعۡفِفِ الَّذِيۡنَ لَا يَجِدُوۡنَ نِكَاحًا حَتّٰى يُغۡنِيَهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ الخ۔
(سورۃ النور: آیت 33)
ترجمہ: اور جو لوگ نکاح کرنے کا مقدور نہیں رکھتے ان کو چاہیے کہ ضبط کریں یہاں تک کہ اللہ ان کو اپنے فضل سے غنی کر دے۔
اگر متعہ جائز ہوتا تو سب سے بہتر موقعہ اس کے جواز کا اس مقام پر تھا مگر جنابِ باری نے ایسے لوگوں کو جن کو ضرورتِ نفس تو ہے مگر نکاح کا مقدور نہیں صرف صبر کرنے کی تلقین کی ہے متعہ جائز ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کنایۃً فرماتا کہ غریب لوگ اپنی خواہشاتِ بشریٰ کو روک رکھیں یہاں تک کہ اللہ ان کو اس قدر فارغ البال کر دے کہ وہ بھی دوسروں کی طرح حظوظِ نفس سے بہرہ اندوز ہو سکیں یہ بے معنیٰ ہو جاتا ہے خصوصاً جب ایک مٹھی بھر جو یا ایک لقمہ طعام ایسی قلیل القیمت چیز سے زنِ ممتوعہ کے ساتھ عیش اڑائے جا سکتے ہیں تو ان لوگوں کو جو نکاح کے اخراجات کے متحمل ہونے کی استعداد نہیں رکھتے خواہ مخواہ اس سہل الحصول اور کثیر الثواب چیز کے استفادہ سے کیوں محروم کیا گیا ہے؟
دلیلِ پنجم:
ایک اور جگہ پر خدائے عزوجل فرماتا ہے:
وَمَنۡ لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ مِنۡكُمۡ طَوۡلًا اَنۡ يَّنۡكِحَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ فَمِنۡ مَّا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ مِّنۡ فَتَيٰـتِكُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِاِيۡمَانِكُمۡ بَعۡضُكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ فَانْكِحُوۡهُنَّ بِاِذۡنِ اَهۡلِهِنَّ وَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ مُحۡصَنٰتٍ غَيۡرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخۡدَانٍ فَاِذَاۤ اُحۡصِنَّ فَاِنۡ اَتَيۡنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيۡهِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَى الۡمُحۡصَنٰتِ مِنَ الۡعَذَابِ ذٰلِكَ لِمَنۡ خَشِىَ الۡعَنَتَ مِنۡكُمۡ وَاَنۡ تَصۡبِرُوۡا خَيۡرٌ لَّكُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 25)
ترجمہ: تم میں سے جس کو مسلمان آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی توفیق نہیں ہے وہ مسلمان لونڈیوں سے نکاح کر لیں مگر ان کے مالکوں کی اجازت سے بشرط یہ کہ قیدِ نکاح میں لائی جائیں نہ کہ تم سے بازاری عورتوں یا خانگیوں والا تعلق رکھنا چاہیں یہ نکاح ہمراہ لونڈی کے اسی کے لیے ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا خوف ہو اور اگر صبر کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے۔
دلیلِ چہارم میں جو آیت نقل کی گئی ہے اس میں تو یہی حکم تھا کہ اگر کسی مسلمان مرد کو آزاد مسلمان عورت کے ساتھ نکاح کرنے کی توفیق نہ ہو تو وہ اس وقت تک صبر کرے جب تک اللہ تعالیٰ اسے نکاح کرنے کی استطاعت عطا نہ کر دے مگر اس آیت میں قدرے رعایت کا پہلو مدِ نظر رکھا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر وہ مسلمان آزاد عورت سے نکاح نہ کرے تو مسلمان لونڈی سے ہی نکاح کر لے لیکن وہ بھی صرف اس حالت میں جب کہ وہ یہ سمجھے کہ اس کا کاسہ صبر لبریز ہو چکا ہے اور اس سے زیادہ اگر وہ صبر سے کام لے گا تو یقیناً اس سے ارتکابِ گناہ صادر ہو گا۔
اگر متعہ بھی ایک جائز فعل ہوتا تو اس قدر صبر و ضبط کی تلقین کیا معنیٰ رکھتی ہے؟ خصوصاً جب کہ عقدِ متعہ نکاحِ کنیز سے کہیں زیادہ آسان ہے کیونکہ نکاحِ کنیز میں اگرچہ مہر کی کچھ تخفیف ہے مگر بارِ نفقہ سے سبکدوشی نہیں ہو سکتی اور متعہ میں تو مٹھی دو مٹھی جو اور گیہوں پر مہینوں پر مہینوں کے لیے قصہ پاک ہو جاتا ہے اگر ایسے اضطرار کی حالت میں بھی کہ جس کا نقشہ:
ذٰلِكَ لِمَنۡ خَشِىَ الۡعَنَتَ مِنۡكُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 25)
میں کھینچا گیا ہے پروردگارِ عالم نے متعہ کا حکم نہیں دیا بلکہ لونڈی کے ساتھ نکاح کو جائز قرار دینے کے بعد بھی:
وَاَنۡ تَصۡبِرُوۡا خَيۡرٌ لَّكُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 25)
کا حکم صادر فرما دیا ہے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ شرعی زنا آخر خدائے پاک نے کس وقت اور کس شخص کے لیے مخصوص کر رکھا ہے رسولِ اکرمﷺ کو اس سے بہرہ اندوز ہونے کی اجازت نہیں فرمائی غربا کو عین اس وقت بھی جب کہ انہیں زنا جیسے قبیح گناہ کر بیٹھنے کا خوف لاحق ہو اس سے ہم خرما وہم ثواب کا لذت آشنا نہیں ہونے دیا تو پھر کیا عیاش امیروں، رئیسوں، اور نوابوں کی جدت پسند شہوت رانی کے نہ سیر ہونے والے چسکے کی استطاعت کے لیے یہ خوانِ بوقلمونی مہیا کیا ہے؟