تحقیق من کنت مولاہ فعلی مولاہ اور افسانہ خلافت بلافصل
مولانا عبدالستار تونسویافسانہ خلافت بلافصل اور تحقیق
مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ
شیعہ عموماً اس روایت کے معنیٰ توڑ موڑ کر عوام الناس کو ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ حسب ذیل ہیں رسولﷺ نے غدیر خم کے موقع لوگوں کو فرمایا:
مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ. أَللّهُمَّ والِ مَنْ والاهُ، وَ عادِ مَنْ عاداهُ
ترجمہ: "میں جس کا محبوب اور دوست ہوں علی بھی اس کا محبوب اور دوست ہے یا اللہ تو اس شخص کو محبوب رکھ جو اس کو محبوب رکھے تو اس شخص کو دشمن رکھ جو اس کو دشمن رکھے"
پس منظر غدیر خم:
اس کا پس منظر یہ تھا کہ ’’حجۃ الوداع‘‘ سے پہلے رسول اللہﷺ نے حضرت علیؓ کو یمن کی طرف والی/ عامل بنا کر بھیجا تھا، وہاں کے محصولات وغیرہ وصول کر کے ان کی تقسیم اور بیت المال کے حصے کی ادائیگی کے فوراً بعد حضرت علیؓ حضورﷺ کے پاس حج کی ادائیگی کے لیے پہنچے۔ اس موقع پر محصولات کی تقسیم وغیرہ کے حوالے سے بعض حضرات نے حضرت علیؓ پر اعتراض کیا، اور یہ اعتراض براہِ راست نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دوہرایا، آپﷺ نے انہیں اسی موقع پر انفرادی طور پر سمجھایا اور حضرت علیؓ کی تصویب فرمائی، بلکہ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ علی کا اس سے بھی زیادہ حق تھا، نیز آپﷺ نے انہیں حضرت علیؓ سے محبت کا حکم دیا اور حضرت علیؓ کے بارے میں دل میں کدورت اور میل رکھنے سے منع فرمایا، چنانچہ ان حضرات کے دل حضرت علیؓ کی طرف سے بالکل صاف ہو گئے، وہ خود بیان فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کے اس ارشاد کے بعد ہمارے دلوں میں حضرت علیؓ محبوب ہو گئے۔ البتہ اسی حوالے سے کچھ باتیں سفرِ حج سے واپسی تک قافلے میں گردش کرتی رہیں، آپﷺ نے محسوس فرمایا کہ اس حوالے سے آپﷺ حضرت علیؓ کی قدر و منزلت اور ان کا حق ہونا بیان فرمائیں، چنانچہ سفرِ حج سے واپسی پر مقام غدیرِ خم میں نبی کریمﷺ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں بلیغ حکیمانہ اسلوب میں حضرت علیؓ کا حق واضح فرمایا، اور جن لوگوں کے دل میں حضرت علیؓ کے بارے میں کوئی شکوہ یا شبہ تھا اسے یوں ارشاد فرما کر دور فرما دیا:
اللَّهُمَّ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالِاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاه قَالَ: فَلَقِيَهُ عُمَرُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: هَنِيئًا لَكَ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ! أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مَوْلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ"
یعنی اے اللہ! جو مجھے دوست رکھے گا وہ علی کو بھی دوست رکھے گا میں جس کا محبوب ہوں گا علی بھی اس کا محبوب ہو گا، اے اللہ! جو علی سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ، اور جو علی سے دشمنی رکھے تو اس کا دشمن ہو جا۔
