اگر اس آیت کو نکاحِ مطلق کے متعلق مانا جائے تو ایک ہی صورت میں دو دفعہ ایک ہی حکم کا صدور ماننا پڑے گا۔ رفعِ تکرار ضروری ہے، لہٰذا یہ آیت متعہ کی نسبت ہے۔
جواب: یہ بھی بالکل باطل ہے، کیونکہ آیت:
فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 3)
میں استمتاع کی قید اور کل مہر کا دینا مذکور نہیں وہاں صَدُقٰتِهِنَّ نِحۡلَةً الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 4)
اور یہاں:
اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
ہے ان دونوں آیتوں کو ہم معنیٰ قرار دینا اگر حماقتِ مطلق نہیں تو کیا ہے؟
اور اگر اس کو خیال کیجیے کہ کلامِ مقید میں حکم قید پر ہوتا ہے، تو اور بھی مطلب صاف ہو جاتا ہے۔ کہ پہلی آیت میں نِحۡلَةً قید واقع ہے اور سوقِ کلام بھی اس کے لیے ہے۔ دوسری آیت میں فَرِيۡضَةً قید واقع ہے اور سوقِ کلام بھی بیانِ ادائے فریضہ یعنی مہرِ کامل کے لیے ہے۔
نیز پہلی آیت کے مخاطب اولیاءِ زوجہ ہیں اور دوسری میں بالاتفاق ازواج۔
پہلی آیت میں اولیاءِ زوجہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ ان کے وصول کردہ مہروں میں تعرض نہ کریں۔ اگر عورتیں خود خوشی سے کچھ ان کو دے دیں تو وہ ان کا حق ہے۔
اور دوسری میں مقررہ مہروں کی کمی بیشی کے متعلق حکمِ خداوندی ہے:
وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا تَرٰضَيۡـتُمۡ بِهٖ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡـفَرِيۡضَةِ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
کیونکہ تراضی طرفین کی وہیں ضرورت ہوتی ہے جہاں کہیں دو شخصوں میں کوئی معاملہ ہے۔ اور ولیِ زوجہ کا مہر کے درمیان کوئی معاملہ ہی نہیں جس میں تراضی کی حاجت ہو۔
ہر چند یہ آیت جسے شیعہ حضرات اباحتِ متعہ میں پیش کرتے ہیں، بنفسِہ ہی حرمتِ متعہ کو ثابت کرتی ہے۔ لیکن لفجواۓ بدر انجانہ یا یرد سانید۔ قرآنِ کریم کی دیگر آیات سے حرمتِ متعہ کی تصدیق اور اباحتِ متعہ کے تغلیظ کے لیے استدلال اخذ کیے جاتے ہیں۔
دلیل دوم: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۞الَّذِيۡنَ هُمۡ فِىۡ صَلَاتِهِمۡ خَاشِعُوۡنَ ۞وَالَّذِيۡنَ هُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ ۞ وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِلزَّكٰوةِ فَاعِلُوۡنَ ۞وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِفُرُوۡجِهِمۡ حٰفِظُوۡنَ ۞اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَ ۞فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ ۞
(سورۃ المؤمنون: آیت1 تا 7)
ترجمہ: تحقیق مراد والے اپنی مراد کو پہنچ گئے۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ مگر اپنی عورتوں اور اپنی لونڈیوں کے ساتھ، کہ ان میں ان کو کچھ الزام نہیں ہے۔ لیکن ان کے علاوہ جو کسی اور کے طلبگار ہوں تو وہی لوگ حدود سے باہر نکلے ہوئے ہیں۔
اس آیت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سوائے منکوحات و مملوکات کے اور کسی عورت کے سامنے ہمیں اپنی شرمگاہوں کی حفاظت سے دستبردار ہونا لازم نہیں ہے۔ اور جو اس کے خلاف عمل کرے وہ خدا کا باغی ہے۔
اس آیتِ کریمہ میں:
فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰلِكَ الخ۔
(سورۃ المؤمنون: آیت 7)
بالخصوص غور طلب ہے یہی ایک فقرہ حرمتِ متعہ کے لیے ناقابلِ تردید سند ہے اس فقرے میں فاء تعقیب بطورِ تفریع کے استعمال ہوا ہے اور چونکہ یہ من اسمِ موصول پر لگا ہوا ہے، اس لیے جملہ ما بعد کہ جو فرع ہے، اپنے جملہ ماقبل سے جو اس کا اصل ہے مربوط کرتا ہے۔
ذٰلِکَ اسمِ اشارہ مفرد ہے جس کا مشارٌ الیہ بالحاظِ معنیٰ کے وہ کام ہے جس کا ذکر قبل آ چکا ہے یعنی حفاظتِ فرج از زنان بغیر ازواج و مملوکات۔
بس اس فقرے کے معنیٰ یہ ہوئے کہ جو شخص اپنی منکوحات و مملوکات کے علاوہ کسی اور عورت سے مقاربت کرتا ہے، وہ یقیناً شرعی حدود کو توڑنے والا ہے جس کی سزا مطابق حکمِ باری تعالیٰ:
وَمَنۡ يَّتَعَدَّ حُدُوۡدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ۞
(سورۃ البقرہ: آیت 229)
ہے اور الظّٰلِمُوۡنَ کی سزا سوائے جہنم کے اور کیا ہو سکتی ہے۔