Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ہجرت

  علی محمد محمد الصلابی

جب صبح ہوئی تو حضرت علیؓ اپنے بستر سے اٹھے، محاصرہ کرنے والوں نے حضرت علیؓ کو پہچان لیا اور انھیں یقین ہوگیا کہ رسول (ﷺ) خود کو بچا لے گئے، تو انھو ں نے حضرت علیؓ سے پوچھا: تمھارا ساتھی کہاں گیا؟ حضرت علیؓ نے جواب دیا: میں نہیں جانتا، کیا میں ان کی نگرانی کر رہا تھا؟ تم لوگوں نے انھیں نکل جانے کو کہا تو وہ نکل گئے۔ حضرت علیؓ کے اس جرأت مندانہ جواب سے وہ سب سکتے میں آگئے اور کڑی نگرانی کے باوجود درمیان سے نبی کریمﷺ کے نکل جانے پر غصے سے تلملا اٹھے، ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا تھا، وہ آپ کو دیکھ نہ سکے تھے، بالآخر حضرت علیؓ کو جھڑکنے اور مارنے لگے، گھسیٹ کر مسجد حرام تک لے گئے، ایک گھنٹہ قید میں رکھا اور پھر چھوڑ دیا۔

(تاریخ الطبری: جلد 2 صفحہ 374)۔

سیدنا علیؓ نے اللہ کے راستہ میں سب مصائب کو برداشت کیا، ان کے نزدیک رسول اللہﷺ کی سلامتی و نجات کی خوشی ہر مصیبت پر بھاری رہی، آپ پیچھے نہیں ہٹے، اور نہ ہی رسول کی پناہ گاہ کے بارے میں کسی کو مطلع کیا، پھر آپ مکہ کی آبادی میں چلے گئے، اور گلیوں و گزرگاہوں پر چل چل کر لوگوں کو وہ امانتیں واپس دے رہے تھے جسے واپس کرنے کی خاطر رسول اللہﷺ نے ان کو اپنے پیچھے چھوڑا تھا، چنانچہ جس جس کی جو امانت تھی

آپ نے اُسے اس تک پہنچا دیا۔ اس طرح رسولﷺ کے ذمہ سے امانتوں کا بوجھ ہٹ گیا اور پھر تین دن مکہ میں گزارنے کے بعد حضرت علیؓ سفر ہجرت کی تیاری میں لگ گئے، تاکہ جلد ہی رسولﷺ کے ساتھ ہوجائیں۔

(تاریخ الطبری: جلد 2 صفحہ 382) البدایۃ والنہایۃ: 7 صفحہ 335، جولۃ تاریخیۃ: صفحہ 424)

بہرحال آپ نے ہجرت کاسفر جاری رکھا، دن میں روپوش رہتے اور جب رات اپنی سیاہ چادر پھیلاتی تو سفر شروع کردیتے، اس طرح چلتے چلتے مدینہ پہنچ گئے، چلنے سے دونوں پاؤں پھٹ چکے تھے۔ (الکامل: جلد 2 صفحہ 106)

دوران سفر آپ نے کافی تکلیف اٹھائی، کوئی سواری نہ تھی جس پر سوار ہوجاتے، دن میں چل نہ سکتے تھے کہ سخت گرمی پڑتی تھی، رات میں چلتے بھی تو وہ بھی دہشت بھری تاریکی اور تنہائی کا خوف، مزید براں پاپیادہ اور کوئی مونس و ہمسفر نہیں، ہم بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں کہ کتنا پرپیچ راستہ، کلفتوں بھرا سفر اور مجسم غم و الم کی تنہائی رہی ہوگی، لیکن ان تمام رکاوٹوں اور صعوبتوں کو بس ایک ہی شعور و احساس نے آسان بنا دیا تھا کہ میں سب کچھ محض اللہ کی رضا کے لیے کر رہا ہوں اور بالآخرعنقریب رسولﷺ سے جاملوں گا، مدینہ میں آپ کا پڑوسی بن کر امن و اطمینان سے لطف اندوز ہوں گا، چنانچہ برابر راستہ طے کرتے رہے اور مدینہ پہنچ کر بنوعمرو بن عوف کے یہاں ہو کر کلثوم بن الہدم کے یہاں گئے جہاں اللہ کے رسولﷺ قیام پذیر تھے۔

(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 22، سیرۃ ابن ہشام: جلد 2 صفحہ 129، ابن ہشام نے اس کو بلاسند نقل کیا ہے۔)

اس طرح امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی رودادِ ہجرت، قربانی، فدائیت، صبر و تحمل اور شجاعت و بےباکی کی ایک زندہ مثال ہے۔ قدومِ مدینہ کے وقت قبا میں اقامت کے دوران آپ نے ایک بیوہ عورت کو دیکھاجس کے گھر کافی رات گزرنے کے بعد ایک آدمی آتا ہے اور دروازہ کھٹکھٹاتا ہے، وہ گھر سے باہر نکلتی ہے، آنے والا شخص اپنے ساتھ لائی ہوئی کوئی چیز اسے دیتا ہے اور وہ اسے لے لیتی ہے واقعہ کی تفصیل بزبان علیؓ سنیے: میں نے اجنبی بن کر خفیہ طریقہ سے اس شخص کے بارے میں جاننا چاہا، میں نے عورت سے پوچھا: اے اللہ کی بندی! وہ کون ہے جو تمھارے پاس ہر رات آتا ہے، تمھارا دروازہ کھٹکھٹاتاہے اور تم باہر آتی ہو، پھر وہ تمھیں کوئی چیز دیتا ہے، میں نہیں جانتا وہ کیا چیز ہوتی ہے؟ حالانکہ تم ایک بیوہ عورت ہو، اس نے جواب دیا: وہ سہل بن حنیف بن وہب ہیں، انھیں میرے بارے میں معلوم ہے کہ میں بیوہ ہوں، جب شام ہوتی ہے تو اپنی قوم کے بتوں کی خبر لیتے ہیں، انھیں توڑ دیتے ہیں، اور پھر میرے پاس لاتے ہیں اور کہتے ہیں لو انھیں ایندھن بنا لو، حضرت علیؓ یہ سن کر اسی دن سے سہل بن حنیف سے ایسے متاثر ہوئے کہ انھیں اپنا قریبی ساتھی بنا لیا، یہاں تک کہ آپ کے پاس ہی عراق میں ان کی وفات ہوئی۔

(محمد رسول اللہﷺ: صادق عرجون: جلد 2 صفحہ 421)

اس واقعہ میں ہمہ وقت چاق و چوبند اور بیدار مغز رہنے کی تصویر جھلک رہی ہے، جو ہر مسلمان کے اندر موجود ہونا چاہیے اور اسے اپنے گرد و پیش کی خبر رکھنا چاہیے، غافل نہیں ہونا چاہیے۔