خواجہ قمر الدین سیالوی کی نظر میں حدیث غدیر
ارسلان احمد اصمعی قادریخواجہ قمر الدین سیالوی رحمۃاللہ کی نظر میں حدیث غدیر
حضرت خواجہ قمر الدین سیالوی رحمۃاللہ حدیث غدیر پر لکھتے ہیں :
" اسی طرح یہ بھی ابلہ فریبی ہے کہ حضرت علیؓ کی خلافت بلافصل کی دلیل میں خم غدیر کی روایت پیش کی جاتی ہے کہ حضور اقدسﷺ نے حضرت علی کے متعلق فرمایا: کہ
من کنت مولاہ فعلی مولاہ
(یعنی جن کا میں دوست ہوں علی بھی ان کے دوست ہیں ) ظاہر ہے کہ قرآن کریم میں مولیٰ بمعنیٰ دوست ہے۔ دیکھو آیت کریمہ
فان اللہ ھو مولاہ وجبریل وصالح المومین
(یعنی اللہ کے محبوب کا دوست اللہ جل شانہ ہے اور جبرئیل اور نیک بندے ہیں)
اب مولیٰ کا معنیٰ حاکم، امام یا امیر کرنا صراحتاً قرآن کریم کی مخالفت ہے اور تفسیر بالرائے ہے اور کون مسلمان یہ نہیں مانتا کہ حضرت سیدنا علی المرتضیٰؓ رسول اللہﷺ کے دوستوں کے دوست ہیں۔ جن کو اللہ کے رسول نے گھر میں، ہجرت میں، غار میں، سفر میں، حتیٰ کہ قبر میں اپنا ساتھی اور رفیق منتخب فرمایا۔ حضرت علیؓ ان کے دوست ہیں حضرت علیؓ کا صاف صاف ارشاد گرامی نہ بھولیے جو حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے حق میں فرماتے ہیں کہ
ھما حبیبای
یعنی وہ میرے دوست ہیں ۔
علی ھذا القیاس
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت پر غزوہ تبوک کی روایت کو دلیل بنانا سخت ناواقفی اور بےخبری کی دلیل ہے۔الخ
(مذہب شیعہ: صفحہ 90، 91 ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور)
خواجہ صاحب کی تحریر سے پتا چلا کہ نہ تو مولی کا معنیٰ حاکم، امام یا امیر کرنا درست ہے اور نہ اس حدیث غدیر سے حضرت علیؓ کی خلافت بلافصل ثابت۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اکابرین اہل سنت کے نقش قدم پہ قائم و دائم رکھے آمین۔