اٹھارواں مسئلہ تیمم کی وجہ سے اہلِ سنت پر اعتراض - ردِ…

اٹھارواں مسئلہ تیمم کی وجہ سے اہلِ سنت پر اعتراض

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

پروفیسر  نے لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے: پاؤں کا وضو میں دھونا ضروری نہیں بلکہ ان کا مسح ہے۔ اس لیے کہ تیمم میں جن اعضاء کو دھویا جاتا ہے ان پر مسح، اور جن کو نہیں دھویا جاتا ان پر مسح نہیں۔ جب پاؤں پر تیمم میں مسح نہیں تو معلوم ہوا کہ وضو میں ان کا دھونا نہیں بلکہ ان کا مسح ہے۔ الخ

جواب:یہ اعتراض کوئی وقعت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ وضو کے قائم مقام جو تیمم کیا جاتا ہے وہی تیمم غسلِ جنابت کے قائم مقام بھی کیا جاتا ہے۔ تو کیا یہ کہا جائے کہ غسلِ جنابت میں صرف ہاتھ اور منہ کا دھونا ضروری ہے؟ اس لیے کہ تیمم میں صرف ان کا مسح ہے، باقی جسم کا دھونا ضروری نہیں اس لیے کہ تیمم میں ان کا مسح نہیں۔ اور ایسا نظریہ تو کسی کا نہیں۔  

اس لیے تیمم میں اعضاء کے ساقط کرنے کو وضو میں مسح کرنے کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