روزہ افطار کرنے کا وقت اور سُنی شیعہ اختلاف - دفاعِ اہلِ…

روزہ افطار کرنے کا وقت اور سُنی شیعہ اختلاف

  محمد ذوالقرنین

صفحہ 1 از 2

روزہ افطار کرنے کا وقت اور سُنی شیعہ اختلاف

السلام علیٰ من اتبع الھدیٰ:

شیعہ کی طرف سے اکثر اہلِ سنت پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اہلِ سنت جس وقت پر روزہ افطار کرتے ہیں اُس وقت پر افطار کرنا جائز نہیں اور اس طرح روزہ نہیں ہوتا اور شیعہ خود سورج غروب ہونے کے تقریباً 20 منٹ بعد مغرب کی نماز کے بعد روزہ افطار کرتے ہیں۔

سُنی شیعہ کا یہ اختلاف اور اس پر بحثیں کرنا ہی محض وقت کا ضیاع ہے کیونکہ ہم اہلِ سنت کے نزدیک سورج کے غروب ہونے کا یقین ہوتے ہی فوراً افطاری کرنا افضل اور سُنت عمل ہے اور تھوڑی دیر بعد افطار کرنا جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں اور اس سے روزے پر بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اور شیعہ کتب میں بھی اس بات کی صراحت موجود ہے کہ سورج غروب ہوتے ہی افطار کرنا جائز ہے۔

لیکن اس مسئلہ میں بھی ہمیشہ شیعہ کا رویہ باقی تمام مسائل کی طرح غلط ہی رہا ہے۔

ذیل میں پہلے اہلِ سنت کی کتب سے اس بات پر دلائل مُلاحظہ فرمائیں کہ سورج غروب ہوتے ہی افطاری کرنا سُنت اور افضل ہے۔

امام بخاریؒ نقل فرماتے ہیں: نبیﷺ ایک بار سفر پر تھے اور آپﷺ نے روزہ رکھا ہوا تھا جب سورج غروب ہوا تو آپﷺ نے کسی سے کہا اتر کر ہمارے لیے ستو تیار کرو تو انہوں نے عرض کی یا رسول اللہﷺ کچھ دیر رُک جاتے ہیں تو نبیﷺ نے پھر فرمایا ہمارے لیے ستو تیار کرو (یہ تین بار ہوا) پھر ستو تیار کیا گیا تو نبیﷺ نے فرمایا جب تم رات کو دیکھو کہ وہ اِدھر (مشرق کی طرف) سے آ گئی ہے تو روزے دار اپنا روزہ افطار کر دے۔

(صحیح بخاری جلد 1 حدیث 1956)۔

بخاری کی ایک اور روایت کچھ یوں ہے کہ!

نبیﷺ سفر پر تھے اور روزہ رکھا ہوا تھا (سورج غروب ہوا) تو آپﷺ نے کسی سے کہا اتر کر ہمارے لیے ستو بنا دو تو انہوں نے عرض کی یارسول اللہﷺ ابھی تو آفتاب کی روشنی باقی ہے تو نبیﷺ نے فرمایا ہمارے لیے ستو تیار کر دو (تین بار یوں ہوا) پھر ستو تیار کیا گیا تو نبیﷺ نے نوش فرمایا (افطاری کی) پھر اپنے ہاتھ سے مشرق کی جانب اشارہ کر کے فرمایا جب ادھر سے رات کا اندھیرا شروع ہو جائے تو روزہ دار کو روزہ افطار کرنا چاہیے۔ (صحیح بخاری جلد 1 حدیث 1941)۔

ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جب سورج غروب ہو جائے تب مشرق کی طرف اندھیرا ہونا شروع ہو جاتا ہے تب چاہے آسمان پر روشنی باقی بھی ہو تب بھی افطاری کر لینی چاہیے اور یہی افضل اور سُنت عمل ہے۔

ایک مقام پر نبیﷺ نے افطاری جلدی کرنے کے بارے میں فرمایا لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک وہ افطار کرنے میں جلدی کریں گے۔ (صحیح مسلم جلد 2 حدیث 2554)۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبیﷺ نے سورج غروب ہوتے ہی افطاری کرنے کی تلقین فرمائی اور اُسی میں بہتری ہے ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ سورج غروب ہوتے ہی فوراً افطاری کر لینی چاہیے اور یہی افضل و سُنت ہے۔

شیعہ کی پیش کردہ ایک روایت کا تحقیقی جائزہ:

شیعہ اکثر اہلِ سنت کی کتاب سے ایک روایت پیش کرتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ رمضان میں مغرب کی نماز پہلے پڑھتے تھے اور افطاری بعد میں کیا کرتے تھے۔

روایت کچھ یوں ہے!

