آیتِ ھذا میں بمجرد ابتغاء بالمال استمتاع مذکور ہے اور بعد ازاں اللہ تعالیٰ حکم فرماتا ہے کہ بعد استمتاع اجرتِ مقررہ ان کو دے دو اور یہ اس امر پر دال ہے کہ بمجرد ابتغاء بالمال جماع جائز ہے۔ اور یہ صورت صرف عقدِ متعہ ہی مقصود ہے کیونکہ نکاحِ دائم میں یہ حالت یعنی جماع بمجرد ابتغاء، بحال درست نہیں نکاحِ دائم بغیر حاضری گواہ و اجازتِ ولی کے منعقد نہیں ہو سکتا اور بغیر عقد کے جماع جائز نہیں پس ثابت ہوا کہ اس آیت کو نکاحِ دائم سے کوئی تعلق نہیں بلکہ متعہ ہی سے متعلق ہے۔
جواب:یہ اعتراض تو بالکل بے معنیٰ اور سرے سے بے ربط ہے بلکہ مذہب کے بھی مخالف ہے۔ کیونکہ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس آیتِ کریمہ میں مجرد ابتغاء بالمال مذکور ہے: بلکہ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ الخ۔
(سورۃ النساء: آیت 24)
میں چار شرطیں بیان کی گئی ہیں۔
اول: ابتغاء یعنی زبان سے ایجاب و قبول کرنا اگرچہ لغتاً اس لفظ کے معنیٰ مطلق طلب کے ہیں مگر طلبِ منویہ تو بالاتفاق معتبر نہیں علاوہ ازیں مال کا مقابلہ اسی عقد باللسان کو مقتضی ہے کیونکہ لین دین کا معاملہ بلا گفتگو اور بدون تراضیِ طرفین طے نہیں ہو سکتا۔
دوم: مال یعنی مہر و نفقہ دینا منظور ہو۔
سوم: ارادہِ احصان یعنی تزوج مقصود ہو۔
چہارم: نفیِ سفاح یعنی نفسِ قضائے شہوت مقصود نہ ہو۔
پس ان دلائل کی رو سے آیتِ کریمہ کو مجرد ابتغاء بالمال میں منحصر سمجھنا بالکل غلط ہے یہی وجہ ہے کہ ابتغاء بالمال کے بعد مُّحۡصِنِيۡنَ بڑھایا گیا کیونکہ مجرد ابتغاء بالمال تو زنا میں بھی ہوتا ہے بازاری رنڈی بھی تو سوائے روپے کے اور کیا چاہتی ہے۔
پھر تاکید غیر مُسَافِحِيۡنَ سے فرمائی یعنی مال خرچ کرنے سے شہوت رانی مقصود نہ ہو جیسا کہ زنا میں ہوتا ہے اگر بغور دیکھا جائے تو ان دو قیدوں سے متعہ و زنا دونوں باطل ہو گئے کیونکہ متعہ سے ثبوتِ احصان نہ ہونا مسلمہ شیعان ہے علامہ مجلسی رسالہ متعہ کے فصلِ جدود میں لکھتے ہیں: محۡصن کے است کہ اور افرج حلال باشد دائمی یا بملک کہ صبح و شام باوتوان رسید اگر نکاح متعہ داشتہ باشد موجب احصان نیست۔
اور تقریرِ سابق سے بمجرد ابتغاء بالمال جوازِ جماع بھی باطل ہو گیا کیونکہ یہ بات تو فقط زنا میں متصور ہے۔
یہ کہنا بھی باقاعدہ شیعان غلط ہے کہ نکاحِ دائم بغیر چار گواہاں و اجازتِ ولی نہیں ہو سکتا کیونکہ باقر مجلسی کے رسالہ فقہ کے باب النکاح میں ہے: شرط نیست گواہ در ہیچ نکاح پس اگر پنہاں کنند و آنرا پوشیدہ وارند صحیح باشد اور ثابت نیست ولایتِ ایشان بر زنانِ بالغ رسیدہ و اگرچہ بکر باشند۔