سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک قرآن مجید سے مسائل مستنبط…

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک قرآن مجید سے مسائل مستنبط کرنے کے اصول و مبادی

  علی محمد محمد الصلابی

صفحہ 1 از 5

امیر المؤمنین علیؓ کو قرآن اور علوم قرآن کا گہرا علم تھا اور حضرت علیؓ کا یہ عقیدہ تھا کہ قرآن میں ضمناً یا صراحتاً تمام تر شرعی احکامات موجود ہیں، اسی لیے اکثر کہا کرتے تھے: ’’اللہ تعالیٰ کسی چیز کو بھولنے والا نہیں ہے‘‘

(مصنف عبدالرزاق: اثر نمبر 1744)۔

اور شرعی حکم بتاتے ہوئے عموماً قرآن سے استدلال کرتے اور آیت کریمہ پڑھ کر سناتے، چنانچہ مسائل کے استنباط کے لیے حضرت علیؓ نے جو معیار مقرر کیا تھا وہ یہ تھا:

1: قرآن کے ظاہری معنیٰ پر عمل کرنا:

• امیر المؤمنین علیؓ کبھی کبھی قرآن کے ظاہری معنیٰ پر عمل کرنے کا التزام کرتے، بشرطیکہ آپؓ کو کوئی ایسا قرینہ نہ ملتا ہو جو ظاہری معنیٰ پر عمل کرنے سے مانع ہو، اسی لیے حضرت علیؓ ہر نماز کے لیے الگ الگ وضو کرتے اور اس آیت کی تلاوت کرتے:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قُمۡتُمۡ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغۡسِلُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ وَاَيۡدِيَكُمۡ (سورۃ المائدة آیت 6)

(تفسیر القرطبی: جلد 2 صفحہ 80)۔

ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لو۔‘‘حضرت علیؓ کے نزدیک اس التزام کی وجہ یہ تھی کہ اس آیت میں اِذَا قُمْتُمْ کا ظاہری مفہوم ہر نماز کے وقت وضو کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔

• حضرت علیؓ ایسے مسافر کے لیے روزہ رکھنا واجب سمجھتے تھے جس پر اقامت کی حالت میں روزہ فرض ہو چکا تھا پھر اس نے سفر شروع کر دیا، چنانچہ حضرت علیؓ نے فرمایا: ’’جس شخص پر اقامت کی حالت میں روزہ فرض ہو گیا، پھر وہ سفر پر نکلے تو اس کے لیے روزہ رکھنا لازم ہے۔‘‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَمَنۡ شَهِدَ مِنۡكُمُ الشَّهۡرَ فَلۡيَـصُمۡهُ(سورۃ البقرة آیت 185)

(فقہ الامام علی بن ابی طالب: جلد 1 صفحہ 45)۔

’’تو تم میں سے جو اس مہینہ میں حاضر ہو وہ اس کا روزہ رکھے۔‘‘

• آپ بالغ آدمی کی رضاعت کو سبب حرمت نہ سمجھتے تھے، کیوں کہ وہ رضاعت کی مقررہ مدت یعنی دو سال کے ضمن میں نہیں آتا، اس سلسلہ میں آپ آیت رضاعت کے ظاہری مفہوم کو ترجیح دیتے تھے

وَالْوَالِدٰاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ أَن يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ(سورۃ البقرۃ آیت 233)

ترجمہ: اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، اس کے لیے جو چاہے کہ دودھ کی مدت پوری کرے۔

کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت علیؓ نے فرمایا: ’’مدت رضاعت دو سال ہے، پس جو رضاعت اس مدت کے اندر ہو وہ حرمت کا سبب ہے، اور جو اس کے بعد ہو وہ نہیں۔‘‘

(المجموع: النووی: جلد 8 صفحہ 213)۔

• مذکورہ آیت کریمہ کے ظاہر معنیٰ پر عمل کرتے ہوئے حضرت علیؓ نے زنا کی متہم ایک ایسی عورت کو تہمت سے بَری بھی قرار دیا جسے زوجیت کے چھ ہی مہینے میں ولادت ہوئی تھی، آپ کا استدلال اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَالْوَالِدٰاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ (سورۃ البقرۃ آیت 233)

’’اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔ ‘‘

دوسری جگہ فرمایا:

وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا (سورۃ الاحقاف آیت 15)

ترجمہ: اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے۔

ان دونوں آیات کو اکٹھا کرنے سے معلوم ہو گا ہے کہ حمل کی مدت چھ مہینہ ہے اور دودھ چھڑانے کی مدت چوبیس (24) مہینے ہے۔

(مصنف عبدالرزاق: اثر نمبر 12443، فقہ الامام علی: جلد 1 صفحہ 41)۔

یعنی آپ نے (30) تیس مہینے کی مدت سے مدت رضاعت دو سال کو الگ کر دیا، جس کے بعد صرف چھ ہی مہینہ کی مدت حمل کے لیے باقی رہی، جس سے معلوم ہوا کہ چھ مہینہ میں حمل اور ولادت ممکن ہے، اس طرح آپ نے دونوں آیات کے ظاہری مفہوم کو یکجا کر کے حکم صادر فرمایا۔

(فقہ الامام علی: جلد 1 صفحہ 46)۔

2۔ مجمل آیت کو مفسر پر محمول کرنا:

مجمل آیت کا مفہوم ہے کہ ایسی آیت جس کا مرادی معنیٰ پوشیدہ ہو، بغیر وضاحت کے اس کی حقیقت تک رسائی ناممکن ہو۔

(مرأۃ الاصول فی شرح مرقاۃ الاصول: صفحہ 197)۔

اور مفسر آیت کا مطلب ہے کہ ایسی آیت جس کا مرادی معنیٰ اس قدر واضح ہو کہ مزید توضیح کی ضرورت نہ ہو۔

(مرأۃ الاصول فی شرح مرقاۃ الاصول: صفحہ 191)

سیدنا علیؓ نے قرآن کی اس آیت کریمہ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ (سورۃ المائدۃ آیت 95) کے اجمال کو دوسری جگہ اس کی تفسیر پر محمول کیا، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ ایک آدمی نے حضرت علیؓ سے پوچھا: ’’ہَدِي‘‘ کس کی ہونی چاہیے؟ 

حضرت علیؓ نے فرمایا: آٹھ نر و مادہ سے، آپ کو محسوس ہوا کہ شاید اسے کچھ تردد ہو رہا ہے، تو حضرت علیؓ نے اس سے کہا: کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں حضرت علیؓ نے پوچھا: کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان پڑھا:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوۡفُوۡا بِالۡعُقُوۡدِ‌ اُحِلَّتۡ لَـكُمۡ بَهِيۡمَةُ الۡاَنۡعَامِ۞(سورۃ المائدة آیت 1)

ترجمہ: اے ایمان والو! معاہدوں کو پورا کرو۔ تمہارے لیے وہ چوپائے حلال کردیے گئے ہیں 

اس نے جواب دیا: ہاں ، ضرور پڑھا ہے، حضرت علیؓ نے پھر پوچھا: کیا تم نے اللہ کے اس فرمان کو پڑھا:

وَلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلۡنَا مَنۡسَكًا لِّيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ۞ (سورۃ الحج آیت 34)

ترجمہ: اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی اس غرض کے لیے مقرر کی ہے کہ وہ ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے ہیں۔ 

اور فرمایا:

وَ مِنَ الۡاَنۡعَامِ حَمُوۡلَةً وَّفَرۡشًا‌كُلُوۡا مِمَّارَزَقَكُمُ اللّٰهُ۞(سورۃ الأنعام آیت 142)

ترجمہ: اور چوپایوں میں سے اللہ نے وہ جانور بھی پیدا کیے ہیں جو بوجھ اٹھاتے ہیں اور وہ بھی جو زمین سے لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ اللہ نے جو رزق تمہیں دیا ہے، اس میں سے کھاؤ 

کیا تم نے اللہ کا یہ ارشاد سنا ہے:

مِّنَ الضَّاْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ (سورۃ الانعام آیت 143)

ترجمہ: بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو۔

وَمِنَ الْإِبِلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ (سورۃ الانعام آیت 144)

ترجمہ: اور اونٹوں میں سے دو اور گائیوں میں سے دو۔

اس نے کہا: ہاں ضرور سنا ہے، حضرت علیؓ نے پوچھا: اور کیا یہ ارشاد الہٰی سنا ہے: 

صفحہ 1 از 5