Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک قرآن مجید سے مسائل مستنبط کرنے کے اصول و مبادی

  علی محمد محمد الصلابی

امیر المؤمنین علیؓ کو قرآن اور علوم قرآن کا گہرا علم تھا اور حضرت علیؓ کا یہ عقیدہ تھا کہ قرآن میں ضمناً یا صراحتاً تمام تر شرعی احکامات موجود ہیں، اسی لیے اکثر کہا کرتے تھے: ’’اللہ تعالیٰ کسی چیز کو بھولنے والا نہیں ہے‘‘

(مصنف عبدالرزاق: اثر نمبر 1744)۔

اور شرعی حکم بتاتے ہوئے عموماً قرآن سے استدلال کرتے اور آیت کریمہ پڑھ کر سناتے، چنانچہ مسائل کے استنباط کے لیے حضرت علیؓ نے جو معیار مقرر کیا تھا وہ یہ تھا:

1: قرآن کے ظاہری معنیٰ پر عمل کرنا:

• امیر المؤمنین علیؓ کبھی کبھی قرآن کے ظاہری معنیٰ پر عمل کرنے کا التزام کرتے، بشرطیکہ آپؓ کو کوئی ایسا قرینہ نہ ملتا ہو جو ظاہری معنیٰ پر عمل کرنے سے مانع ہو، اسی لیے حضرت علیؓ ہر نماز کے لیے الگ الگ وضو کرتے اور اس آیت کی تلاوت کرتے:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قُمۡتُمۡ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغۡسِلُوۡا وُجُوۡهَكُمۡ وَاَيۡدِيَكُمۡ (سورۃ المائدة آیت 6)

(تفسیر القرطبی: جلد 2 صفحہ 80)۔

ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لو۔‘‘حضرت علیؓ کے نزدیک اس التزام کی وجہ یہ تھی کہ اس آیت میں اِذَا قُمْتُمْ کا ظاہری مفہوم ہر نماز کے وقت وضو کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔

• حضرت علیؓ ایسے مسافر کے لیے روزہ رکھنا واجب سمجھتے تھے جس پر اقامت کی حالت میں روزہ فرض ہو چکا تھا پھر اس نے سفر شروع کر دیا، چنانچہ حضرت علیؓ نے فرمایا: ’’جس شخص پر اقامت کی حالت میں روزہ فرض ہو گیا، پھر وہ سفر پر نکلے تو اس کے لیے روزہ رکھنا لازم ہے۔‘‘ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

فَمَنۡ شَهِدَ مِنۡكُمُ الشَّهۡرَ فَلۡيَـصُمۡهُ(سورۃ البقرة آیت 185)

(فقہ الامام علی بن ابی طالب: جلد 1 صفحہ 45)۔

’’تو تم میں سے جو اس مہینہ میں حاضر ہو وہ اس کا روزہ رکھے۔‘‘

• آپ بالغ آدمی کی رضاعت کو سبب حرمت نہ سمجھتے تھے، کیوں کہ وہ رضاعت کی مقررہ مدت یعنی دو سال کے ضمن میں نہیں آتا، اس سلسلہ میں آپ آیت رضاعت کے ظاہری مفہوم کو ترجیح دیتے تھے

وَالْوَالِدٰاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ اَرَادَ أَن يُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ(سورۃ البقرۃ آیت 233)

ترجمہ: اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں، اس کے لیے جو چاہے کہ دودھ کی مدت پوری کرے۔

کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت علیؓ نے فرمایا: ’’مدت رضاعت دو سال ہے، پس جو رضاعت اس مدت کے اندر ہو وہ حرمت کا سبب ہے، اور جو اس کے بعد ہو وہ نہیں۔‘‘

(المجموع: النووی: جلد 8 صفحہ 213)۔

• مذکورہ آیت کریمہ کے ظاہر معنیٰ پر عمل کرتے ہوئے حضرت علیؓ نے زنا کی متہم ایک ایسی عورت کو تہمت سے بَری بھی قرار دیا جسے زوجیت کے چھ ہی مہینے میں ولادت ہوئی تھی، آپ کا استدلال اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَالْوَالِدٰاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ (سورۃ البقرۃ آیت 233)

’’اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔ ‘‘

دوسری جگہ فرمایا:

وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا (سورۃ الاحقاف آیت 15)

ترجمہ: اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے کی مدت تیس مہینے ہے۔

ان دونوں آیات کو اکٹھا کرنے سے معلوم ہو گا ہے کہ حمل کی مدت چھ مہینہ ہے اور دودھ چھڑانے کی مدت چوبیس (24) مہینے ہے۔

(مصنف عبدالرزاق: اثر نمبر 12443، فقہ الامام علی: جلد 1 صفحہ 41)۔

یعنی آپ نے (30) تیس مہینے کی مدت سے مدت رضاعت دو سال کو الگ کر دیا، جس کے بعد صرف چھ ہی مہینہ کی مدت حمل کے لیے باقی رہی، جس سے معلوم ہوا کہ چھ مہینہ میں حمل اور ولادت ممکن ہے، اس طرح آپ نے دونوں آیات کے ظاہری مفہوم کو یکجا کر کے حکم صادر فرمایا۔

