حافظ جلال الدین السیوطی رحمۃاللہ کا حوالہ - ردِ رافضیت |…

حافظ جلال الدین السیوطی رحمۃاللہ کا حوالہ

  محمد ظفر اقبال

مصنف نے عدمِ فضیلت کے اعتراض میں علامہ جلال الدین السیوطی رحمۃاللہ (متوفی 911ھ) کو بھی اپنا ہم نوا ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور تاریخ الخلفاء صفحہ 139 کا حوالہ دیا ہے۔ لیکن ہمیں تلاشِ بسیار کے باوجود حضرت علامہ سیوطی رحمۃاللّٰہ  کا سیدنا امیرِ معاویہؓ کے بارے میں عدمِ فضیلت کا قول نہ مل سکا۔ ہاں، سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں علامہ سیوطیؒ کے یہ جملے ضرور ملے:

حضرت امیرِ معاویہؓ نے ایک عرصہ تک دربارِ رسالتﷺ‏ میں کتابتِ وحی کے فرائض انجام دیے اور بحیثیتِ کاتب 163 احادیث کے راوی ہیں۔ آپ کے حوالے سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے منجملہ سیدنا ابنِ عباسؓ، سیدنا ابنِ عمرؓ، سیدنا ابنِ زبیرؓ، سیدنا ابو درداءؓ، حضرت جریر بجلیؓ، حضرت نعمان بن بشیرؓ وغیرہ اور تابعین کے منجملہ ابنِ مسیبؒ، حمید بن عبدالرحمٰنؒ وغیرہ نے احادیث بیان کی ہیں۔ ہوشیاری اور بردباری میں مشہور تھے۔ آپؓ کی فضیلت میں اکثر احادیث وارد ہیں۔ ترمذی نے حضرت ابنِ ابی عمیرہؓ صحابی کی زبانی لکھا ہے کہ سرورِ عالمﷺ نے حضرت امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے یہ دعا کی: 

اے اللہ! انہیں ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ بنا دے۔  

امام احمدؒ نے حضرت عرباض بن ساریہؓ کی زبانی لکھا ہے: میں نے خود رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا ہے: 

اے اللہ! سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ کو کتاب اور حساب سکھا دے اور عذاب سے محفوظ رکھ۔  

ابنِ ابی شیبہؒ اور طبرانیؒ نے عبد الملک بن عمیرؒ کی زبانی لکھا ہے کہ حضرت امیرِ معاویہؓ نے کہا: جب رسول اللہﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ: 

اے معاویہ! جب تمہیں اقتدار نصیب ہو تو لوگوں سے حسنِ سلوک کرنا، اس وقت سے مجھے امید تھی کہ میں خلیفہ ضرور بنوں گا۔

(تاریخ الخلفاء: صفحہ65 تحت حضرت معاویہؓ)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:  

باید دانست کہ معاویہ بن ابی سفیانؓ یکے از اصحابِ حضرت بودا و صاحبِ فضیلتِ جلیلہ صحابہؓ زنهار در حقِّ او سوءِ ظن نکنی و در ورطۂ سبِّ اونہ اوفتی تا مرتکبِ حرام نشوی 

(ازالۃ الخفاء: جلد 2 صفحہ 276)  

جاننا چاہیے کہ حضرت امیرِ معاویہ بن ابی سفیانؓ اصحابِ رسولﷺ میں سے ایک تھے اور زمرۂ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بڑے صاحبِ فضیلت تھے۔ تم کبھی ان کے حق میں بدگمانی نہ کرنا اور ان کی بدگوئی میں مبتلا نہ ہونا، ورنہ تم حرام کے مرتکب ہو گے۔

کیا اب بھی ہم نہ کہیں:  

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا 

جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا