قرآنِ کریم میں جہاں اللہ پاک عورتوں کے ساتھ مجامعت کی تحلیل کا ذکر کرتا ہے۔ وہاں لازماً اس تحلیل کو مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ الخ۔(سورۃ النساء: آیت 24)
کی شرائط سے مقید کرتا ہے چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
الف: وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمۡ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ الخ(سورۃ النساء: آیت 24)
ب: فَانْكِحُوۡهُنَّ بِاِذۡنِ اَهۡلِهِنَّ وَاٰتُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ مُحۡصَنٰتٍ غَيۡرَ مُسٰفِحٰتٍ الخ۔(سورۃ النساء: آیت 25)
ج: وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡـكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ اِذَاۤ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ مُحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ الخ۔(سورۃ المائدة: آیت 5)
ان آیات میں الفاظ احصان و اسفاح خاص طور پر غور کرنے کے قابل ہیں۔
احصان کے لغوی معنیٰ ہیں حفاظت، خواہ حفاظت الجسم یعنی حفاظتِ البدن من الجراحت ہو، یا حفاظتِ العصمت یعنی حفاظتِ الفرج من الفساد مقدم الذکر کی مثال قرآنِ حکیم میں:
وَعَلَّمۡنٰهُ صَنۡعَةَ لَبُوۡسٍ لَّـكُمۡ لِتُحۡصِنَكُمۡ مِّنۡۢ بَاۡسِكُمۡ الخ۔(سورۃ الانبیاء: آیت 80)
ترجمہ: ہم نے انہیں زرہ کی صنعت سکھلائی تاکہ ضرر سے محفوظ رہیں۔
اور مؤخر الذکر کی مثال:
وَالَّتِىۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَهَا الخ۔(سورۃ الانبیاء: آیت 91)
ہے بلکہ منکوحہ عورت کو محصنہ ہی کہا گیا ہے: قولہ تعالیٰ وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَـكَتۡ الخ(سورۃ النساء: آیت 24)
ترجمہ: اور شوہر والی عورتیں حرام ہیں سوائے ان کے جو تمہاری ملک ہو جائیں۔
کیونکہ نکاح کے سوا حفاظتِ الفرج من الفساد ہو ہی نہیں سکتی۔
اسفاح کے لغوی معنیٰ ہیں سیال چیز کا گرانا، بہانا یا پھینکنا جیسا کہ قرآنِ کریم کی اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے:
اَوۡ دَمًا مَّسۡفُوۡحًا الخ۔(سورۃ الانعام: آیت 145)
ترجمہ: یا بہنے والا خون۔
پس اسفاح بالکل زنا کے مترادف ہے کیونکہ:
الزِّنَاءُ سَفَاحٌ لِاَنَّ لَا غَرَضَ الزَّانِی اِلَّا سَفۡحِ النُّطۡفَةِ۔
ترجمہ: زنا اسفاح ہی ہے کیونکہ زانی کی غرض صرف پانی نکالنے کے اور ہوتی ہی نہیں۔
علاوہ ازیں کافی جلد 2 کتاب اول کے صفحہ 251 پر الفرق بين النكاح و السفاح و الزناء کے عنوان کے تحت میں زنا کو اسفاح ہی کہا گیا ہے:
کُلُّ زِنًا سِفَاحٌ وَلَیْسَ کُلُّ سِفَاحٍ زِنًا لان معنى الزنا فعل حرام من کل جھتہ لیس فیہ شئ من وجہ الحلال وانما السفاح الذی هو من وجہ النکاح مثوب بالحرام یعنی نکاح حرام منسوب الى الحلال نظیر الذی یتزوج ذوات المحارم التى ذكر الله فى كتابه والذی یتزوج المحصنة التى لها زوج یعلم۔
ترجمہ: ہر ایک زنا اسفاح ہے مگر ہر ایک اسفاح زنا نہیں ہے زنا کا معنیٰ وہ فعلِ حرام ہے جس میں کوئی وجہِ حلال کی نہ ہو اور ہر طرح سے حرام ہی حرام ہو لیکن اسفاح ایک قسم کا نکاحِ حرام ہے اور مثال اس کی ایسی ہے جیسے کوئی شخص ان محرمات سے نکاح کرے جن کا ذکر اللہ نے قرآن میں کیا ہے یا دیدہ و دانستہ شوہر والی منکوحہ عورت سے نکاح کرے وغیرہم۔
یہ صرف لفظی فرق ہے عملاً زنا اور اسفاح میں کوئی فرق نہیں ہے بلکہ ایک طرح سے اسفاح زنا سے بھی بدتر ہے کیونکہ اس میں محرماتِ ابدیہ یعنی ماں بہن سے نکاح کا بھی شمار ہوتا ہے۔
ان معانی کے لحاظ سے مُحۡصِنِيۡنَ مترادف ہے متزوجین کا اور مُسَافِحِيۡنَ مترادف ہے زانین کا اور بعینہٖ انہی معنوں میں یہ الفاظ شیعیوں کی کتبِ احادیث میں استعمال ہوئے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مرد و زن کی مقاربت میں کونسی صورت ایسی ہے جس پر احصان اور عدمِ اسفاح کا اطلاق ہو سکتا ہے؟ یہ صورت بعد میں حاصل ہو سکتی ہے جہاں مرد عورت کو خالصۃً اپنے لیے مخصوص کر لے اور اس کی نیت ایسا کرنے سے حصولِ اولاد اور حمایتِ ناموس ہو۔
اور یہی ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
نِسَآؤُكُمۡ حَرۡثٌ لَّـكُمۡ الخ۔(سورۃ البقرہ: آیت 223)
ترجمہ: تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں یعنی ان سے اولاد کی پیدا داری مقصود ہے۔
اور هُنَّ لِبَاسٌ لَّـكُمۡ الخ۔ (سورۃ البقرہ: آیت 187)
ترجمہ: تمہاری عورتیں تمہارا لباس ہیں یعنی تمہارے ناموس کی محافظ ہیں۔
پس زنِ ممتوعہ میں احصان تو یقیناً نہیں ہوتا اور اسفاح تو ایک بدیہی امر ہے کیونکہ متعہ کی غرض خاص ہی پانی نکالنا ہے نہ کہ حفظِ خانہ داری، اخذِ ولد یا حمایتِ ناموس۔
آیاتِ مخولہ بالا سے یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ عینِ نکاح کرنے کی حالت میں بھی کہ جس کی غرض و غایت ہی بقاءِ نسلِ انسانی و حمایتِ ناموس ہے اللہ تعالیٰ نے بالخصوص یہ تاکید فرمائی ہے کہ نکاح میں بھی تمہاری نیت احصان کی ہو نہ کہ اسفاح کی تو کس طرح ممکن ہے کہ خداوندِ علیم نے متعہ کو بھی حلال کیا ہو جس میں احصان ایسے ہی مفقود ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ اور اسفاح اسی طرح موجود ہے جس طرح لومڑی کے سر پر شہوت کا بھوت۔