(فقہ الامام علی: جلد 1 صفحہ 46)۔

2۔ مجمل آیت کو مفسر پر محمول کرنا:

مجمل آیت کا مفہوم ہے کہ ایسی آیت جس کا مرادی معنیٰ پوشیدہ ہو، بغیر وضاحت کے اس کی حقیقت تک رسائی ناممکن ہو۔

(مرأۃ الاصول فی شرح مرقاۃ الاصول: صفحہ 197)۔

اور مفسر آیت کا مطلب ہے کہ ایسی آیت جس کا مرادی معنیٰ اس قدر واضح ہو کہ مزید توضیح کی ضرورت نہ ہو۔

(مرأۃ الاصول فی شرح مرقاۃ الاصول: صفحہ 191)

سیدنا علیؓ نے قرآن کی اس آیت کریمہ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ (سورۃ المائدۃ آیت 95) کے اجمال کو دوسری جگہ اس کی تفسیر پر محمول کیا، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ ایک آدمی نے حضرت علیؓ سے پوچھا: ’’ہَدِي‘‘ کس کی ہونی چاہیے؟ 

حضرت علیؓ نے فرمایا: آٹھ نر و مادہ سے، آپ کو محسوس ہوا کہ شاید اسے کچھ تردد ہو رہا ہے، تو حضرت علیؓ نے اس سے کہا: کیا تم قرآن پڑھتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں حضرت علیؓ نے پوچھا: کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان پڑھا:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوۡفُوۡا بِالۡعُقُوۡدِ‌ اُحِلَّتۡ لَـكُمۡ بَهِيۡمَةُ الۡاَنۡعَامِ۞(سورۃ المائدة آیت 1)

ترجمہ: اے ایمان والو! معاہدوں کو پورا کرو۔ تمہارے لیے وہ چوپائے حلال کردیے گئے ہیں 

اس نے جواب دیا: ہاں ، ضرور پڑھا ہے، حضرت علیؓ نے پھر پوچھا: کیا تم نے اللہ کے اس فرمان کو پڑھا:

وَلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلۡنَا مَنۡسَكًا لِّيَذۡكُرُوا اسۡمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمۡ مِّنۡ بَهِيۡمَةِ الۡاَنۡعَامِ۞ (سورۃ الحج آیت 34)

ترجمہ: اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی اس غرض کے لیے مقرر کی ہے کہ وہ ان مویشیوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے ہیں۔ 

اور فرمایا:

وَ مِنَ الۡاَنۡعَامِ حَمُوۡلَةً وَّفَرۡشًا‌كُلُوۡا مِمَّارَزَقَكُمُ اللّٰهُ۞(سورۃ الأنعام آیت 142)

ترجمہ: اور چوپایوں میں سے اللہ نے وہ جانور بھی پیدا کیے ہیں جو بوجھ اٹھاتے ہیں اور وہ بھی جو زمین سے لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ اللہ نے جو رزق تمہیں دیا ہے، اس میں سے کھاؤ 

کیا تم نے اللہ کا یہ ارشاد سنا ہے:

مِّنَ الضَّاْنِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْمَعْزِ اثْنَيْنِ (سورۃ الانعام آیت 143)

ترجمہ: بھیڑ میں سے دو اور بکری میں سے دو۔

وَمِنَ الْإِبِلِ اثْنَيْنِ وَمِنَ الْبَقَرِ اثْنَيْنِ (سورۃ الانعام آیت 144)

ترجمہ: اور اونٹوں میں سے دو اور گائیوں میں سے دو۔

اس نے کہا: ہاں ضرور سنا ہے، حضرت علیؓ نے پوچھا: اور کیا یہ ارشاد الہٰی سنا ہے: 

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡتُلُوا الصَّيۡدَ وَاَنۡـتُمۡ حُرُمٌ وَمَنۡ قَتَلَهٗ مِنۡكُمۡ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثۡلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحۡكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنۡكُمۡ هَدۡيًاۢ بٰلِغَ الۡـكَعۡبَةِ(سورۃ المائدة آیت 95)

ترجمہ: اے لوگو! جو ایمان لائے ہو! شکار کو مت قتل کرو، اس حال میں کہ تم احرام والے ہو اور تم میں سے جو اسے جان بوجھ کر قتل کرے تو چوپاؤں میں سے اس کی مثل بدلہ ہے جو اس نے قتل کیا، جس کا فیصلہ تم میں سے دو انصاف والے کریں، بطور قربانی جو کعبہ میں پہنچنے والی ہے۔‘‘