آپﷺ کے اس ارشاد کے بعد حضرت عمرؓ حضرت علیؓ سے ملے تو فرمایا: اے ابن ابی طالب! آپ کو مبارک ہو! آپ صبح و شام ہر مؤمن مرد اور ہر مؤمنہ عورت کے محبوب بن گئے۔ حضراتِ شیخین سمیت تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دل میں حضرت علیؓ رضی اللہ عنہ کی محبت پہلے سے تھی، جن چند لوگوں کے دل میں کچھ شبہات تھے آپﷺ کے اس ارشاد کے بعد ان کے دل بھی حضرت علیؓ کی محبت سے سرشار ہو گئے۔ اس خطبہ سے آنحضرتﷺ کا مقصود یہ بتلانا تھا کہ حضرت علیؓ اللہ کے محبوب اور مقرب بندے ہیں، ان سے اور میرے اہلِ بیتؓ سے تعلق رکھنا مقتضائے ایمان ہے، اور ان سے بغض وعداوت یا نفرت و کدورت ایمان کے منافی ہے۔
مذکورہ پس منظر سے یہ بات بخوبی واضح ہے کہ آنحضرتﷺ کا غدیرخُم میں "من کنت مولاه فعلي مولاه" ارشاد فرمانا حضرت علیؓ کی خلافت کے اعلان کے لیے نہیں، بلکہ حضرت علیؓ کی قدر و منزلت بیان کرنے اور معترضین کے شکوک دور کرنے کے لیے تھا نیز حضرت علیؓ کی محبت کا ایک فریضہ لازمہ کے طور پر امت کی ذمہ داری قرار دینے کے لیے تھا اور الحمدللہ! اہلِ سنت والجماعت اتباعِ سنت میں حضرت علیؓ کی محبت کو اپنے ایمان کا جز سمجھتے ہیں، اور بلاشبہ حضرت علیؓ سے اہلِ ایمان ہی محبت رکھتے ہیں۔
مذکورہ خطبے اور ارشاد کی حقیقت یہی تھی جو بیان ہو چکی۔ باقی ایک گمراہ (شیعہ) فرقہ اس سے حضرت علیؓ کے لیے خلافت بلافصل ثابت کرتا ہے اور چونکہ یہ خطبہ ماہ ذوالحجہ میں ہی ارشاد فرمایا تھا اس لیے ماہ ذوالحجہ کی اٹھارہ تاریخ کو اسی خطبہ کی مناسبت سے عید مناتا ہے، اور اسے ’’عید غدیر‘‘ کا نام دیا جاتا ہے اس دن عید کی ابتداء کرنے والا ایک حاکم معزالدولۃ گزرا ہے، اس شخص نے 18 ذوالحجہ 351 ہجری کو بغداد میں عید منانے کا حکم دیا تھا اور اس کا نام "عید خُم غدیر" رکھا۔
اس سے پہلے ہم اس روایت کی تحقیق بیان کریں شیعہ کتابوں میں حضرت علیؓ کی خلافت کے متعلق حیرت انگیز تعجب خیز ایک کہانی پیش کرتے ہیں پڑھیں پھر اس روایت پر تحقیق ہو گی۔
شیعہ کتاب احتجاج طبرسی کتاب صفحہ 70 اور طبع قدیم صفحہ 33 پر مرقوم ہے:
"حضرت جبرائیل علیہ السلام نے حج کے روز عرفات میں آ کر اللہ تعالیٰ کا یہ حکم پہنچایا کہ علی کی خلافت کا اعلان کر دو تو رسولﷺ نے لوگوں کے ڈر سے اللہ کے حکم کو ٹال دیا وہاں سے واپس ہوئے جب مسجد خیف پہنچے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام دوسری بار نازل ہوئے اور پھر یہ حکم دیا کہ علی علیہ السلام کی خلافت کا اعلان کر دو پھر بھی ڈر کی وجہ سے رسولﷺ نے اعلان نہ کیا پھر وہاں سے چلتے چلتے "کراع غمیم" نامی مقام پر پہنچے جو کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے رسولﷺ نے فرمایا مجھے اپنی قوم سے ڈر ہے اللہ تعالیٰ سے میرے لئے حفاظت کی کوئی آیت لاؤ تب میں یہ حکم لوگوں میں پہنچاؤں گا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے واپس بارگاہِ الٰہی میں سارا ماجرہ عرض کیا اور رسولﷺ چلتے چلتے غدیر خم پر پہنچے تو چوتھی بار جب جبرائیل علیہ السلام آئے اس وقت جبکہ دن کی پانچ گھڑیاں گزر رہی تھی جبرائیل علیہ السلام رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور سخت زجر و توبیخ سے کہا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ علی کی خلافت کا اعلان کر دو میں تمہیں لوگوں سے محفوظ رکھوں گا اگر تم نے اب بھی علی کی خلافت کا اعلان نہ کیا تو تم نے رسالت کا فریضہ ادا نہ کیا تو پھر اس زجر و توبیخ کے بعد رسول اللہﷺ (نے صریح اور صاف اعلان خلافت بلافصل کے بجائے) من کنت مولا فہذا علی مولا کے الفاظ سے اعلان فرمایا جو کہ خلافت مطلقہ کا بھی معنیٰ نہیں دیا جا سکتا کہ خلافت بلا فصل پر دلالت کرے"
