شیعہ حضرات کے شیخ الطائفہ الطوسی روایت نقل کرتے ہیں:
عَن دَاوُدَ بنِ زِربِی قَالَ: سَأَلتُ أَبَا عَبدِاللّٰهِ عَنِ الوُضُوءِ فَقَالَ لِی: تَوَضَّأ ثَلَاثًا
(تہذیب الاحکام: جلد1 صفحہ 82)
داؤد بن ابی زربی کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبداللہ سے وضو کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے کہا کہ تین دفعہ وضو کر۔ اور یہی روایت الاستبصار جلد 1 صفحہ71 میں بھی ہے۔
مگر اس کی یوں تاویل کی کہ یہ تقیہ کی وجہ سے ہے۔ اور ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میں نے حضورﷺ کے سامنے وضوکیا:
ثُمَّ غَسَلتُ وَجهِی ثَلَاثًا فَقَالَ: قَد يَجزِيكَ مِن ذَلِكَ مَرَّتَينِ
(تہذیب الاحکام: جلد 1 صفحہ93)
ترجمہ: پھر میں نے تین مرتبہ چہرہ دھویا تو آپﷺ نے فرمایا کہ بے شک یہ تجھے دو مرتبہ بھی کافی تھا۔
اس روایت میں صراحت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تین دفعہ چہرہ دھویا اور اس میں تقیہ کا عذر بھی نہیں چل سکتا۔ اس لیے کہ وضوکرنے والے حضرت علیؓ ہیں اور دیکھ کر تعلیم دینے والے حضرت محمدﷺ ہیں۔ پھر تقیہ کا کوئی تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ جب صحیح روایت سے حضورﷺ کا تین تین بار اعضاء کو دھو کر وضو کرنا ثابت ہے، تو تین دفعہ اعضاء کو دھونے کو حرام یا بدعت کہنا غلط ہے۔