اعتراض نمبر 5 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اعتراض نمبر 5

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

اس آیتِ کریمہ کے حکم میں نکاح اور متعہ دونوں شامل ہیں اس لیے کہ لفظ استمتاع میں دونوں مطلب شامل ہیں، خواہ استمتاع بصورتِ تابیہ ہو یا بہ نہجِ توقیت پس جب کہ دونوں قسمیں اس حکم میں شامل ہیں تو متعہ ثابت ہے۔

جواب:شیعہ صاحبان ایک طرف تو اس آیتِ کریمہ کو نکاح اور متعہ دونوں پر شامل تصور کرتے ہیں، اور دوسری طرف اس کا نزول خاص متعہ میں تسلیم کرتے ہیں اور اس کو ثبوتِ متعہ میں نص ٹھہرانے کے لیے قراءتِ شاذہ و روایاتِ مجہولہ سے اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 282)

بڑھاتے ہیں۔

پس دو ہی صورتیں ہیں:  

یا تو بقولِ اہلِ سنت، جو قرآنِ مجید کو کامل و مکمل مانتے ہیں، یہ آیت مثبتِ متعہ نہیں، یا بقولِ قائلانِ تحریف فی القرآن خاص دریاب متعہ ہے۔

فَالْجَمْعُ بَیْنَ الْقَوْلَیْنِ کَالرُّکُوْبِ عَلَی السَّفِیْنَتَیْنِ  

ان دونوں اقوال کو جمع کرنا دو کشتیوں پر سوار ہونے کے برابر ہے جو لغو محض ہے۔