روزہ افطار کا صحیح وقت اور روافض شیعہ کے اعتراض کا جواب…

روزہ افطار کا صحیح وقت اور روافض شیعہ کے اعتراض کا جواب (اہل سنت و اہل تشیع کتب کی روشنی میں)

  جعفر صادق

صفحہ 1 از 3

روزہ افطار کا صحیح وقت اور شیعہ کے اعتراض کا جواب (اہلِ سنت و اہلِ تشیع کتب کی روشنی میں) سیدنا جعفر صادقؒ افطار روزہ کا صحیح وقت اور شیعہ کا اعتراض

شیعہ اعتراض:

قرآنِ مجید میں ہے "روزه رات تک پورا کرو اور رات اندھیرا چھا جانے پر ہوتی ہے آپ (اہلِ سنّت) روزہ جلدی کیوں کھول لیتے ہیں؟ حضرت عمر اور حضرت عثمان نمازِ مغرب کے بعد روزہ کیوں کھولتے تھے؟ (حوالہ فقہ عمر)

جواب اہلِ سنت:

 بیشک قرآن میں ہے کہ روزہ رات تک پورا کرو لیکن قرآن میں یہ نہیں بیان ہوا کہ رات اندھیرا ہونے کے بعد شروع ہوتی ہے دن کا مطلب یہ نہیں کہ روشنی جب تک ہے ہم اس وقت تک دن ہی کہیں گے رات و دن کے اوقات درحقیقت سورج کے طلوع اور غروب ہونے پر موقوف ہیں اگر سورج غروب ہو جائے تو دن کا اختتام ہو جاتا ہے اور رات کی شروعات ہو جاتی ہے چاہے مکمل اندھیرا ایک گھنٹے بعد ہی کیوں نہ ہو اور افطاری کا صحیح وقت غروبِ آفتاب کے فوراً بعد ہے جس طرح سحری کا وقت اندھیرے میں ہی ختم ہو جاتا ہے جبکہ روشنی اس وقت تک نہیں ہوتی۔

اہلِ سنت و اہلِ تشیع کی معتبر کتب میں احادیث نبویﷺ اور اہلِ بیتؓ سے بھی یہی حقائق معلوم ہوتے ہیں۔

تاخیرِ افطار کا یہ مسئلہ شیعہ نے محض اختلاف برائے اختلاف بنایا ہے ورنہ شریعت کی تعلیم بالکل واضح ہے کہ جب سورج ڈوب جائے اور رات آنے لگے تو روزہ افطار کرو اور نماز پڑھو۔

یقول: سورۃ البقرة: آیت، 187

ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ الخ۔

ترجمہ: پھر رات آنے تک روزے پورے کرو۔

اس میں روزہ کی مدت بتائی گئی کہ روزہ رات تک پورا کرو۔

غور کریں رات آنے تک یعنی رات کی شروعات میں روزہ افطار کرنا چاہئے۔

ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْل

(پھر روزوں کو رات تک پورا کرو) رات غروبِ شمس ہوتے ہی شروع ہو جاتی ہے جیسے ہی سورج غروب ہو جائے روزہ افطار کرنے کا وقت ہو جاتا ہے۔

رات تک روزہ پورا کرنے سے مراد یہ ہے کہ جہاں رات کی سرحد شروع ہوتی ہے وہیں تمہارے روزے کی سرحد ختم ہو جائے ظاہر ہے کہ رات کی سرحد غروب آفتاب سے شروع یعنی طلوعِ صبح صادق سے رات تک روزہ کو پورا کرو یہ بھی معلوم ہوا کہ کئی روزے متصل رکھنے اس طرح پر کہ رات کو بھی افطار کی نوبت نہ آئے مکروہ ہے لہٰذا غروبِ آفتاب ہی کے ساتھ افطار کر لینا چاہیے۔

سیدنا عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب مشرق کی طرف سے رات آ گئی اور دن مغرب کی طرف چلا گیا اور سورج چھپ گیا تو روزہ دار کے افطار کا وقت ہوگیا۔

(صحیح بخاری: صفحہ، 262 جلد، 1)

قرآنِ پاک کی مذکورہ آیت بھی یہی چاہتی ہے یہاں سنی اور شیعہ کا تو اتفاق ہے جیسے وَاَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ کُہنیاں ہاتھ میں داخل ہیں۔

