Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت 12 ذوالحجہ یا 18 ذوالحجہ؟

  عبداللہ نوید

قارئین کرام! آج کی اس پوسٹ میں ہم سیدنا عثمانِ غنیؓ کی تاریخِ شہادت کے بارے میں حقائق و دلائل بیان کریں گے کہ ان کی تاریخِ شہادت 12 ذوالحجہ ہے یا 18 ذوالحجہ۔

کیونکہ موجودہ دور میں جہاں رافضی اصحابِ رسولﷺ کی عظمتِ مقام پر گندے اعتراضات اُٹھا رہے ہیں وہاں پر ہی ان رافضیوں کے سہولت کار جھالوی جہلمی اور تفضیلی بھی رافضیوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے اور رافضیوں کی نمک حلالی کرتے ہوئے اصحابِ رسولﷺ کے ایامِ شہادت اور ان کے کردار کو داغ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ 

سیدنا عثمانِ غنیؓ کی یومِ شہادت کے روز رافضی کیونکہ تقیہ کرتے ہوئے سیدنا سیدنا علیؓ کی اعلانِ خلافت کے نام پر عید غدیر مناتے ہیں اس لیے ان کے سہولت کاروں نے ان کے اس تقیہ باز ایجنڈے کو بچانے کے لیے سیدنا عثمانِ غنیؓ کے یومِ شہادت کو ہی تبدیل کرنے کی ناپاک سازش شروع کر دی۔

کتب تاریخ و حقائق میں بہت تاریخیں شہادتِ عثمانِ غنیؓ کی طرف منسوب ہیں مگر درست اور جمہور راجح قول کیا ہے وہ ہم آج آپ کے سامنے پیش کرنے جا رہے ہیں۔

تاریخ و حقائق کی روشنی میں ہمارا دعویٰ ہے کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کی شہادت 35 ہجری 18 ذوالحجہ بروز جمعہ کو ہوئی۔

ہم رافضی سہولت کاروں کے سامنے دعوے سے کہتے ہیں کہ صحیح ترین کتابی و عقلی دلائل سے ان کی تاریخِ شہادت 18 ذوالحجہ ہی ثابت ہے۔

سب سے پہلے تو ہم تاریخی حوالے کچھ ایسی چیزیں بیان کر دیتا ہیں جن پر سب لوگوں کا اتفاق ہے۔

1: سیدنا عثمانِ غنیؓ 35 ہجری کو شہید ہوئے۔

2: سیدنا عثمانِ غنیؓ جمعہ کے دن شہید ہوئے۔

3: آپؓ شہادت کے وقت روزے سے تھے۔

4: لوگوں نے سیدنا علیؓ کی بیعت کرنا 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ کو شروع کر دیا۔

5: سیدنا علیؓ کی بیعت تمام لوگوں نے 25 ذی الحجہ بروز جمعہ تک مکمل کر لی تھی۔

قارئین کرام! ان تمام اتفاقی باتوں کو ذہن نشین کر لیں کیونکہ ان سے ہماری اس پوسٹ کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔

جو لوگ سیدنا عثمانِ غنیؓ کی تاریخِ شہادت 12 ذی الحجہ بروز جمعہ بتاتے ہیں!

ان کی دلیل ابو عثمان النہدیؒ کا قول ہے کہ ایامِ تشریق (11، 12، 13 ذی الحجہ) کے درمیان میں (یعنی 12 کو) شہید ہوئے یہ قول مردود ہے۔

ابو عثمان النہدیؒ کا صحیح و صریح قول 18 ذوالحجہ کا ہی ہے جو کہ ہم آگے چل بیان کریں گے۔

اب ہم تاریخ و حقائق کے مفصل دلائل سے سیدنا عثمانِ غنیؓ کی تاریخِ شہادت 18 ذوالحجہ ثابت کریں گے۔

سیدنا عثمانِ غنیؓ کا وقتِ شہادت روزے سے ہونا:

سیدنا عثمانؓ کا وقت شہادت روزے سے ہونا ہی ایامِ تشریق میں شہادت نا ہونے کی بہت بڑی دلیل ہے۔

کیونکہ نبیﷺ نے سال میں پانچ دنوں کے بارے میں فرمایا یہ کھانے پینے کے دن ہیں عید الفطر کا دن، عید الاضحی کا دن، اور ایام تشریق کے تین دن(11، 12، 13)

(صحیح مسلم: حدیث نمبر 2677)

احادیث کے مفہوم کے مطابق کیونکہ ایامِ تشریق کے دن اللہ کی طرف سے بندوں کی دعوت کے کھانے پینے کے دن ہیں تو سیدنا عثمانِ غنیؓ سے تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ رسول اللہﷺ کے فرامین کی مخالفت کرتے ہوئے ایامِ تشریق میں روزہ رکھیں

