مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی…

مناظرہ سوم بر موضوع خلافت بلا فصل حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ از نص قرآن و حدیث متواتر اہل سنت

  مولانا عبدالستار تونسوی

صفحہ 1 از 2

مناظر شیعہ:

بعد از خطبہ حضرات! اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: 

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡكُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسۡتَخۡلِفَنَّهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ كَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِيۡنَهُمُ الَّذِى ارۡتَضٰى لَهُمۡ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌ يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡئًا‌ وَمَنۡ كَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ۞(سورۃ النور: آیت 55)

اللہ تعالیٰ اس آیت میں کامل مومنو اور صالحین کو خلافت فی الارض کا وعدہ فرما چکے ہیں۔

اور ہمارے نزدیک اور خود اہلِ سنت کے نزدیک بھی سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا عمرؓ کی خلافت دین کا جزو نہیں۔ ان کا ماننا ایمان میں داخل نہیں، تو وہ اس آیت کے مصداق نہ ہوئے۔

اس وقت بحث خلافتِ علیؓ سے ہے اور خلافت مضاف ہے اور علی مضاف الیہ ہے، مضاف اور مضاف الیہ ایک دوسرے کے غیر ہوتے ہیں۔

لہٰذا پہلے میں مطلق خلافت کی بحث کرتا ہوں پھر اس کے بعد خلافتِ بلا فصل سیدنا علی المرتضیٰؓ کی ثابت کروں گا۔

قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: 

اُمَّةٌ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَـقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ۞(سورۃ الاعراف: آیت 181)

ترجمہ: ان میں سے ایک جماعت ہے جو حق کے ساتھ ہدایت کرتے ہیں اور اسی حق کے ساتھ عدل کرتے ہیں۔

ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡكِتٰبَ الَّذِيۡنَ اصۡطَفَيۡنَا مِنۡ عِبَادِنَا الخ۔(سورۃ فاطر آیت 32)

ترجمہ: ہم نے کتاب کا وارث اپنے بندوں میں سے ان کو بنایا جن کو ہم نے چن لیا۔

چونکہ سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ کو شوریٰ نے چنا اور اللہ تعالیٰ نے نہیں بنایا، لہٰذا یہ کتاب کے وارث اور خلیفہ نہیں بن سکتے۔

آیتِ استخلاف سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ خلافت اللہ تعالیٰ دیتا ہے، شوریٰ سے نہیں ہوتی لہٰذا سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ جو شوریٰ سے خلیفہ چنے گئے، خلافت ان کا حق نہیں۔ اسی لیے تو اہلِ سنت کے نزدیک شیخینؓ کی خلافت ماننا دین میں ضروری نہیں۔ بس اگر شیعہ شیخینؓ کی خلافت کو نہ مانیں تو وہ مؤمن ہوں گے۔

آیتِ استخلاف میں ثابت ہے:

وَلَيُبَدِّلَنَّهُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِهِمۡ اَمۡنًا‌ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55) 

ترجمہ: کہ ہم خلیفوں کو خوف کے بعد امن اور بے فکری کی زندگی دیں گے۔ 

تو امام مہدی علیہ السلام کے زمانے میں امن ہو گا اور کوئی خوف و خطر نہ ہوگا۔

اور آگے: 

يَعۡبُدُوۡنَنِىۡ لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ شَيۡئًا‌ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55) 

کا مطلب یہ ہے کہ خلفاء ایسے ہوں گے جنہوں نے کبھی شرک و بت پرستی نہ کی ہو حالانکہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے سوا سب نے بت پرستی کی ہے۔

فلہٰذا وہ اس آیت کے مصداق نہیں بن سکتے۔ تو وہ صرف حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ہیں۔

اور مولوی! اب میں مولوی عبدالستار سے پوچھتا ہوں کہ اس آیتِ استخلاف کا کیا مطلب ہے؟ اور اس کے مصداق کون ہیں؟

مناظر اہل سنت:

بعد از خطبہ حضرات! مولوی اسماعیل صاحب نے حضرت علی المرتضیٰؓ کی خلافتِ بلا فصل کو نصِ قرآن مجید اور احادیثِ متواترہ اہلِ سنت سے ثابت کرنا تھا مگر اس نے کوئی ایک دلیل بھی اس مدعا کے ثابت کرنے کے لیے پیش نہیں کی اور نہ قیامت تک پیش کر سکتا ہے اور نہ شیعہ مجتہدین میں سے کوئی قیامت تک ثابت کر سکے گا۔

