مختارثقفی: شیعہ کتب سے اصل حقائق - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مختارثقفی: شیعہ کتب سے اصل حقائق

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 1 از 3

مختار بن ابی عبیدہ ثقفی 

اس کے بارے میں کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ صحابی رسول تھا بڑا نیک بندہ تھا اس نے سیدنا حسینؓ کا قصاص لیا وغیرہ وغیرہ

آئیے تاریخ کی اس متنازعہ شخصیت مختار ثقفی کا کچھ تعارف اہل سنت اور اہل تشیع معتبر کتب سے معلوم کرتے ہیں۔

1:  مختار ثقفی کو شرف صحابیت حاصل نہیں تھا نا رویت نا صحبت۔ 

2: مختار ثقفی کے حالات ناپسندیدہ تھے جن کو ثقہ لوگوں نے نقل کیا جیسے امام شعبی رحمۃاللہ نے ۔

3: سیدنا حسینؓ کے قصاص کا دھوکا دیا اور دنیا کا طلب گار تھا جھوٹ اور جنونی باتیں کرتا تھا ۔

4: موسیٰ بن اسماعیل عن ابی عوانہ عن مغیرہ بحوالہ ثابت بن ہرمز روایت کرتے ہیں کہ مختار نے اپنے چچا کے ہاں سے مدائن سے بہت سا مال سیدنا علیؓ کی طرف بھیجا اس نے اس میں ایک تھیلی نکالی اس میں پندرہ درھم تھے کہنا لگا یہ کسبیوں کی کمائی ھے جس پر حضرت علیؓ نے ان سے کہا کہ تیرا ناس ہو میرا کسبیوں سے کیا تعلق؟ 

5: حضرت علیؓ  نے اس کو بدعا دی کہ اللہ پاک اس ہلاک کرے اسے کیا ہوگیا ہے اگر ابھی اس کا دل چیر کر دیکھو تو اس کے اندر لات اور عزی کی محبت بھری ہوئی ہوگی۔ 

6: بعض لوگ کا کہنا ہے کہ مختار ثقفی شروع میں خارجی تھا پھر زیدی ہوا اور بعد میں رافضی ہوگیا تھا۔

7: مختار ثقفی نے صحابی رسول عمار بن یاسرؓ کے بیٹے محمد کو ظلما شھید کیا کیونکہ اس نے اس کو کہا کہ تم اپنے والد کے حوالے سے جھوٹی حدیث بیان کرو اور انھوں نے ایسا نہیں کیا تو قتل کردیا۔

8: اہل بیت کی ایک جماعت نے اس خلاف دعویٰ نبوت اور واضح جھوٹ کی گواہیاں دی اس سلسلہ میں امام احمد روایت بھی نقل کی ہے۔

ترجمہ: رفاعہ بن شداد فرماتے ہیں: میں مختار کے پاس گیا تو اس نے مجھے تکیہ دیا اور کہا کہ اگر میرا بھائی جبریل علیہ السلام اس سے نہ اٹھتا تو میں اسے تیرے لیے پھینک دیتا۔ تو میرا ارادہ ہوا کہ اسے قتل کر دوں۔ (کیونکہ اس نے حضرت جبریل علیہ السلام سے رفاقت کا جھوٹ بولا) پھر مجھے ایک حدیث یاد آ گئی جو میرے بھائی عمرو بن الحمق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے کہا: "جس مؤمن نے کسی مؤمن کو اس کے خون کی امان دی اور اسے قتل کر دیا تو میں اس کے قتل سے بری ہوں"

9: اس سے زیادہ قوی وہ روایت ہے جو صحیح مسلم میں بحوالہ اسماء بنت ابوبکرصدیق نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺ فرمایا ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک ظالم ہوگا۔

اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنھما نے کہا کہ جھوٹا مختار ھے ۔

10 مختار ثقفی نے محمد بن حنفیہ کے متعلق یہ دعویٰ بھی کیا کہ جو آخری زمانہ میں مہدی آئے گا وہ محمد بن حنفیہ ہی ہے ۔۔

یہ تفصیل الاصابہ فی تمیز الصحابہ از علامہ حافظ ابن حجر عسقلانی سے لی گئی ہے۔

11: حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنھایہ میں مختار کے حالات میں لکھتے ہیں کہ

  أَوَّلًا نَاصِبِيًّا يُبْغِضُ عَلِيًّا بُغْضًا شَدِيدًا

 ترجمہ: وہ پہلے ناصبی تھا  سیدنا علی سے شدید بغض رکھتا تھا 

12: مختار ثقفی صحابی رسول عبداللہ بن عمرؓ کا سالا تھا ، اس کے باوجود وہ مختار کو شیطان کا ساتھی قرار دیتے تھے ان کے برے کردار کی وجہ سے۔

 تفسیر ابن ابی حاتم 

 قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ

 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لابْنِ عُمَرَ: إِنَّ الْمُخْتَارَ يَزْعُمُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ. قَالَ: صَدَقَ فَتَلا هَذِهِ الآيَةَ: وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ.

ترجمہ: ابو اسحاق نے کہا کہ ابن عمر سے ایک بندے نے کہا 

کہ مختار  غلط فہمی میں ھے کہ اس پر وحی آتی ھے تو ابن عمر نے کہا سچ کہہ رہا ھے اور ساتھ یہ آیت بھی پڑھی کہ شیاطین اپنے ساتھیون پر وحی کرتے ھیں

13:  میزان اعتدال میں امام ذھبیؒ  نے مختار کے بارے میں لکھا ہے یہ کذاب ھے ایسے شخص کی روایت نقل کرنا ناجائز ھے کیونکہ یہ گمراہ شخص تھا اور لوگوں کو بھی گمراہ کرتا تھا یہ کہتا ہے حضرت جبرائیل ان پر نازل ہوئے تھے یہ حجاج سے بھی برا ہے۔

14:  طبقات ابن سعدؒ حصہ تابعین تبع التابعین میں عیسیٰ بن دینار موذن سے مروی ہے کہ میں نے ابوجعفر (والد حضرت جعفر رحمۃاللہ، حضرت باقر رحمۃاللہ، حضرت زین العابدین کے بیٹے) سے مختار کو دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ علی بن الحسین رحمۃاللہ کعبے کے دروازے پر کھڑے ہوئے مختار پر لعنت کررہے تھے، ان سے ایک شخص نے کہا کہ اللہ مجھے آپ پر فدا کرے، آپ اس پر لعنت کرتے ہیں حالانکہ وہ شخص آپ ہی لوگوں کے بارے میں ذبح کیا گیا۔ انہوں نے کہ کہ وہ بڑا جھوٹا تھا، اللہ اور اسکے رسول ﷺ پر جھوٹ بولا کرتا تھا۔

مختار الثقفی کذاب

(صحیح مسلم: 6496)

کتاب: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فضائل ومناقب

باب:قبیلہ ثقیف کا کذاب اور سفاک:

صفحہ 1 از 3