امیر المومنین کا لقب
علی محمد الصلابیسیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلیفہ‘‘ کہے جاتے تھے، لیکن جب آپﷺ کی وفات ہو گئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جو سیدنا عمرؓ کے بعد خلیفہ ہو گا اسے ’’خلیفہ خلیفہ رسول اللہ‘‘ کہا جائے گا اور اس طرح یہ سلسلہ طویل ہو جائے گا، لہٰذا بہتر ہے کہ خلیفہ کے لیے کسی نام پر اتفاق کر لیا جائے اور بعد میں آنے والے خلفاء کو بھی اسی سے پکارا جائے۔ چنانچہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: ہم ’’مومن‘‘ اور عمر ’’ہمارے امیر‘‘ کہے جائیں پھر حضرت عمرؓ ’’امیر المؤمنین‘‘ کہے جانے لگے اور آپؓ سب سے پہلے اس نام سے موسوم کیے گئے۔
(المستدرک: جلد 3 صفحہ 14 حاکم نے اس کی تصحیح کی ہے اور ذہبی نے آپ کی موافقت کی ہے
ابنِ شہاب سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ابوبکر بن سلیمان بن ابوخیثمہ (تاریخ الإسلام: الذہبی: صفحہ 163) سے پوچھا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنے خط میں ایسا کیوں لکھتے تھے: ’’ابوبکر خلیفۂ رسول اللہﷺ کی طرف سے‘‘ اور ان کے بعد حضرت عمرؓ لکھتے تھے: ’’عمر بن خطابؓ خلیفہ ابوبکرؓ اور جسے سب سے پہلے امیر المؤمنین کہا گیا، اس کی طرف سے‘‘؟ انہوں نے کہا کہ میری دادی شفاء (آپ شفاء بن عبداللہ العدویہ ہیں ۔ ہجرت سے پہلے مسلمان ہوئیں) نے مجھے بتایا وہ پہلے ہجرت کرنے والی صحابیاتؓ میں سے تھیں اور حضرت عمرؓ جب بھی بازار جاتے تو ان سے ضرور ملتے، حضرت عمر بن خطابؓ نے عراق کے گورنر کے پاس لکھا کہ میرے پاس دو بہادر اور شریف لوگوں کو بھیج دو، میں ان سے عراق اور اس کے باشندگان کے بارے میں کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔
(محض الصواب: جلد 1 صفحہ 317۱)
انہوں نے لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہما کو بھیجا، وہ دونوں مدینہ آئے اور مسجد کے صحن میں اپنی اپنی سواری کو بٹھا دیا، پھر دونوں مسجد میں داخل ہوئے، وہاں عمرو بن عاصؓ سے دونوں کی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے عمرو بن عاصؓ سے کہا: امیر المؤمنین سے ہمارے لیے ملاقات کی اجازت مانگ لیجیے عمروؓ عمر بن خطابؓ کے پاس گئے اور کہا: السلام علیکم اے امیر المؤمنین! عمر بن خطابؓ نے فرمایا: اے ابن العاص! اس نام میں تمہیں کیا خوبی نظر آ گئی؟ تمہاری بات کی وجہ سے مجھے نکلنا ہی پڑے گا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لبید بن ربیعہؒ اور عدی بن حاتمؒ آئے اور انہوں نے کہا کہ ’’امیر المؤمنین‘‘ سے ہماری ملاقات کے لیے اجازت مانگ لیجیے، تو میں نے کہا: اللہ کی قسم، تم دونوں نے آپؓ کا درست و بہتر نام لیا، وہ امیر ہیں اور ہم مومن ہیں، اسی دن سے آپ کو امیر المؤمنین لکھا جانے لگا۔ (فتح الباری: جلد 7 صفحہ 268 الخلافۃ الراشدۃ: یحیٰی الیحیٰی: صفحہ 286)
ایک اور روایت میں ہے کہ عمر بن خطابؓ نے فرمایا: تم سب مومن ہو اور میں تمہارا امیر ہوں، پس ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے فرمایا: تم سب مومن ہو اور میں تمہارا امیر ہوں، پس آپؓ نے خود کو ’’امیر‘‘ سے موسوم کیا۔ (جولۃ تاریخیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: محمد الوکیل: صفحہ 90) اس روایت کے مطابق سیدنا عمر فاروقؓ نے سب سے پہلے خود ہی اپنے کو ’’امیر المؤمنین‘‘ کہا۔ بہرحال ایک محقق اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجموعی گفتگو پر غور کرے گا تو وہ یہی کہے گا کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپؓ کو ’’امیر المؤمنین‘‘ کہنے پر متفق تھے اور آپ کے دورِ حکومت میں تمام ریاستوں میں آپ کو ’’امیر المؤمنین‘‘ کہا جانے لگا تھا۔ (الطبقات الکبرٰی: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 281 محض الصواب: جلد 1 صفحہ 311) نے خود کو ’’امیر‘‘ سے موسوم کیا۔ اس روایت کے مطابق سیدنا عمر بن خطابؓ نے سب سے پہلے خود ہی اپنے کو ’’امیر المؤمنین‘‘ کہا۔ بہرحال ایک محقق اگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجموعی گفتگو پر غور کرے گا تو وہ یہی کہے گا کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپؓ کو ’’امیر المؤمنین‘‘ کہنے پر متفق تھے اور آپؓ کے دورِ حکومت میں تمام ریاستوں میں آپؓ کو ’’امیرالمؤمنین‘‘ کہا جانے لگا تھا۔
(الطبقات الکبرٰی: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 281 محض الصواب: جلد 1 صفحہ 311)