اگر اس آیت کو متعہ پر محمول نہ کیا جائے تو نظم قرآنی میں خرابی پیدا ہوتی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تینوں نکاح بالترتیب بیان کیے ہیں:
اول: فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 23)
میں نکاح دائمی کا ذکر کیا ہے، اور پھر:
فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
نکاح متعہ کا، بعد اس کے:
فَمِنۡ مَّا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 25)
میں پھر لونڈیوں کے نکاح کا ذکر کیا ہے۔
(برہان المتعہ)
جواب: آیت فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 23)
جہاں خداوندِ کریم نے ایک طرف زیادہ سے زیادہ چار نکاح کرنے کی اجازت دی ہے اور دوسری طرف بصورت دیگر خوفِ اسقاطِ انصاف فَوَاحِدَةً کا حکم دیا ہے، وہاں ساتھ ہی یہ ارشاد فرمایا کہ ان کو دے دو:
صَدُقٰتِهِنَّ نِحۡلَةً الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 4)
ترجمہ: ان کے مہر خوشی سے۔
نکاح کرنے اور حق مہر دینے کے ان اجمالی احکام کے بعد اگر کوئی چیز اشد ترین ضروری ہے تو یہ ہے کہ ان امور کی مفصل تشریح ہو جائے کہ نکاح کیا جائے تو کن کن عورتوں سے اور کس طرح؟ اور اگر حق مہر دیا جائے تو کب؟ کن کن کی تشریح:
حُرِّمَتۡ عَلَيۡكُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 23)
سے لے کر:
وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
تک، اور کس طرح کی توضیح:
اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
میں کر کے اللہ تعالیٰ حق مہر کے متعلق مفصل حکم دیتا ہے:
فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
کہ اگر تم نے منکوحات سے مجامعت کر لی ہے تو ان کو پورا مہر مقرر کردہ ادا کر دو لیکن اگر باہم رضامندی سے کم و بیش کر لو تو جائز ہے۔
یہاں تک تو خدائے علیم نے کافة الناس کے لیے عام قاعدہ کلیہ مقرر کر دیا ہے جو ہر شخص پر اس کے معمولی حالات میں عائد ہوتا ہے لیکن اگر کوئی شخص غیر معمولی طور پر فلاکت زدہ ہے کہ وسعت آزاد عورت سے نکاح کرنے کی نہیں رکھتا، لیکن اسے ضرورت نکاح کی اس حد تک ہو کہ اگر وہ نکاح نہ کرے تو اسے اندیشہ ہو گناہ کر بیٹھنے کا
لِمَنۡ خَشِىَ الۡعَنَتَ مِنۡكُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 25)
تو ایسے استثنائی فرد کے لیے استثنائی حالات کے ماتحت اللہ پاک نے مسلمان لونڈی کے ہمراہ نکاح کرنے کی اجازت دی ہے لیکن اس اجازت کے ساتھ ہی یہ حکم بھی دے دیا ہے کہ اگر ایسا نہ کرو اور صبر کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے۔
اگر اغراض بحث کے لیے آیتِ کریمہ:
فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
کو عقدِ متعہ پر محمول کریں تو چونکہ متعہ شیعوں کے ہاں آزاد عورت سے بھی ہو سکتا ہے اور لونڈی سے بھی، اس لیے نظمِ قرآنی اس امر کی متقاضی تھی کہ نکاح حرہ کے بعد مملوکہ کا ذکر آتا اور پھر دونوں سے متعہ کا حکم دیا جاتا اور قرآن کی ترتیب عقدِ شرعیہ اس نہج پر ہوتی نکاح دائمی کرو آزاد عورت سے یا لونڈی سے، اور متعہ کرو آزاد عورت سے یا لونڈی سے موجودہ صورت میں تو ترتیب یہ ہے نکاح دائمی یا متعہ کرو آزاد عورت سے، اور نکاح دائمی کرو لونڈی سے، لیکن متعہ لونڈی سے خارج از حکم متعہ ہے جو عقائدِ شیعی کے بر خلاف ہے اندریں صورت اربابِ بصیرت اس امر کا فیصلہ کریں کہ خرابی نظم قرآنی میں شیعوں کی تاویل سے پیدا ہوتی ہے یا ہماری تاویل سے۔