بنو امیہ کے مبغوض قبیلہ ہونے کا الزام - ردِ رافضیت | دفاع…

بنو امیہ کے مبغوض قبیلہ ہونے کا الزام

  محمد ظفر اقبال

مصنفِ نام و نسب بعنوان بنو امیہ اور یزید کے بارے میں چند احادیث کے تحت لکھتے ہیں:

بنو امیہ اور یزید کے بارے میں چند احادیث نقل کر رہا ہوں، یاد رہے کہ ان کے ناقل شیعہ نہیں خالص سنی ہیں، مگر آپ کہیں گے کہ سنی بھی آدھے شیعہ ہوتے ہیں۔ اگر اہلِ بیتؓ سے عقیدت و محبت شیعیت ہے تو سنی ضرور شیعہ ہیں مگر بفضلہٖ تعالیٰ خارجی نہیں ہو سکتے، ارشادِ نبویﷺ‏ ہے: 

اهل بيتی سيلقون بعدى من امتى قتلاً و تشديداً و ان أشد قومنا لنا بغضاً بنو اميه و بنو مخزوم رواه (حاکم) میرے اور میرے اہلِ بیتؓ کو قتل اور سخت تشدد کا سامنا کرنا پڑے گا اور بے شک ہماری قوم سے بنو امیہ اور بنو مخزوم ہمارے ساتھ بغض میں سخت ہیں۔ (نام و نسب: صفحہ 512)

مصنفِ نام و نسب نے اس کے بعد دو مزید روایات مذمتِ یزید میں نقل کی ہیں، لیکن ہمارا موضوع چونکہ دفاع سیدنا امیرِ معاویہ رضی اللہ عنہ ہے، لہٰذا ہم ان روایات پر بحث کو قلم زد کرتے ہیں اور صرف مذکورہ روایت ہی کا جواب دیتے ہیں۔ واللہ ولی التوفیق و بیدہ از متہ التحقیق۔

الجواب: مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نام و نسب کے مذکورہ اعتراض کا جواب روایۃً و درایۃً دونوں طریقوں سے دے دیا جائے، جس سے اس بات کی حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے گی کہ مصنف نے جو روایت پورے قبیلہ بنو اُمیہ کو مبغوض ٹھہرانے کے لیے پیش کی ہے، قواعدِ روایت کی رُو سے اس کا کیا مقام ہے؟ کیا وہ روایت قابلِ قبول ہے؟ کہیں مصنفِ محترم من كذب علی متعمدا فليتبوأ مقعده من النار 

(بخاری: جلد 1 صفحہ  21 کتاب العلم، باب اثم من كذب على النبیﷺ‏) 

کا مصداق تو نہیں بن رہے ہیں۔ 

دوسرے کہیں پیش کردہ روایت مشاہدہ اور عقل کے خلاف تو نہیں؟

ان دونوں پہلوؤں پر گفتگو کے بعد، ان شاء اللہ، کوئی اشکال باقی نہیں رہے گا۔ مصنف نے ہمیں تاکید کی تھی کہ یاد رہے کہ ان کے ناقل شیعہ نہیں خالص سنی ہیں۔ 

ہم نے مصنف کی اس تاکید کو بہت یاد رکھا لیکن افسوس جس کتاب سے یہ روایت لی گئی ہے یعنی مستدرک حاکم اس کے مؤلف امام ابو عبداللہ الحاکم النیسابوری خود شیعہ ہیں یقین نہ آئے تو لسان المیزان کھول کر دیکھیں، اس میں لکھا ہے: 

هو شيعی مشھور 

(لسان المیزان: جلد  5 صفحہ 233 حروف المیم، ترجمہ امام حاکم نیشا پوری) 

امام حاکم مشہور شیعہ ہیں۔

اور حافظ ذہبی رحمۃ اللہ (متوفیٰ 748ھ) نے ایک روایت کے ذیل میں امام حاکم کے بارے میں کہا ہے:

قلت قبح الله رافضيا افتراه

(المستدرک للحاکم: جلد 3 صفحہ 32) 

میں کہتا ہوں کہ اللہ رافضی کا ناس کرے، یہ بات اس نے خود گھڑ لی ہے۔ 

اسی طرح شیعہ اسماء الرجال کی مشہور کتب (اعیان الشیعہ: جلد، 9 صفحہ، 391 اور الکنی والالقاب: جلد  2 صفحہ170) میں امام حاکم کا ترجمہ موجود ہے۔