شیعہ حضرات کے طوسی روایت نقل کرتے ہیں کہ ابو عبداللہ سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے باقی سارا وضو کر لیا پھر اپنے پاؤں پانی میں ڈبو دیئے، تو کیا اس کا وضو جائز ہے؟
تو انہوں نے کہا: أَجْزَأَهُ ذَلِكَ یعنی اس کے لیے جائز ہے۔
(الاستبصار: جلد 1 صفحہ65 تہذیب الاحکام: جلد1 صفحہ 66)
اور روایت جس میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضورﷺ کے سامنے وضو کیا، تو اس روایت میں ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا:
وَغَسَلتُ قَدَمَی، فَقَالَ لِی: يَا عَلِی خَلِّل مَا بَينَ الأَصَابِعِ، لَا تُخَلِّل بِالنَّارِ
(تہذیب الاحکام: جلد1 صفحہ93 الاستبصار: جلد 1 صفحہ 66)
ترجمہ: اور میں نے اپنے دونوں پاؤں دھوئے، تو آپﷺ نے مجھ سے فرمایا: اے علی! انگلیوں کے درمیان خلال کرو، تاکہ آگ خلال نہ کرے۔
اس روایت میں تقیہ کا عذر بالکل فضول ہے، اس لیے کہ حضور اکرمﷺ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تعلیم دے رہے تھے اور حضرت علیؓ اس کے مطابق عمل کر رہے ہیں، تو ڈر اور خوف کس کا کہ تقیہ کا تصور کیا جا سکے۔
اور ایک روایت میں ہے کہ ایوب بن نوح کہتے ہیں کہ میں نے ابو الحسن کی جانب لکھا اور ان سے پاؤں پر مسح سے متعلق پوچھا، تو انہوں نے فرمایا:
الوُضُوءُ بِالمَسحِ، وَلَا يَجِبُ فِيهِ إِلَّا ذَلِكَ، وَمَن غَسَلَ فَلَا بَأسَ
(تہذیب الاحکام: جلد 1 صفحہ64 الاستبصار: جلد1 صفحہ 65)
ترجمہ: وضو میں واجب تو مسح ہی ہے اور جس نے پاؤں کو دھویا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اور ایک روایت میں ہے کہ ابو عبداللہ نے فرمایا:
وَإِن نَسِيتَ مَسحَ رَأسِكَ حَتى تَغسِلَ رِجلَيكَ، فَامسَح رَأسَكَ ثُمَّ اغسِل رِجلَيكَ
(فروع کافی: جلد 3 صفحہ35)
ترجمہ: اگر تو بھول کر سر کے مسح سے پہلے پاؤں دھو لے تو (یاد آنے پر) سر کا مسح کر اور پھر اپنے پاؤں دھو لے۔
جب شیعہ روایات میں بھی ان کے ائمہ سے پاؤں کا دھونا ثابت ہے، تو پروفیسر اور ان کے ہم نوا لوگوں کا پاؤں دھونے کی وجہ سے وضو کو باطل قرار دینا سراسر ہٹ دھرمی اور تعلیماتِ ائمہ کی خلاف ورزی ہے۔