شیعہ کتب میں بھی یہی نظریہ ملتا ہے کہ وضو باطل نہیں ہوتا۔ جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ حریزؒ سے وضو کے بارے میں پوچھا:
فَإِن جَفَّ الأَوَّلُ قَبلَ أَن أَغسِلَ الَّذِی يَلِيهِ
پس اگر آگے والے عضو سے پہلے خشک ہو جائے تو کیا کریں؟ تو کہا: جَفَّ أَو لَم يَجِفَّ اغسِل مَا بَقِی
(تہذیب الاحکام: جلد 1 صفحہ 88
الاستبصار: جلد1 صفحہ 72)
خواہ خشک ہو یا نہ ہو، باقی اعضاء کو دھو لے۔
اس لیے پروفیسر کا اس حالت میں وضو کو باطل قرار دینا بالکل غلط ہے۔