اب ہم آتے ہیں کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ وقت شہادت کے دن روزے سے تھے۔

طبری نے اپنی صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ جس دن سیدنا عثمانؓ شہید ہوئے اس دن انہوں نے خواب دیکھا کہ نبیﷺ ان کو فرما رہے ہیں کہ آج آپ افطار ہمارے ساتھ کریں گے۔

(تاریخِ طبری صحیح: باب ذکر الخیر عن قتل عثمان صحفہ، 343)

اس کے علاوہ بھی بہت سے کتب میں کئی دلائل ہیں کہ سیدنا عثمانؓ شہادت کے وقت روزے سے تھے۔

اپنی پہلی اہم و مضبوط دلیل کے بعد اب ہم آگے ہیں اس طرف کہ شہادتِ عثمانؓ کے بعد سیدنا علیؓ کی بیعت کب شروع ہوئی اور کب ختم ہوئی۔

امام ابنِ کثیر اور طبری نے نقل کیا ہے کہ سیدنا علیؓ کی بیعت 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ کو شروع ہوئی۔

(تاریخ ابنِ کثیر: جلد، 7 صحفہ، 299)

نوٹ: قارئین کرام! یہاں پر یہ چیز ذہن نشین کر لیں کہ سیدنا علیؓ کی بیعت لوگوں نے 19 ذوالحجہ کو شروع کی اور وہ ہفتے کا دن تھا۔

اب ہم آتے ہیں اس طرف کہ سیدنا علیؓ کی بیعت کس دن مکمل ہوئی۔

امام طبری کہتے ہیں کہ سیدنا علیؓ کی بیعت جمعہ کے دن کی گٸی اس وقت ماہ ذی الحجہ ختم ہونے میں پانچ روز باقی تھے (یعنی 25 تاریخ کو کی گٸی)۔

(تاریخِ طبری: جلد، 3 حصہ دوم صحفہ، 28)

اور امام ابنِ کثیر نے بھی نقل کیا ہے کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بیعت 25 ذی الحجہ بروز جمعہ مکمل ہوئی۔

(تاریخ ابنِ کثیر: جلد، 7 صحفہ، 300)

ان تاریخ حقائق و دلائل سے ثابت ہوا کہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بیعت 25 ذی الحجہ بروز جمعہ مکمل ہوئی۔

اسکے بعد ہم آتے ہیں اس طرف کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کی شہادت کس تاریخ کو ہوئی۔

امام ابنِ خلدون لکھتے ہیں کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کی شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہوئی۔

(تاریخ ابنِ خلدون: جلد، 2 صحفہ، 364)

اور امام ابنِ کثیر نے بھی یہی لکھا ہے کہ مشہور قول کے مطابق آپؓ 18 ذی الحجہ بروز جمعہ کو شہید ہوئے اور آپ کی تدفین سے پہلے لوگوں نے سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بیعت شروع کر دی تھی۔

(تاریخ ابنِ کثیر: جلد، 7 صحفہ، 299)

یہاں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کی تدفین سے پہلے ہی سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بیعت شروع ہو گٸی تھی اور صحیح ترین اقوال سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کو تین دن تک دفن نہیں کیا گیا تھا اور سیدنا علیؓ کی بیعت 19 تاریخ کو شروع ہوئی تو واضح معلوم ہو رہا ہے کہ سیدنا عثمانؓ کی شہادت 18 تاریخ ہی ہے۔

امام طبری نے صحیح سند کے ساتھ قول نقل کیا ہے کہ ابو عثمان النہدیؒ اور دوسرے راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کو 18 ذی الحجہ بروز جمعہ شہید کیا گیا۔

(تاریخِ طبری عربی: باب 35 ہجری کے واقعات صحفہ، 787)

(تاریخِ طبری اردو: جلد، 3 حصہ اول صحفہ، 476)

نوٹ: جیسا کہ آپ کو معلوم ہے طبری کے اردو ترجمے میں اسناد بیان نہیں کی گئیں اس لیے اردو ترجمے میں یہ لکھا گیا ہے کہ "سیف کی مشہور سلسلہ روایت کے مطابق سیدنا عثمانؓ کی تاریخِ شہادت 18 ذی الحجہ ہے" تو جب آپ عربی نسخہ دیکھیں گے تب آپ کو معلوم ہو گا کہ یہاں ابو عثمان النہدیؒ کا قول نقل کیا گیا ہے۔

تو جیسا کہ صحیح ترین اقوال سے ثابت ہوا کہ سیدنا عثمانؓ کی تاریخِ شہادت 18 ذی الحجہ ہے اور ابو عثمان النہدیؒ کا بھی یہی قول ہے جو کہ حادثے کے معاصر ہیں۔

