سیدنا حسینؓ کے بھائی
مولانا اقبال رنگونیسیدنا حسینؓ کے بھائی سیدنا حسنؓ ہیں آپؓ کی ولادت ہجرت کے تیسرے سال رمضان المبارک میں ہوئی تھی حضور اکرمﷺ نے ان کا نام حسن رکھا تھا آپؓ حضور اکرمﷺ کے چہرہ انور کے بہت مشابہ تھے، حضورﷺ کو سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ دونوں بہت پیارے تھے اکثر اوقات ان دونوں بچوں کے پاس تشریف لے جاتے ان کو پیار فرماتے اور ان کے ساتھ کھیلتے تھے آپﷺ ان دونوں کے خوش ہونے پر خوش ہو جاتے تھے اور ان کے رونے سے آپﷺ تڑپ جاتے تھے جب تک وہ خاموش نا ہوتے آپﷺ کو چین نا آتا تھا۔
سیدنا حسینؓ کی عمر مبارک آٹھ سال تھی کہ نانا جان کی محبت و شفقت کا نورانی اور روحانی سایہ سر سے اٹھ گیا پھر کچھ ماہ بعد آپؓ کی والدہ ماجدہ سیدہ فاطمہؓ بھی سفر آخرت پر چلی گئیں تاہم آپؓ کے والد سیدنا علیؓ اور حضور اکرمﷺ کے محبوب ساتھی سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ موجود تھے اور ان کی زیر نگرانی آپؓ کی تعلیم و تربیت ہورہی تھی سیدنا عثمانؓ آپؓ کے خالو تھے اور سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما باوجود یہ کہ عمر میں بڑے تھے لیکن قرابت نبویﷺ کی وجہ سے ان دونوں کا ہر طرح لحاظ فرماتے تھے اور ان کو دوسروں پر ترجیح دیا کرتے تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کا دورِ خلافت مختصر تھا تاہم سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ کے دورِ خلافت میں آپؓ نے جہاد میں بھی حصہ لیا تھا۔
سیدنا حسنؓ اپنے والد کے دورِ خلافت میں پوری طرح آپؓ کے معاون رہے اور ان کی شہادت کے بعد سیدنا حسنؓ آپؓ کے جانشین بنے پھر آپؓ مسلمانوں کو انتشار اور ان کا خون بہانے سے بچانے کے لیے خلافت سے دستبردار ہو گئے اور خلافت سیدنا معاویہؓ کے حوالے کر دی اور سیدنا معاویہؓ سے بیعت کے بعد مدینہ منورہ تشریف لے گئے اور اس طرح حضور اکرمﷺ کی دی ہوئی پیشن گوئی اپنے پوری شان اعجاز کے ساتھ پوری ہوئی جس میں آپﷺ نے یہ فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سید ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر اہلِ ایمان کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کرا دے گا، آپؓ کے پاس سیدنا معاویہؓ کی طرف سے جو تحفے تحائف عطیات اور وظائف آتے آپؓ ان کو قبول فرماتے اور ان سے اپنی ضروریات پوری کیا کرتے تھے آپؓ نے کبھی اس کے لینے سے انکار نہیں کیا تھا، ایک مرتبہ جب آپؓ اپنے بھائی سیدنا حسینؓ کے ساتھ سیدنا معاویہؓ کے پاس آئے تو انہوں نے ان دونوں شہزادوں کا بڑا اکرام و احترام کیا تھا اور بڑے عطیات سے نوازا تھا سیدنا حسنؓ کے انتقال کے بعد بھی سیدنا حسینؓ کا سیدنا معاویہؓ کے پاس آنا جانا تھا اور محبت و عقیدت کے یہ تعلقات برابر قائم تھے۔
سیدنا حسنؓ علم و فضل کے اس کمال پر تھے کہ مدینہ منورہ میں جو لوگ صاحب افتاء تھے آپؓ ان میں سے ایک تھے مدینہ منورہ میں علمی اور روحانی حلقے کی ایک اپنی شان تھی اور لوگ جوق در جوق آپؓ کے علمی حلقے میں آتے اور اپنی علمی اور روحانی پیاس بجھاتے تھے۔
آپؓ کو اللہ کی عبادت بہت محبوب اور مرغوب تھی، کبھی کبھی خوف خدا سے آپؓ کانپ جایا کرتے تھے جب مکہ مکرمہ تشریف لاتے تو زیادہ تر وقت طواف میں گزرتا تھا آپؓ بکثرت نمازیں پڑھتے تھے اور روزہ بھی رکھا کرتے تھے آپؓ نے پچیس مرتبہ حج کی سعادت حاصل کی تھی اور بیس مرتبہ پیدل حج کیا تھا آپؓ بڑے سخی تھے جو کچھ ملتا لوگوں میں تقسیم کردیا کرتے تھے اور ہر نیکی کے کاموں میں آپؓ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے آپؓ غرباء اور مساکین کا بہت زیادہ خیال رکھا کرتے تھے اللہ کے رستے میں مال خرچ کرنا آپؓ کو بہت محبوب تھا اور آپؓ دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیا کرتے تھے آپؓ کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد 5 ربیع الاول 49 ہجری کو 47 سال کی عمر میں انتقال کر گئے تھے علماء نے آپؓ کی موت کا سبب زہر دینا بتلایا ہے اور آپؓ کو شہید کہا ہے آپؓ کی قبر مبارک جنت البقیع میں اپنی والدہ مکرمہ سیدہ فاطمہؓ کے پہلو میں ہے جہاں لاکھوں لوگ آپؓ کو سلام پیش کرتے ہیں۔
