چوتھا طعن
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہشیعہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے کہا ہے: اِنَّ لِیْ شَیْطَانًا یَعْتَرِیْنِیْ فَاِنَ اسْتَقَمْتُ فَاَعِیْنُوْنِیْ وَاِنْ زِغْتُ فَقَوِمُوْنِیْ۔
ترجمہ: میرے لیے بھی شیطان ہے جو بس وساوس ڈالتا ہے پس اگر میں راہِ راست پر چل رہا ہوں تو تم میری مدد کرو اور اگر کجی دیکھو تو مجھے سیدھا کر دو پھر ایسا شخص قابلِ امامت و خلافت کس طرح ہو سکتا ہے جو شیطانی وساوس تک سے بچ نہیں سکتا۔
جواب: اول تو اہلِ سنت کی کتاب میں سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا مقولہ درج نہیں ہے اگر بالفرض یہ درست ہو تو بھی کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ ہم سوائے انبیآء کرام علیہم السلام کے کسی کو معصوم نہیں سمجھتے احادیثِ صحیحہ میں ہے کہ ہر ایک شخص کے ساتھ ایک فرشتہ اور ایک جن پیدا ہوتا ہے فرشتہ نیکی کی ترغیب کرتا ہے اور جن (شیطان ) بدی کی طرف رغبت دلاتا ہے پھر اگر سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے کمال کسرِ نفسی سے ایسا فرما دیا ہو تو آپ کی نیک طینتی اور بے نفسی کا ثبوت ہے۔
انبیآء کرام علیہم السلام باوجود عصمت کے ایسے کلمے فرما دیا کرتے ہیں آدم علیہ السلام نے فرمایا: قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا الخ
(سورۃ الاعراف: آیت 23)
ترجمہ: اے رب ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تو ہماری خطائیں معاف کر دے حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا: وَمَاۤ اُبَرِّئُ نَفۡسِىۡ اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوۡٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىۡ الخ۔
(سورۃ یوسف: آیت 53)
ترجمہ: میں اپنے کو خطا سے مبرا نہیں سمجھتا نفس بدی کی رغبت دلاتا ہے ہاں جس پر خدا رحم کر دے سیدنا علیؓ اپنے دیوان میں فرماتے رہے:
ذُنُوْبِیْ بَلَائِی فَمَا حِیْلَتِیْ
اِذَا کُنٌتُ فِی االٌحَشْرِ حَمَّا لَھَا
ترجمہ: میرے گناہ میری مصیبت ہیں میرا کیا چارہ ہوگا جب قیامت کے روز گناہ کا بوجھ میری گردن پر ہوگا (دیوانِ علیؓ)
حضرت زین العابدینؒ فرماتے ہیں:
قَدْ مَلَکَ الشَّیْطَانُ عَِنَانِیْ فِیْ سُوْءِ الظَّنِّ وَضُعْفِ الْیَقِیْنِ وَاِنَّیْ اَشْکُوْ سَوْءالْمجَاوَرَةِ بِهٖ اِلَیَّ بطَاعَةِ نَفْسِیْ۔
ترجمہ: شیطان نے بدگمانی اور یقین کی کمزوری میں میری باگ پکڑ رکھی ہے اور میں اس کے پڑوس اور اپنے نفس کے اس مطیع ہونے کی شکایت کرتا ہوں۔ (حوالہ صحیفہ سجادیہ)
اور اگر انبیآء علیہم السلام کے اقوال بالا اور ائمہ معصومین کے ان مقولوں سے نبوت و امامت میں فرق نہیں آتا سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے بطورِ کسرِ نفسی یوں کہہ دیا تو کیا مضائقہ؟