اسی طرح أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ میں رات صیام میں داخل نہیں ورنہ لازم آئے گا کہ روزہ تمام رات رہے رات ختم ہونے پر کھولا جائے جب رات روزہ سے خارج ہے تو رات کے جزءِ اول ہی میں روزہ کھولنا ہوگا جیسے کوئی کہے کہ میں نے دریا تک سفر کیا تو دریا کا خُشک کنارہ سفر کی انتہاء ہوئی جیسے ہی خشکی آئے سفر ختم ہو گیا چاہے کنارے پر خشکی اور پانی ساتھ ساتھ کیوں نہ ہو جیسے یہاں مکمل خشکی میں پہنچنا لازم نہیں اسی طرح رات میں گُھس کر روزہ جاری رکھنا لازم نہیں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ رات اندھیرا چھا جانے پر ہوتی ہے کیونکہ یہ کسی عُرف میں تو سمجھا جا سکتا ہے مگر شرح میں اس کا اعتبار نہیں ورنہ رات کا چھا جانا اس وقت سمجھا جاتا ہے جب مشرق و مغرب کا فرق نہ ہو سکے تمام ستارے مکمل چمک پڑھیں اور یہ چیز سورج ڈوبنے سے سوا گھنٹہ بعد عشاء ہونے تک پیدا ہوتی ہے اور اس وقت تک شیعہ تاخیرِ افطار نہیں کرتے بلکہ تقریباً آدھا گھنٹہ تک سُرخی اور روشنی ہوتے ہوئے بعد از نمازِ مغرب افطار کرتے ہیں جو عقل اور نقل کے خلاف ہے عقل کا تقاضا ہے کہ جیسے پوہ پھٹنے ہی صبح اور وقتِ صوم کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے حالانکہ ابھی خُوب اندھیرا ہے جو گھنٹہ سوا بعد زائل ہوگا اسی طرح سورج ڈوبنے اور رات چڑھتے ہی رات کا آغاز اور روزہ کا افطار اور نمازِ مغرب کا جواز شروع ہوگیا جبکہ مکمل شب اور اندھیرا سوا گھنٹہ بعد ہوگا۔

ایک اہم نکتہ:

اس آیت میں حرف الیٰ پر کچھ موشگافیاں ہیں اسی بنا پر حضراتِ شیعہ اپنا روزہ رات ہونے کے بعد جبکہ تارے اچھی طرح کھل جائیں افطار کرتے ہیں اور وہ الزام میں یہ کہتے ہیں کہ فاغسلوا وجوھکم وایدیکم الی المرافق میں بھی الیٰ غایت کے لیے آیا اور اتموا الصیام الی الیل میں بھی الیٰ غایت کے لیے ہے لہٰذا اگر وضو میں غسل ید کے اندر کہنی داخل ہے تو روزہ میں رات کیوں نہ داخل ہو اگر وضو کے وقت کہنیاں وضو میں نہ دھوئی جائیں تو رات کا حصہ روزہ میں بھی نہ داخل ہو۔

الجواب:

  1. ہر غایت اپنی مغیا کی جنس سے اگر ہو تو داخل مغیا رہے گا اور اگر غایت اپنے مغیا سے غیر ہو تو خارج ہوگا بنا بریں مرفق یعنی کہنی اپنے مغیا کی جنس سے ہے یعنی ہاتھ کی جنس میں کہنی ہے لہٰذا وضو میں غسلِ ید کے ساتھ کہنی داخل رہنی چاہیے اور دن میں جو مغیا ہے اس کی غایت رات غیر جنس ہے بنا بریں وہ خارج رہے گی اسی وجہ سے الی المرافق کے حکم میں کہنی غسل میں داخل ہے اور الی الیل میں رات اندھیرے تک خارج ہے۔
  2. اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ثم اتموا الصیام الی الیل یہ امر ہے اور وجوب کا مقتضا ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور الیٰ غایت کے لیے ہے جب اس کا مابعد اس کے ماقبل کی جنس سے ہو تو وہ ماقبل کے حکم میں داخل ہوتا ہے جیسے تیرا قول ہے اشتریت الفدان الی حاشیة۔ (میں نے چار سو مربع زمین حاشیہ سمیت خریدی) یا اشتریت منک من ھذہ الشجرۃ الی ھذہ الشجرۃ مبیع شجر ہے اور آخری درخت بھی اس مبیع میں داخل ہے بخلاف تیرے اس قول کے: اشتریت الفدان الی الدار اس میں دار مبیع میں داخل نہ ہوگا کیونکہ وہ زمین کی جنس سے نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے رات کے ظہور تک روزہ کو مکمل کرنے کی شرط رکھی ہے جیسا کہ کھانا جائز قرار دیا حتیٰ کہ دن ظاہر ہو جائے۔

 حدیث میں تفصیل سے بتا دیا گیا کہ: اذا اقبل اللیل من ھھنا وادبر النھار من ھھنا فقد افطر الصائم۔

صفحہ 1 از 3