تو اب ہم ذرا عقلی دلائل کی طرف آتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ سیدنا عثمانؓ کی تاریخِ شہادت 18 ہی ہے۔

اب آپ کو اُن تمام باتوں میں سے چند باتوں کو دوبارہ زہن میں لانا ہوں گا جن کے بارے ہم نے کہا تھا کہ ان کو یاد کر لیں۔

2: سیدنا عثمانِ غنیؓ جمعہ کے دن شہید ہوئے۔

4: لوگوں نے سیدنا علیؓ کی بیعت کرنا 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ کو شروع کر دیا۔

5: سیدنا علیؓ کی بیعت تمام لوگوں نے 25 ذی الحجہ بروز جمعہ تک مکمل کر لی تھی۔

اب ہم تاریخ اور دن کے حساب سے یہ فیصلہ کریں گے کہ صحیح قول کون سا ہے۔

نیچے ہم نے ایک تاریخ کا گراف بھی بنا کر لگا دیا ہے۔

قارئین کرام! ابھی ہم وقتی طور پر مان لیتے ہیں کہ سیدنا عثمانؓ کی شہادت 12 ذی الحجہ بروز جمعہ کو ہوئی اور اس دن سے لے کر 25 ذی الحجہ تک چلتے ہیں کہ کیا روایات کے مطابق اس لحاظ سے 25 تاریخ کو جمعہ کا دن بنتا ہے یا نہیں؟

12 جمعہ، 13 ہفتہ، 14 اتوار، 15 سوموار، 16 منگل، 17 بدھ، 18 جمعرات 19 جمعہ، (یہاں ہی تاریخ غلط ہوگئی ہے کیونکہ روایات کے مطابق 19 کو سیدنا علیؓ کی بیعت شروع ہوئی اور تب ہفتے کا دن تھا خیر اس بحث کو یہاں چھوڑ کر ہم آگے چلتے ہیں)

20 ہفتہ، 21 اتوار، 22 سوموار، 23 منگل، 24 بدھ، 25 جمعرات (یہاں پھر سے غلطی آگئی ہے کیونکہ روایات کے مطابق سیدنا علیؓ کی بیعت 25 ذی الحجہ بروز جمعہ کو مکمل ہوگئی اور اس حساب سے یہاں جمعرات بنتا ہے جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ 12 ذی الحجہ سیدنا عثمانؓ کی شہادت کا دن نہیں۔

اب ہم راجح قول کے مطابق سیدنا عثمانؓ کی تاریخِ شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ مانتے ہیں اور یہی حساب دوبارہ کرتے ہیں 18 جمعہ، 19 ہفتہ (یہ حساب یہاں ہی درست ثابت ہو گیا کیونکہ سیدنا علی المرتضیٰؓ کی بیعت 19 ذی الحجہ بروز ہفتہ شروع ہوئی آگے چلتے ہیں)

20 اتوار، 21 سوموار، 22 منگل، 23 بدھ، 24 جمعرات (یہاں بھی درست ہوگیا کیونکہ 24 ذی الحجہ بروز جمعرات کو کوفیوں میں سب سے پہلے اشتر نخعی نے آپ کی بیعت کی)

25 جمعہ (بیعت مکمل ہونے کا دن جمعہ)

تو تمام روایات کے مطابق 18 ذی الحجہ ہی سیدنا عثمانؓ کی شہادت کا دن ہے کیونکہ باقی تمام روایات و شواہد پر یہی تاریخ پوری اترتی ہے۔

قارئین کرام! آپ سب کے لیے یہ حیران کُن بات ہوگی کہ رافضیوں کی ویب سائیٹ ویکی شیعہ پر بھی سیدنا عثمانؓ کی تاریخِ شہادت 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہی لکھی ہوئی ہے۔ (ویکی شیعہ، عثمان بن عفانؓ کا بیان، باب معاصرہ اور قتل) مگر رافضیوں کے سہولت کار ٹولے نے انکی نمک حلالی کرتے ہوئے بارہ ذوالحجہ کو یومِ شہادت بنانے کی ناکام کوشش شروع کی ہوئی ہے۔

قارئین کرام! اللہ کے کرم سے ہم نے کتابی و عقلی دلائل سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ سیدنا عثمانِ غنیؓ کی تاریخِ ہوئی شہادت 35 ہجری 18 ذی الحجہ بروز جمعہ ہی ہے تمام تاریخی و عقلی دلائل سے بھی یہی تاریخ ثابت ہے اور اس کے علاوہ باقی تمام تاریخی اقوال کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