شیعہ حضرات کے ابو جعفر الطوسی روایت نقل کرتے ہیں کہ علی بن رئاب نے کہا کہ میں نے ابو عبداللہ سے پوچھا: الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأسِ؟ قال: نَعَم قلتُ: فَإِذَا مَسَحتُ رَأسِی مَسَحتُ أُذُنَی قال: نَعَم
(الاستبصار: جلد1 صفحہ 64)
حاشیہ والے نے لکھا ہے کہ یہ روایت التہذیب: جلد 1 صفحہ18 میں بھی ہے۔
ترجمہ: کیا کان سر میں سے ہیں؟ تو فرمایا: ہاں۔ میں نے کہا: جب میں سر کا مسح کروں تو کانوں کا مسح بھی کروں؟ تو کہا: ہاں۔
شیعہ حضرات بے شک اس کی تاویل یہ کریں کہ یہ تقیہ کی وجہ سے کیا تھا، مگر اپنے آدمی کو مسئلہ بتانے میں تقیہ کا عذر بالکل فضول بات ہے۔