اعتراض نمبر 1 - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

اعتراض نمبر 1

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

زنِ ممتوعہ بھی ازواج میں شامل ہے زوجہ دو طرح کی ہوتی ہے ایک دائمی جس میں میراث، نفقہ و طلاق ہے اور ایک منقطع کہ جس میں یہ اوصاف نہیں ہوتے لیکن کہتے دونوں کو زوجہ ہی ہیں جیسے صلوٰۃ کئی طرح کی ہوتی ہے ایک وہ جس میں اذان، اقامت اور جماعت ہے، اور ایک وہ جس میں یہ اوصاف نہیں ہوتے لیکن دونوں کو صلوٰۃ ہی ہیں۔

(برہان المتعہ وغیرہ)

جواب: یہاں کہیں اللہ پاک نے لفظ زوجہ یا ازواج قرآنِ پاک میں استعمال کیا ہے، اس کے معانی منکوحہ یا منکوحات کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ ملاحظہ ہو:

1: يٰٓـاٰدَمُ اسۡكُنۡ اَنۡتَ وَزَوۡجُكَ الۡجَـنَّةَ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 35)

ترجمہ: اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔  

حضرت حوا جناب ابو البشر علیہ السلام کی زنِ منکوحہ تھیں، نہ کہ ممتوعہ کیونکہ وہ دائمی زوجہ تھیں، نہ کہ وقتی بیوی کہ ہر مقام پر ہر زن کے مطابق تبدیل ہوتی رہی ہوں۔

2: يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ الخ۔

(سورۃ الاحزاب: آیت 28)

ترجمہ: اے نبی! ﷺ اپنی عورتوں سے کہہ دو۔ الخ  

یہ امر متفق علیہ ہے کہ رسولِ کریم ﷺ کی پاک صحبت میں کوئی زنِ ممتوعہ نہ تھی جملہ ازواجِ مطہراتؓ بذریعہ نکاح ان کی زوجیت میں آئی تھیں شیعہ حضرات آنجناب کی کسی ایسی زوجہ کا نام پیش کریں جو صیغہ متعہ کے ذریعے زوجہ منقطعِ نبی ہو۔

3: زَوَّجۡنٰكَهَا الخ۔

(سورۃ الاحزاب: آیت 37)

ترجمہاَنۡنبیﷺ! ہم نے اس عورت کو تیری زوجہ بنا دیا ہے۔  

کیا حضرت زید رضی اللہ عنہ کی مطلقہ، ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا زنِ ممتوعہ تھیں؟ یا بذریعہ نکاح سلسلہ زوجیت میں آئی تھیں؟

4: اَنۡ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنۡ اَزۡوَاجٍ الخ۔

(سورۃ الاحزاب: آیت 52)

 ترجمہ: کہ اپنی زوجہ میں سے تبدیل کرو۔  

اس جگہ بھی رسول کریمﷺ کی منکوحات کا ہی ذکر ہے، نہ کہ ممتوعات کا جو کبھی آپ نے اپنے نفس پر حلال نہیں کیں۔

5: وَاَصۡلَحۡنَا لَهٗ زَوۡجَهٗ ‌الخ۔

(سورۃ الانبیاء: آیت 90)

ترجمہ: زکریا علیہ السلام کے لیے ہم نے اس کی بیوی کو درست کر دیا۔  

کیا حضرت زکریا علیہ السلام بھی آج کل کے بے ہودہ لوگوں کی طرح سفری بیویاں رکھا کرتے تھے؟ جن میں سے ایک کی خوشخبری جنابِ باری تعالیٰ سے نازل ہوئی ہے۔ 

ان سب مثالوں سے صاف عیاں ہوتا ہے کہ زوجہ جس کا ذکر قرآنِ کریم میں آیا ہے، اس کا اطلاق صرف منکوحہ پر ہی ہو سکتا ہے اور بیچاری ممتوعہ کسی طرح بھی ازواج کے زمرہ میں داخل نہیں ہو سکتی، خواہ روافض کے وضاعی دماغ لاکھ طرح کی تاویلیں اختراع کریں۔

جواب نمبر 2:فرقان حمید نے لوازماتِ زوجیت چار قرار دیے ہیں: میراث، طلاق، عدت اور نفقہ و ھذا تصریح بالترتیب۔

اما میراث:

اس کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 

وَلَـكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ اَزۡوَاجُكُمۡ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 12)

یہ تو سے سند نسبتِ توارث ہے فیما بین الفریقینِ نکاح اور سند نیست توارث فیما بین الا ولادیہ ہے:  

يُوۡصِيۡكُمُ اللّٰهُ فِىۡۤ اَوۡلَادِكُمۡ‌ لِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَيَيۡنِ‌ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 11)

ترجمہ: لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔

اس کے برعکس علمائے متعہ کا فتویٰ نسبتِ توریث اس طرح ہے:  

لَیسَ بَینَھُمَا مِیرَاثٌ اِشتُرِطَ اَو لَم یُشتَرط۔  

(فروع کافی: کتاب النکاح، باب المتعہ جلد2 صفحہ 193)