لفظ مولا کے معنیٰ کی وسعت کو دیکھ کر شیعہ مجتہد علامہ نوری طبرسی نے فیصلہ کن بات کہہ دی
"کیا تو نہیں دیکھتا کہ حضورﷺ نے غدیر کے دن اپنے بعد خلافت بلا فصل کی ہرگز وصیت نہیں فرمائی" فصل الخطاب 182
شیعوں نے حضرت علیؓ کی خلافت بلافصل کے لئے تو یہ کہانی گھڑ لی لیکن بیچاروں کو یہ نہیں خیال رہا کہ اس کہانی سے رسولﷺ کی رسالت پر کیسی زد پڑے گی حضورﷺ ساری کائنات کے بہادروں سے زیادہ بہادر تھے اور جو مکہ اور طائف احد و احزاب میں کسی سے خوفزدہ نہ ہوئے ان کے بارے میں یہ کہانی بہتان اور خلاف قرآن ہے
اۨلَّذِيۡنَ يُبَـلِّـغُوۡنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَيَخۡشَوۡنَهٗ وَلَا يَخۡشَوۡنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ
(سورۃ الأحزاب آیت 39)
ترجمہ: "اللہ کے رسولﷺ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تبلیغ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے"
اگر رسول اللہﷺ حضرت علیؓ کی خلافت بلافصل کا اعلان کر چکے ہوتے تو حضرت علیؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاتھ پر بیعت کیوں کرتے؟؟
جیسا کہ شیعہ کتاب احتجاج طبرسی صفحہ 56 پر لکھا ہے:
اور حضرت عثمان (رضی اللہ عنہ) اور ان کی شہادت کے بعد جب آپ لوگوں نے ان کو خلیفہ بننے کے لئے کہا تو علی نے فرمایا:
"مجھے چھوڑو کسی اور کو بنا لو اگر تم مجھ کو چھوڑ دو تو میں باقی مسلمانوں کی طرح رہوں گا اور جس کو تم امیر بناؤ گے میں تم سے زیادہ اس کی اطاعت و فرمانبرداری کروں گا اور میرا وزیر ہونا میرے خلیفہ ہونے سے تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے۔
(نہج البلاغہ: جلد 1 صفحہ 182)
غور کیجئے! حضرت علیؓ کی خلافت بلافصل منصوص من اللہ تھی تو وہ کس طرح کہتے کہ کسی اور کو خلیفہ بنا لو میں اس کی فرمانبرداری تم سے زیادہ کروں گا جو چیز توحید و رسالت کی طرح اصول دین میں سے ہے اس کے خلاف حضرت علیؓ جیسے کامل الایمان کیسے کر سکتے تھے؟
نیز سیدنا علیؓ نے مہاجریں وانصار کے اجتماع اور شوریٰ سے منتخب شدہ امام کو امام برحق اور رضائے الہٰی کے موافق بیان فرمایا۔
(نہج البلاغہ: جلد 3 صفحہ 8)
اگر بالفرض خلافت علیؓ منصوص من اللہ یعنی کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب شدہ ہے تو حضرت علیؓ اس کے خلاف یہ کیسے فرماتے کہ مہاجرین انصار کا منتخب شدہ امام اللہ کا پسندیدہ امام ہو گا بلکہ آپؓ تو یوں فرماتے نص خلافت کے بعد دوسرے کو امام بنانا کفر ہے۔
مذکورہ امور کے بعد اب اس روایت کے معنیٰ پر غور کرتے ہیں:
تحقیق لفظ مولیٰ: واضح رہے کہ"مولیٰ" فصیح عربی زبان کا لفظ ہے جس کا استعمال قرآن مجید، احادیث مبارکہ اور کلام عرب میں موجود ہے علماء عربیت نے اس کے پچاس سے زائد معانی بیان کیے ہیں، عام لغات میں بھی اس کے پندرہ سترہ معانی بآسانی دستیاب ہیں۔ اسی لفظ کے ساتھ "نا" ضمیر بطور مضاف الیہ استعمال کی جاتی ہے۔ جہاں تک اس کے سب سے پہلے استعمال کی بات ہے تو خود اللہ جل شانہ نے قرآن مجید میں رسولﷺ کی طرف نسبت کر کے جبریل امین اور نیک مسلمانوں کے لیے یہ لفظ استعمال فرمایا ہے۔
چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوۡلٰٮهُ وَجِبۡرِيۡلُ وَصَالِحُ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ
(سورۃ التحريم آیت 4)
ترجمہ: یعنی بے شک اللہ تعالیٰ اور جبریل اور نیک اہل ایمان آپﷺ کے مولیٰ ہیں۔
یہاں ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے بھی، فرشتے کے لیے بھی اور خواص اہلِ ایمان (یعنی نیکوکاروں) کے لیے بھی یہ لفظ استعمال فرمایا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ جبرئیل امین اور تمام نیکو کار اہلِ ایمان رسولﷺ کے مولیٰ ہیں، اور یہ لقب انہیں خود بارگاہ ایزدی سے عطا ہوا ہے۔ اس سے آگے چلیں تو خود رسولﷺ نے حضرت زیدؓ کو فرمایا:
"یا زید انت مولانا"
معلوم ہوا کہ حضرت زیدؓ رسولﷺ کے مولیٰ ہیں۔ نیز آپﷺ نے حضرت علیؓ کے متعلق فرمایا کہ: "من کنت مولاہ فعلی مولاہ"
جس طرح شیعہ لفظ مولا سے سیدنا علیؓ کی خلافت ثابت کرنا چاہتے ہیں اس طرح کیا حضرت زیدؓ بھی رسولﷺ کے خلیفہ بلا فصل تھے؟
شیعہ حضرات جو اپنے مولوی صاحبان کو فلاں مولانا، فلاں مولانا کہا کرتے ہیں تو کیا وہ بھی خلیفہ بلافصل ہوتے ہیں؟
ان مذکورہ بالا متعدد معانی میں سے اس روایت کے معنیٰ خود اس روایت کے آخری الفاظ "أَللّهُمَّ والِ مَنْ والاهُ، وَ عادِ مَنْ عاداهُ" متعین کرتے ہیں کیونکہ ان کے معنیٰ ہر شخص کے نزدیک یہی ہیں کہ:
"یا اللہ تو اس شخص کو دوست رکھ جو علی کو دوست رکھے اور دشمن رکھ اس شخص کو جو علی کو دشمن رکھے"
یہ الفاظ بالکل اسی طرح اور واضع ہیں کہ اس روایت میں مولیٰ کے معنیٰ دوست اور محب کے ہیں جس کی بنا پر روایت کے معنیٰ میں یہ ہے کہ جس کا میں دوست ہوں اس کا علی دوست ہے اس فرمان نبویﷺ میں اس شخص کو تنبیہ مقصود تھی جس کی حضرت علیؓ سے کچھ رنجش ہو گئی تھی اس رنجش کا رسول اللہﷺ کو اسی جنگل کے غدیر تالاب پر علم ہوا جس کا وہیں یہ فیصلہ فرمایا ورنہ اگر خلافت بلافصل کا اعلان مقصود ہوتا تو عرفات کے میدان میں جہاں تمام لوگ ہزاروں کی تعداد میں جمع تھے وہاں اعلان فرماتے عقلمند اور دیانتدار باشعور اور مصنف مزاج حضرات غور فرمائیں! اگر سیدنا علیؓ کی خلافت بلافصل کا مسئلہ اصول دین میں توحید رسالت کی طرح تھا جیسے شیعہ کہتے ہیں تو اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ اس کا اعلان و بیان نہ قرآن مجید میں نہ صریح حدیث متواتر میں نہ مکہ میں نہ مدینہ میں نہ بیت اللہ میں مسجد نبویؐ میں نہ عرفات و منیٰ و مزدلفہ میں جہاں تمام مسلمان ہزاروں کی تعداد میں جمع تھے بلکہ ایسا ضروری اور اہم اعلان غدیر خم جنگل کے تالاب پر وہ بھی گول مول الفاظ میں جن کے معنیٰ خلافت بلا فصل قطعاََ نہیں ہو سکتے بلکہ اس روایت میں کوئی ادنیٰ سا اشارہ بھی خلافت علیؓ بلافصل کا نہیں کیونکہ اس میں تو دوامی حکم ہے کسی خاص وقت کے متعلق حضور ﷺ کی زندگی یا آپﷺ کی رحلت کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی تک کا حکم نہیں بلکہ حضورﷺ کی امت پر قیامت تک یہ حکم ہے کہ جس شخص کے لئے رسول اللہﷺ مولا ہیں اس کے لئے حضرت علیؓ بھی مولا ہیں تو یہ تو دوامی حکم محبت و دوستی کا تو صحیح ہو سکتا ہے لیکن خلافت بلافصل کا صحیح نہیں ہو سکتا ہے البتہ اس میں شک نہیں کہ سیدنا علیؓ کو خلفاء ثلاثہؓ کے بعد چوتھے خلیفہ راشدؓ ہیں۔