شیعہ حضرات کو یہ اعتراض کرنا ہی نہیں چاہیے اور نہ ہی تیمم میں ساقط اعضاء کو وضو میں مسح کرنے کی دلیل بنانا چاہیے۔ اس لیے کہ ان کے نزدیک تیمم میں چہرے کے صرف پیشانی اور ابروؤں کے حصے پر مسح ہے، باقی حصے پر نہیں۔ جیسا کہ ان کی کتابوں میں ہے چنانچہ حافظ بشیر حسینی نجفی لکھتے ہیں اس مقام سے جہاں سر کے بال اگتے ہیں، بھوؤں تک اور دونوں طرف ہتھیلیوں کو پھیرنا۔ اور احتیاطاً چاہیے کہ ہاتھ بھوؤں پر بھی پھیرے جائیں۔
(توضیح المسائل: صفحہ185)
اور خمینی نے بھی یہی طریقہ لکھا ہے۔
(توضیح المسائل مترجم: صفحہ113)
(اور ایک روایت میں ہے: لِأَنَّ عِندَنَا أَنَّ المَسحَ يَجِبُ فِی التَّيمُّمِ بِبَعضِ الوَجهِ وَهُوَ الجَبهَةُ وَالحَاجِبَانِ تہذیب الاحکام: صفحہ61)
کہ تیمم میں ہمارے نزدیک صرف پیشانی اور ابروؤں کا مسح ہے۔ اور یہی طریقہ شیعہ حضرات کی دیگر کتب میں ہے۔ اگر یہ نظریہ ہے کہ جن اعضاء پر تیمم میں مسح نہیں تو وضو میں ان کا دھونا ضروری نہیں، تو شیعہ حضرات کے لیے ضروری ہے کہ وہ غسلِ جنابت میں چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ باقی جسم کو دھونا ضروری نہ قرار دیں۔ اسی طرح وہ وضو میں چہرہ دھوتے وقت آنکھوں سے نیچے والے حصے کو دھونا ضروری نہ سمجھیں، اس لیے کہ یہ حصہ تو ان کے نزدیک تیمم میں ساقط ہو جاتا ہے۔