Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حضرت حسینؓ بعد میں بیعتِ یزید کے لیے کیوں تیار ہوئے؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

اعتراض

سیدنا حسینؓ پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ شروع میں یزید کی بیعت نہیں کر رہے تھے تو پھر بعد میں یزید کی بیعت کے لیے تیار کیوں ہوگئے تھے، یا تو سیدنا حسینؓ شروع میں غلطی پر تھے کہ یزید کی بیعت نہیں کی یا پھر آخر میں غلطی پر تھے کہ اخیر میں یزید کو حق پر مان کر بیعت کے لیے تیار ہوگئے۔

جواب نمبر 1

حضرت حسینؓ یزید کی بیعت کے لیے آمادہ نہیں ہوئے تھے، چنانچہ اس پر چند تصریحات ملاحظہ ہوں:

1: ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم الاندلسی القرطبی الظاهریؒ (ت 456ھ) لکھتے ہیں:

إذرأى أنها بيعة ضلالة۔

ترجمہ: سیدنا حسینؓ کی رائے یہ تھی کہ یزید کی بیعت ضلالت (گمراہی) ہے۔

(الفصل في الملل والأهواء والنحل: جلد 4 صفحہ 86 الكلام في بقاء اهل الجنة والنار ابدا)

فائدہ: جب حضرت حسینؓ یزید کی بیعت کو بیعت ضلالت کہہ رہے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ یزید کی بیعت پر راضی ہو گئے ہوں۔

2: امام محمد بن محمد بن محمد الغزالیؒ (ت 505ھ) سیدنا حسینؓ کا خطبہ کربلا نقل کرتے ہیں جس کے آخری الفاظ یہ ہیں:

ليرغب المؤمن في لقاء اللہ تعالی وإني لا أرى الموت إلا سعادة والحياة مع الظالمين إلا جرما۔

ترجمہ: مومن کو چاہیے کہ اللہ سے ملاقات کا شوق رکھے اور میں مرنے میں اپنی سعادت سمجھتا ہوں اور ظالموں کے ساتھ جینے کو جرم عظیم سمجھتا ہوں۔

(احیاء علوم الدین: جلد 4 صفحہ 398، كتاب ذكر الموت، الباب الخامس)

فائدہ: اس سے بھی معلوم ہوا کہ آپؓ بیعت کے لیے راضی نہیں ہوئے تھے۔

3: امام ابو الحسن عزالدین علی بن ابی الکرم محمد بن محمد الشيباني الجزری ابن الاثیرؒ (ت 630ھ) لکھتے ہیں:

وقد روي عن عقبۃ بن سمعان أنہ قال صحبت الحسين من المدينۃ إلى مكۃ ومن مكۃ إلى العراق ولم أفارقہ حتى قتل وسمعت جميع مخاطباتۃ للناس إلى يوم مقتله، فواللہ ما أعطاهم ما يتذاكر الناس أنہ يضع يده في يد يزيد.

ترجمہ: حضرت عقبہ بن سمعان سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ کے ساتھ مدینہ سے مکہ اور مکہ سے عراق تک مسلسل ساتھ رہا اور ان کی شہادت کے وقت تک ان سے کہیں الگ نہیں ہوا، میں نے یوم شہادت تک آپ کی وہ تمام باتیں سنی ہیں جو آپ نے لوگوں سے کی، اللہ کی قسم یہ بات آپ نے لوگوں کے سامنے رکھی ہی نہیں جس کا لوگ ذکر کرتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ یزید کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیں گے اور اس سے بیعت کرلیں گے۔

(الكامل فی التاريخ: جلد 4 صفحہ 54 ذكر مقتل الحسين)

جواب نمبر 2

حالات کے پیش نظر درایۃ (عقلی اعتبار سے) بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا حسینؓ یزید کی بیعت کے لیے راضی نہیں ہوئے تھے، اس لیے اگر تیار ہوتے تو درج ذیل مقامات پر تیار ہو جاتے۔

1: جب یزید کی ولی عہدی کا مرحلہ تھا اس وقت سیدنا حسینؓ یزید کی بیعت کر لیتے، اس وقت نہیں کی اور نہ ہی اس بیعت کو درست سمجھا۔

2: سیدنا امیر معاویہؓ کی وفات پر یزید کی طرف سے مدینہ کے عامل ولید بن عتبہ نے آپ سے یزید کی بیعت کا مطالبہ کیا کہ تو آپ نے مطالبہ کو منظور نہیں فرمایا اور یزید کی بیعت نہیں کی۔

3: آپؓ نے مدینہ منورہ صرف اسی وجہ سے چھوڑا تھا کہ آپؓ پر یزید کی بیعت کے متعلق دباؤ ڈالا جارہا تھا لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے بیعت قبول نہیں کی۔

4: اگر آپؓ یزید کی بیعت کرنا چاہتے تو مدینہ میں ہی بیعت فرما لیتے، ملک شام آنے کی کیا ضرورت تھی؟

5: ابن زیاد وغیرہ بھی تو یزید کی بیعت ہی لے رہے تھے لیکن آپؓ نے انکار فرمایا البتہ یزید سے مذاکرات اور بات چیت کرنے کے لیے خود اس کے پاس جانے پر آمادہ تھے۔