1: مولوی اسماعیل صاحب! آپ کو حضرت علیؓ کی خلافتِ بلا فصل ثابت کرنی ہے۔ آیتِ استخلاف پڑھ کر آپ کا یہ کہنا کہ سیدنا ابو بکرؓ اور سیدنا عمرؓ کی خلافت دین کا جزو نہیں یہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافتِ بلا فصل کی بحث ہے یا سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ کی خلافت بحث ہے؟ اگر آپ حضرت علیؓ کی خلافتِ بلا فصل ثابت کرنے سے عاجز ہیں تو پھر آئیے چوتھا موضوع شروع کیجیے، میں سیدنا ابو بکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کی خلافت کو ثابت کرتا ہوں۔

2: مولوی صاحب! آپ کہتے ہیں کہ پہلے مطلق خلافت ثابت کروں گا پھر سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل ثابت کروں گا آپ کی اور ہماری بحث مطلق خلافت میں نہیں ہے بلکہ آپ کا دعویٰ ہے کہ سیدنا علیؓ خلیفہ بلا فصل تھے۔ آپ اس خلافتِ بلا فصل کو ثابت کیجیے، میں آپ کو اِدہر اُدہر نہیں بھاگنے دوں گا۔

3: مولوی اسماعیل صاحب! آپ نے جو:

اُمَّةٌ يَّهۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَبِهٖ يَعۡدِلُوۡنَ ۞(سورۃ الاعراف: آیت 181)

اور: ثُمَّ اَوۡرَثۡنَا الۡكِتٰبَ الَّذِيۡنَ اصۡطَفَيۡنَا الخ(سورۃ فاطر: آیت 32) 

پڑھی ہے، یہ دونوں آیات سیدنا علیؓ کی خلافتِ بلا فصل کے ذکر سے بالکل ہی خالی ہیں آپ نے سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کی خلافت کی بحث کو کیوں چھیڑ دیا؟ جب اپنے دعوے کو کسی دلیل سے ثابت نہیں کر سکتے تو پھر اِدہر اُدہر بھاگنے کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔

4: چونکہ مولوی اسماعیل صاحب علمانہ باتوں سے کورے اور ناواقف ہیں اس لیے اس بیچارے کو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ آیت میں لَا يُشۡرِكُوۡنَ بِىۡ الخ۔(سورۃ النور: آیت 55)  

صیغہ مضارع منفی ہے، جس کے معنیٰ حال اور استقبال ہی ہوتے ہیں، ماضی کے نہیں ہوتے۔ جس کا مقصد ہے کہ ہم ان کو خلافت دیں گے جو ایمان لا چکے ہیں، جس میں یہ شرط نہیں کہ وہ کفر و شرک سے منزہ رہ کر ایمان لا چکے، بلکہ مطلق ایمان ہے اور وہ اب کبھی شرک نہیں کریں گے۔ یہاں آیت:  مَاۤ اَشۡرَكُوۡا ‌الخ۔(سورۃ الانعام: آیت 107)

یا لَمْ یُشْرِکُوْا نہیں ہے کہ زمانہ ماضی کی نفی پر دلالت کرے۔

مولوی صاحب! آپ خلافتِ بلا فصل کا ثبوت پیش کیجیئے ہاں اگر آپ خلافت بلا فصل کے ثبوت سے عاجز ہیں تو آئیے چوتھے موضوع پر بحث کیجیے میں حضرات خلفاءِ ثلاثہؓ کی خلافت کو ثابت کیے دیتا ہوں۔

5: مولوی اسماعیل صاحب! کہتے ہیں کہ خلافت شوریٰ سے نہیں ہوتی چونکہ سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ کو شوریٰ نے خلیفہ منتخب کیا لہٰذا وہ خلیفہ نہیں ہو سکتے۔  

مولوی اسماعیل صاحب! آپ تو اپنے مذہب سے بھی نا واقف ہیں دیکھیے سیدنا علیؓ تو فرماتے ہیں: نہج البلاغہ جلد سوم صفحہ 8:  

وَاِنَّمَا الشُّوْرٰی لِلْمُہَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ فَاِنِ اجْتَمَعُوْا عَلٰی رَجُلٍ وَسَمَّوْہُ اِمَامًا کَانَ ذٰلِکَ لِلّٰہِ رِضًی۔  

صفحہ 1 از 2