ترجمہ: فریقین متعہ کے درمیان میراث نہیں ہے خواہ اس کے متعلق شرط ہو یا نہ ہو۔

اما طلاق:

اگر زن و شوہر میں باہم نا اتفاقی رہتی ہو، یا کسی اور وجہ سے شوہر اپنی منکوحہ سے علیحدہ ہونا چاہے تو اسے حکم ہے کہ بذریعہ طلاق اسے علیحدہ کر دے: سَرِّحُوۡهُنَّ بِمَعۡرُوۡفٍ‌ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 231)

لیکن زنِ متعہ کی علیحدگی کے لیے طلاق کی ضرورت ہی نہیں ہے، کیونکہ انقطاعِ میعادِ متعہ ہی بمنزلہِ طلاق کے سمجھی جاتی ہے۔  

چنانچہ باقر مجلسی اپنی کتاب رسالہ فقہ کی کتاب الفراق میں لکھتے ہیں:  

پنجم آنکہ نکاح دائمی باشد پس واقع نشود طلاق در متعہ۔

اما عدت:

عدت کا حکم آیتِ کریمہ سے صاف ظاہر ہے:  

اِذَا طَلَّقۡتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوۡهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ الخ۔

(سورۃ الطلاق: آیت 1)

سے صاف ظاہر ہے اور مدت عدت طلاق کی صورت میں حائضہ کے لیے تین حیض:  

وَالۡمُطَلَّقٰتُ يَتَرَ بَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوۡٓءٍ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 228)

اور غیر حائضہ کی صورت میں تین ماہ مقرر ہے:

وَيَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا يَّتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 234)

بشرطیکہ کے وہ حاملہ نہ ہو جس صورت میں وضع حمل مدت عدت ہے:

وَاُولَاتُ الۡاَحۡمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنۡ يَّضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّ الخ۔

(سورۃ الطلاق: آیت 4)

اب فرقہ مخالفِ قرآن کی در افشانی ملاحظہ ہو: 

کافی الکلینی، جلد 2صفحہ 194 میں ہے: خمسۃ و اربعون یوما 

اور جامع عباسی میں ہے:  

اوئم زنا نیکہ ایشانرا بعقد متعہ دخول کردہ باشد بہ عدتِ ایشان دو مرتبہ از حیض پاک شدن است۔ 

اگر متعہ حکم شرعی ہے اور زنِ متعہ واقعی زوجہ شرعی ہے تو باوجود نصِ قطعی:

ثَلٰثَةَ قُرُوۡٓءٍ الخ۔

(سورۃ البقرہ: آیت 228)

ثَلٰثَةُ اَشۡهُرٍ الخ۔

(سورۃ الطلاق: آیت 4)

کے علمائے شیعہ کی اس تہافت و تخالف کی نجران کی دین فروشی کے اور کوئی وجہ نہیں معلوم ہوتی ثَلٰثَةُ کے لفظ سے بوجہ اس کے کہ یہ خلفاءِ ثلاثہؓ کی یاد دلانے والی ہے، ان کو طبعاً و ایماناً نفرت ہے۔

اما نفقہ:

نکاح کے بعد شوہر اپنی زوجہ کو گزارہ دینے کا ذمہ دار ہے۔  

قولہ وَّبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ‌ الخ۔

(سورۃ النساء: آیت 34)

پس بروئے قرآنِ مجید یہ لوازماتِ زوجین کے اجزاء لاینفک ہیں جو عورت ان لوازمات سے محروم ہے، اسے قرآنی اصطلاح میں ہم زوجہ نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ الشَّیءُ اِذَا ثَبَتَ ثبت بِلَوَازِمِہ۔

زوجہ کی دو قسمیں یعنی دائمی اور عارضی جو بیان کی گئی ہیں، اس کی سند قرآنِ کریم میں کہیں موجود نہیں ہے۔ 

اور یہ جو صلوٰۃ کی مثال دی گئی ہے کہ اس کا اطلاق نمازِ جنازہ پر بھی کیا گیا ہے، حالانکہ اس میں کوئی بھی رکنِ صلوٰۃ کا نہیں ہوتا اس کے مقابلہ پر ہم بھی ایک مثال "ولد" کی دیتے ہیں۔ 

اس کی دو قسمیں ہیں: ایک ولدُ النکاح اور دوسرا ولدُ الزنا مگر کہتے دونوں کو "ولد" ہی ہیں حالانکہ ولدِ الزنا میں نہ تو اثباتِ نسب ہی ہے اور نہ میراث۔

اگر زنِ ممتوعہ بھی اسی طرح ازواج کے زمرہ میں شامل ہے، جس طرح ولدِ الزنا، اولاد کے زمرہ میں شامل ہے تو چشم ماردشن ول ماشا کیونکہ ہمارا دعویٰ یہی ہے کہ زنِ ممتوعہ زانیہ ہے، جس طرح ولدُ الزنا حرامی ہے۔