پروفیسر غلام صابر لکھتے ہیں: جب عربوں نے دوسرے ممالک کو فتح کیا اور غیر عرب یعنی عجم کے لیے قرآن خوانی میں دقتیں پیدا ہوئیں تو حجاج بن یوسف ثقفی کے دور میں قرآن پر اعراب لگائے گئے۔ اس لیے قرآن کے اعراب اور قرآن کی قرأت کے بارے میں علماء کا اختلاف رہا ہے۔ (صفحہ، 30)
پھر آگے پروفیسر صاحب سوالیہ انداز میں لکھتے ہیں: قرآن کی قرأت کا اختلاف حضورﷺ کے انتقال کی کتنی دیر بعد ہوا؟ (صفحہ، 33)
پروفیسر نے یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ قرأت کا اختلاف حضورﷺ کے انتقال کے بعد، بالخصوص حجاج بن یوسف کے قرآن کریم پر اعراب لگانے کی وجہ سے ہوا ہے۔ حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ اس لیے کہ قرأت کا اختلاف تو حضورﷺ نے خود بتلایا۔ جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت کہ سیدنا ہشام بن حکیمؓ کو میں نے ایسے انداز سے نماز پڑھتے دیکھا جس انداز سے حضورﷺ نے مجھے نہیں سکھایا تھا۔ تو میں اس کو پکڑ کر حضور اکرمﷺ کے پاس لے گیا۔ تو آپﷺ نے حضرت ہشامؓ سے فرمایا: تم پڑھو، کیسے پڑھ رہے تھے؟ جب انہوں نے پڑھ کر سنایا تو آپ نے فرمایا: هٰكَذَا أُنزِلَت یہ تو اسی طرح اتارا گیا ہے۔ پھر مجھے فرمایا: تم پڑھو۔ تو میں نے اسی طرح پڑھ کر سنایا جس کے مطابق آپﷺ نے مجھے تعلیم دی تھی، تو آپﷺ نے فرمایا: هٰكَذَا أُنزِلَت یہ تو اسی طرح اتارا گیا ہے۔
پھر آگے فرمایا: "إِنَّ القُرآنَ أُنزِلَ عَلَى سَبعَةِ أَحرُفٍ، فَاقرَؤُوا مَا تَيَسَّرَ مِنهُ
(بخاری: جلد1 صفحہ326 ترمذی: جلد 2 صفحہ 118)
ترجمہ: بے شک قرآن کریم سات قرأتوں میں اتارا گیا ہے، جو آسان لگے اس میں پڑھو۔
اس روایت سے واضح ہو گیا کہ جو قرأتیں مشہور ہیں، ان قرأتوں میں اختلاف حضورﷺ کے عہدِ مبارک میں بھی تھا اور ان میں سے ہر ایک کے مطابق پڑھنے کی اجازت تھی۔
منکرینِ حدیث احادیث پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حدیث کی کتابیں تو حضور اکرمﷺ کے انتقال کے بہت عرصہ بعد لکھی گئیں، اس لیے ان کا کیا اعتبار ہے؟
ان کے جواب میں علماء کرام نے فرمایا کہ جو روایات حدیث کی کتابوں میں محدثین کرام نے لکھی ہیں، تو کیا وہ لکھنے سے پہلے نہ تھیں؟ جب حضورﷺ کے زمانے سے نقل ہوتی ہوتی کتابیں لکھنے والوں تک پہنچ گئیں اور لکھنے والوں نے کتابیں لکھ دیں، تو اس لکھنے کی وجہ سے احادیث پر اعتراض تو نری حماقت ہے۔
اسی طرح ہم پروفیسر سے گزارش کرتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہے کہ یہ قرآن کریم پر اعراب حجاج بن یوسف کے دور میں لگائے گئے ہیں۔ مگر ان اعراب کے مطابق قرآن کریم کی تلاوت کیا اعراب لگانے سے پہلے قرآن کریم کی تلاوت نہیں ہوتی تھی؟ اگر ہوتی تھی، اور یقیناً ہوتی تھی۔ اور یہی معروف و مشہور قرأت تھی، تو (اعراب اسی دور میں لگتے یا بعد میں لگتے یا بالکل ہی نہ لگتے) اس سے پہلے سے جاری قرأت کے مطابق قرأت پر اعتراض کیسے ہو سکتا ہے؟ اعتراض کا یہ انداز تو سراسر منکرینِ حدیث کے انداز جیسا ہے۔