صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی لغزشیں اور جمہور امت…

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی لغزشیں اور جمہور امت کا موقف

  محمد معاویہ سعدی

عصمت یقیناً انبیائے کرام یا ملائک علیہم السلام کی خصوصیت ہے ان کے علاوہ کوئی بھی فردِ بشر لغزش کے امکانات سے محفوظ نہیں مگر یہ خطا اور لغزش جس کی جناب میں صادر ہو رہی ہے جب وہی معاف کرنے کے لیے تیار ہے اسی کی طرف سے رضا و خوشنودی کا پروانہ عطا ہو رہا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں اس پر اعتراض کرنے والے؟

1: سیدنا حاطب بن ابی بلتعہؓ سے بظاہر اتنی بڑی غلطی سرزد ہوئی کہ انہوں نے فتح مکہ کے موقع پر مسلمانوں کے جنگی راز کو افشاء کرنے کی کوشش کی جرم پکڑا گیا اقبال بھی فرما لیا سیدنا عمرؓ نے بے اختیار اٹھ کر گردن مارنے کی اجازت طلب کی مگر رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ:

هَـٰؤُلَاءِ أَهْلُ بَدْرٍ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ۔ (بخاری: 3983، مسلم: 2494) 

ترجمہ:اے اہلِ بدر جو چاہو کرو اللہ تعالیٰ تمہارے سب گناہ معاف فرما چکا ہے۔

2: سیدنا ماعز الاسلمیؓ اور ایک غامدیہ صحابیہؓ سے از راہِ بشریت زنا کا گناہ سرزد ہو گیا تھا خود ہی آ کر بارگاہِ نبوت میں باصرار اقرار و اعتراف فرمایا اور نتیجتاً سنگسار کر دیے گئے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زبان سے ان کے بارے میں کوئی سخت جملہ نکل گیا رسول اللہﷺ کو پتہ چلا آپ نے سختی سے نکیر فرمائی اور حضرت ماعز الاسلمیؓ کے بارے میں ارشاد فرمایا:

لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ(ابو داودؒ جلد 2 صفحہ 608)  

اور غامدیہ صحابیہؓ کے بارے میں ارشاد ہوا:

لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ۔ (ابو داودؒ جلد  2 صفحہ  609)  

ترجمہ: کہ ان دونوں نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر یہ توبہ ایک پوری قوم اور نسل پر بھی تقسیم کی جائے تو سب کے لیے کافی ہو جائے۔ 

اور ایک روایت میں حضرت ماعزؓ سے متعلق یہ بھی اضافہ ہے کہ وہ اس وقت جنت کی نہروں میں غوطہ زن ہیں (سبحان اللہ)

3: عبد اللہ نام کے ایک صحابی ہیں اُن کو اُن کی ظریفانہ اور پر لطف عادات کی وجہ سے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپس میں حمار کہا کرتے تھے ان کو شراب کی عادت تھی چھوٹ نہیں رہی تھی بار بار بارگاہِ رسالت میں لائے جاتے کوڑے لگتے مگر وہ عادت نہیں گئی ایک صحابی نے جذبات میں آ کر ان پر لعنت بھیج دی آپﷺ نے سنا فوراً ہی تنبیہ فرمائی اور ارشاد فرمایا:  

جہاں تک میں جانتا ہوں یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ (بخاری: جلد 2 صفحہ  1002)

انسان سے غلطی کا ہو جانا یہ کوئی مستبعد امر اور قابلِ تعجب بات نہیں دیکھنے کی اہم چیز یہ ہوتی ہے کہ غلطی کرنے والا انسان ہے کون پھر اُس نے اپنی غلطی کا تدارک کیسے کیا ہے اسی سے اس کا مرتبہ پہچانا جاتا ہے۔ 

كُلُّكُمْ خَطَّاءٌ وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ 

ترجمہ: خطا تو تم سب ہی سے ہوتی ہے مگر بہترین خطا کار وہ ہیں جو توبہ بھی کر لیتے ہیں۔ (ترمذی: 2499، ابنِ ماجہ: 4251) 

پھر کس کی توبہ کیسی ہو رہی ہے اور اللہ تعالیٰ کو کتنی پسند آ رہی ہے اس کا تعلق دوسروں سے ہے ہی نہیں۔

صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے ہاں بتقاضائے بشریت غلطیوں کے انہی امکانات کی بناء پر بعد والوں کو تعلیم دی گئی ہے کہ اُن کے لیے اور اپنے لیے یہ دعا کیا کرو:

رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ۞  (سورۃ الحشر: آیت 10)  

ترجمہ: اے ہمارے رب مغفرت فرما دیجیے ہماری بھی اور ہمارے اُن بھائیوں کی بھی جو ایمان کے ساتھ ہم سے پہلے گزر چکے اور نہ رکھیے کھوٹ ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے اے رب آپ تو بڑے مہربان اور رحم والے ہیں۔