دونوں ہاتھوں کے ساتھ سر کا مسح کرنا شیعہ کتب میں بھی ہے۔ چنانچہ ابو جعفر الطوسی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ سیدنا ابو جعفرؒ نے حضور علیہ السلام جیسا وضو کر کے دکھایا، اس میں ہے:
ثُمَّ مَسَحَ بِبَلَّةِ مَا بَقِی فِی يَدَيهِ رَأسَهُ
(الاستبصار: جلد1 صفحہ 58)
ترجمہ: پھر جو تری آپ کے دونوں ہاتھوں میں تھی اس کے ساتھ اپنے سر کا مسح کیا۔
الاستبصار کے حاشیہ میں ہے کہ یہ روایت التہذیب: جلد 1 صفحہ 16 اور الکافی: جلد1 صفحہ8 میں بھی معمولی اختلاف کے ساتھ موجود ہے۔ ان روایات سے دونوں ہاتھوں کے ساتھ سر کا مسح کرنا سنت ثابت ہوتا ہے۔ اور ابو جعفر الطوسی نے ایک اور روایت نقل کی کہ حسین بن عبداللہ کہتے ہیں: میں نے ابو عبداللہ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جس نے اپنے سر کا پیچھے کی جانب سے مسح کیا اپنی انگلی کے ساتھ، جب کہ اس کے سر پر پگڑی تھی۔ کیا اس کا یہ عمل جائز ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہاں، جائز ہے۔
(تہذیب الاحکام: جلد1 صفحہ91)
اور یہ روایت الاستبصار: جلد1 صفحہ 20 میں بھی ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوا کہ سر کا پچھلا حصہ بھی مسح کا محل ہے۔