شیعہ کتب سے - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

شیعہ کتب سے

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

اہلِ سنت تو سر کا مسح کرتے وقت ہاتھوں کو گدی تک لے جانا سنت سمجھتے ہیں اور ان کا نظریہ صحیح احادیث سے ثابت ہوتا ہے جن کے حوالے پیش کر دئیے گئے ہیں خود شیعہ کتب میں بھی سر کا مسح کرتے وقت ہاتھوں کو گدی تک لے جانے کی روایات موجود ہیں چنانچہ ابو جعفر الطوسی روایت نقل کرتے ہیں کہ حسین بن ابی العلاء کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبداللہ سے پوچھا کہ آپ کو کہاں سے سر کے مسح کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا 

کانی انظر الی عکنۃ فی قفا ابی یمر علیھا یدہ وسالته عن الوضوء بمسح الراس مقدمه ومؤخرہ قال کانی انظر الی عکنۃ فی رقبۃ ابی يَمسَحُ عَلَيهَا

(تہذیب الاحکام: جلد1 صفحہ90 اور حاشیہ والے نے لکھا ہے کہ یہ روایت الاستبصار: جلد 1 صفحہ61 میں بھی ہے۔)

گویا کہ میں اپنے باپ کی گدی میں عُکنَہ (لڑھکتا ہوا گوشت) کی جانب دیکھ رہا ہوں کہ اس پر وہ ہاتھ پھیر رہے تھے۔ اور میں نے وضو میں سر کے اگلے حصے اور پچھلے حصے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: گویا کہ میں اپنے باپ کی گردن کے لڑھکتے ہوئے گوشت کی جانب دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس پر مسح کرتے تھے۔

جب شیعہ حضرات کے امام نے گردن کے لڑھکتے ہوئے گوشت پر ہاتھ پھیر کر اس کے مسح کا ذکر کیا، اور سر کے آگے اور پیچھے کے حصے کے مسح کے سوال کے جواب میں یہ کہا کہ میرا باپ گردن کے لڑھکتے ہوئے گوشت پر مسح کرتا تھا، تو گردن کا مسح اور سارے سر پر مسح کا ثبوت تو شیعہ حضرات کے دو اماموں سے ہو گیا۔ اس لیے کہ ایک امام اپنے باپ کا عمل نقل کر رہا ہے اور یہ دونوں باپ بیٹا شیعہ حضرات کے امام ہیں۔