شیعہ حضرات کے نزدیک بھی تیمم دونوں ہاتھوں سے کیا جاتا ہے۔ چنانچہ خمینی صاحب لکھتے ہیں:
دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو اکٹھا ایسی چیز پر مارنا کہ جس پر تیمم کرنا صحیح ہے۔
(توضیح المسائل مترجم سید صفدر حسین النجفی: صفحہ113)
اور اسی قسم کی عبارت خمینی صاحب کی کتاب تحریر الوسیلہ (جلد1 صفحہ28) میں بھی ہے۔
اور شیعہ عالم حافظ بشیر حسین نجفی لکھتے ہیں: دونوں ہتھیلیوں کو اکٹھا ایسی چیز پر مارنا جس پر تیمم کرنا صحیح ہو۔
(توضیح المسائل: صفحہ185)
اور مختلف فتاویٰ جات کے حوالے سے شیعہ عالم السید منظور حسین نقوی نے جو کتاب لکھی ہے، اس میں لکھتے ہیں: اگر غسل کے بدلے تیمم ہو تو دو ضربی تیمم کرے۔ یعنی دو دفعہ ہاتھوں کو زمین پر مارے۔ ایک دفعہ دونوں ہاتھوں کو زمین پر مار کر پیشانی اور کنپٹیوں اور ابروؤں کا مسح کرے۔
(تحفۃ العوام: صفحہ72، 73)
اور شیعہ حضرات کے امام الشیخ طوسی لکھتے ہیں:
ثُمَّ يَضرِبُ بِبَاطِنِ كَفَّيهِ عَلَىٰ ظَاهِرِ الأَرضِ وَهُمَا مَبسُوطَتَانِ
(تہذیب الاحکام: جلد 1 صفحہ206)
ترجمہ: پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں کے باطنی حصے کو زمین کی سطح پر مارے، اس حال میں کہ دونوں ہتھیلیاں کھلی ہوئی ہوں۔ اب ہر معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والا اور عقلِ سلیم رکھنے والا آدمی جان سکتا ہے کہ اگر بایاں ہاتھ برتن میں ڈال کر اس میں پانی لے کر اس سے دایاں ہاتھ دھویا جا سکتا ہے، اور تیمم میں دونوں ہاتھ استعمال کیے جا سکتے ہیں، تو پھر چہرہ دھونے میں بائیں ہاتھ کے استعمال کو کیسے خلافِ فطرت کہا جا سکتا ہے؟ جبکہ شیعہ حضرات کی اصول کی کتابوں کے حوالے سے واضح کر دیا گیا ہے کہ امام نے حضورﷺ کے وضو کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ چہرہ دھوتے وقت دائیں ہاتھ میں پانی لے کر بائیں ہاتھ کی مدد سے چہرہ دھویا۔ اس لیے پروفیسر غلام صابر صاحب کا چہرہ دھوتے وقت بائیں ہاتھ کے استعمال کو خلافِ فطرت کہنا بالکل غلط ہے۔