اداری امور میں
علی محمد محمد الصلابیجب ملکی امور کو منظم کرنے کے لیے حضرت عمرؓ کو ایک سرکاری تاریخ مقرر کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو آپ نے لوگوں کو جمع کر کے مشورہ کیا کہ کس دن سے ہم اپنے سن کی بنیاد رکھیں؟ سیدنا علیؓ نے مشورہ دیا کہ جس دن اللہ کے رسولﷺ نے ہجرت کی، اور سرزمین شرک کو چھوڑا تھا، چنانچہ حضرت عمرؓ نے ایسا ہی کیا۔
(التاریخ الکبیر: البخاری: جلد 1 صفحہ 9)۔
سیدنا علیؓ کے بارے میں سیدنا عمر فاروقؓ کا اعتماد تھا کہ آپ لوگوں کی سب سے بہترین قیادت کر سکتے ہیں، چنانچہ ایک مرتبہ آپ کسی انصاری سے پست آواز میں باتیں کر رہے تھے، دورانِ گفتگو اس سے پوچھا: میرے بعد تم لوگ کسے خلیفہ بنانے کے لیے سوچ رہے رہو؟ انصاری نے چند مہاجرین کا نام لیا اور حضرت علیؓ کا نام نہیں لیا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: علی کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے؟ اللہ کی قسم! اگر تم لوگ انھیں خلیفہ بنادو تو وہ تمھیں حق پر کھڑا رکھیں گے، اگرچہ تم اسے ناپسند کرو۔
(خلافۃ علی بن أبی طالب: عبدالحمید: صفحہ 76) بعض محققین نے اس روایت کو مرسل کہا ہے۔
اور اپنے اوپر قاتلانہ حملہ کے بعد اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر سے کہا: اگر لوگوں نے لمبی زلفوں والے (یعنی علیؓ) کو خلافت سونپ دی تو انھیں سیدھے راستہ پر رکھے گا۔
(بغیۃ الباحث عن زوائد مسند الحارث: تحقیق حسین أحمد: جلد 3 صفحہ 41 اس کی سند صحیح ہے۔ خلافۃ علی بن أبی طالب: دیکھیے 76)۔