”امام زہریؒ حمید بن عبدالرحمنٰ بن عوف سے "عن" سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ رمضان میں مغرب کی نماز پڑھ کر افطاری کیا کرتے تھے۔

(موطا امام محمد جلد 1 صحفہ 468)۔

اس روایت سے شیعہ اکثر استدلال کرتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ رمضان میں مغرب کی نماز پڑھ کر افطاری کیا کرتے تھے۔

جبکہ ہماری نظر میں یہ روایت ہی صحیح نہیں۔

کیونکہ اس کی سند میں امام زہری مدلس ہیں اور "عن" سے روایت کر رہے ہیں۔

امام ابنِ حجرؒ نے زہری کو تیسرے طبقہ کے مدلسین میں شامل کیا اور اس طبقہ کے مدلسین کے بارے میں فرمایا! یہ وہ ہیں جن کی (معنن) احادیث سے ائمہ نے احتجاج نہیں کیا اور جب تک یہ سماع کی تصریح نہ کریں ان کی احادیث مطلقاً رد ہوتی ہیں۔

(تعریف اہل التقدیس صحفہ 45)۔

اور اس روایت کے مرکزی راوی "حمید بن عبدالرحمنٰ بن عوف" نے سیدنا عمرؓ سے سماع نہیں کیا اور یہ ان کے زمانہ خلافت کے آخر میں پیدا ہوئے۔

امام ذھبیؒ ان کے ترجمہ میں فرماتے ہیں!

ان کی مُلاقات سیدنا عمرؓ سے نہیں ہوئی بلکہ یہ اُن کے دور میں پیدا ہوئے۔

(سیر اعلامُ النبلاء جلد 4 صحفہ 293)۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حمید بن عبدالرحمٰن نے سیدنا عمرؓ کا یہ عمل نہیں دیکھا اور اس روایت میں زہری مدلس ہیں اور تدلیس کر رہے ہیں۔

اس روایت کے برعکس ایک روایت سیدنا عمرؓ سے مروی ہے جو کچھ یوں ہے کہ! سیدنا عمرؓ نے مختلف علاقوں کے گورنروں کو خط میں لکھا کہ تم لوگ افطاری کرنے میں تاخیر کرنے والے نہ ہو جانا۔

(مصنف عبدالرزاق جلد 3 حدیث 7590)۔

اس روایت سے تو ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں گورنروں کو تلقین کی کہ کبھی افطاری میں دیر مت کرنا تو بھلا پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ خود افطاری دیر سے کرتے ہوں؟ اس سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ پچھلی روایت جس میں مغرب کے بعد افطاری کا ذکر ہے وہ ضعیف ہے۔

اور ہمارے نزدیک افطاری میں کچھ تاخیر کرنا بھی جائز ہے اور اس پر بعض اصحاب کا عمل بھی تھا۔

جیسا کہ امام مسلمؒ نقل فرماتے ہیں!

سیدہ عائشہؓ سے کہا گیا کہ نبیﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں دو آدمی ہیں ان میں سے ایک جلدی افطاری کرتا ہے اور جلدی نماز پڑھتا ہے اور دوسرا کچھ تاخیر سے افطاری کرتا ہے اور تاخیر سے نماز پڑھتا ہے تو سیدہ عائشہؓ نے پوچھا اُن دونوں میں سے کون جلدی روزہ کھولتا ہے اور جلدی نماز پڑھتا ہے؟ تو جواب دیا سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ تو سیدہ عائشہؓ نے فرمایا رسولﷺ اِسی طرح کیا کرتے تھے (دوسرے صحابی سیدنا ابو موسیٰؓ تھے)۔

(صحیح مسلم جلد 2 حدیث 2556)۔

اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی تھوڑی تاخیر سے روزہ افطار کر لیا کرتے تھے اور ساتھ ہی یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ سیدہ عائشہؓ نے جلدی افطاری کرنے پر یہ فرمایا کہ نبیﷺ بھی ایسے ہی کرتے تھے۔

شیعہ کُتب سے غروبِ آفتاب کے وقت افطاری کا وقت شروع ہونے کا ثبوت

صفحہ 1 از 2