اس آدمی نے کہا: ہاں، پھر کہنے لگا کہ میں نے حالت احرام میں ایک ہرن کا شکار کر لیا ہے، مجھ پر کیا فدیہ واجب ہوتا ہے، حضرت علیؓ نے فرمایا: ایک ہدی جسے کعبہ تک پہنچایا جائے۔

(الدر المنثور: جلد 3 صفحہ 193)

سیدنا علیؓ کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ’’ہَدِیْ بَہِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ‘‘ یعنی ان آٹھ قسم کے مویشی چوپایوں میں سے ہونی چاہیے جن کا ذکر قرآن میں ہوا ہے۔ (مترجم)

3۔ مطلق کو مقید پر محمول کرنا:

جو چیز اپنی ماہیت پر بلا قید دلالت کرے وہ مطلق ہے اور اگر لفظاً کسی بھی طرح کی کوئی قید ہو تو مقید ہے۔

(جمع الجوامع بشرح المحلیٰ: جلد 2 صفحہ 79) فقہ الإمام علی: جلا 1 صفحہ 47)

امیر المؤمنین علیؓ نے مسائل کے استنباط میں قرآن کی مطلق آیات کو مقید آیات پر محمول کیا ہے، چنانچہ جس آیت میں چوری کی سزا مطلق ہاتھ کاٹنا بتائی گئی ہے، اسے آیت محاربہ سے مقید مانا ہے، یعنی کہ دو مرتبہ سے زیادہ نہیں کاٹے جائیں گے اور اگر بار بار چوری کی تو ایک ہاتھ اور ایک پاؤں سے زیادہ اور کچھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ آپ کے نزدیک اگر کسی چور نے ایک مرتبہ چوری کی تواس کا داہنا ہاتھ کاٹا جائے گا اور اگر پھر دوبارہ چوری کرے تو اس کا بایاں پاؤں کاٹا جائے گا اور اگر تیسری مرتبہ یا چوتھی مرتبہ اس نے چوری کی تو اس کے علاوہ اس کا کوئی عضو نہیں کاٹا جائے گا، بلکہ اس کے بدلے اسے تعزیری سزا دی جائے گی۔ چنانچہ آپ نے اللہ کے فرمان: وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوآ اَيْدِيَهُمَا (سورۃ المائدۃ آیت 38) 

ترجمہ: اور جو چوری کرنے والا اور جو چوری کرنے والی ہے سو دونوں کے ہاتھ کاٹ دو 

کہ آیت محاربہ اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِيۡنَ يُحَارِبُوۡنَ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَيَسۡعَوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ فَسَادًا اَنۡ يُّقَتَّلُوۡۤا اَوۡ يُصَلَّبُوۡۤا اَوۡ تُقَطَّعَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَاَرۡجُلُهُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ۞(سورۃ المائدة آیت نمبر 33)

 ترجمہ: ان لوگوں کی جزا جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد کی کوشش کرتے ہیں، یہی ہے کہ انھیں بری طرح قتل کیا جائے، یا انھیں بری طرح سولی دی جائے، یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مختلف سمتوں سے بری طرح کاٹے جائیں۔‘‘ پر محمول کیا، اور کہا کہ اس آیت میں اللہ نے ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کاٹنے سے زیادہ کی اجازت نہیں دی ہے۔

چنانچہ اس کے بعد بھی چوری کرنے والوں کو آپ جیل خانہ کی سزا دیتے۔

(مصنف عبدالرزاق: اثر نمبر 21874 فقہ الإمام علی: جلد 1 صفحہ 47)۔

 امام شعبی کا بیان ہے کہ حضرت علیؓ چور کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کاٹنے پر اکتفا کرتے، اس کے بعد بھی اگر چوری کرتا تو اسے قید خانہ میں ڈال دیتے اور سزا دیتے اور فرماتے: 

’’مجھے اللہ سے شرم آتی ہے کہ اس کا کوئی ہاتھ باقی نہ چھوڑوں کہ وہ کھانا نہ کھا سکے اور استنجاء نہ کر سکے۔‘‘

(مصنف عبدالرزاق: اثر نمبر 21874 فقہ الإمام علی: جلد 1 صفحہ 47)۔

4۔ ناسخ و منسوخ کا علم:

نسخ کا مطلب ہے سابقہ حکمِ شرعی کا بعد کے دوسرے خطاب شرعی کی وجہ سے اٹھا لیا جانا۔

(فقہ الإمام علی: جلد 1 صفحہ 48)۔

علامہ زرکشی کہتے ہیں کہ ائمہ علم و فن کا کہنا ہے کہ جس شخص کو قرآن کے ناسخ و منسوخ کا علم نہ ہو اس کے لیے قرآن کی تفسیر کرنا جائز نہیں۔

(البرہان فی علوم القرآن: جلد 2 صفحہ 29) 

امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بھی اسی مفہوم کی تائید فرمائی ہے، اور ایک قصہ گو واعظ کی سرزنش کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: کیا تمھیں ناسخ و منسوخ کا علم ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تم خود ہلاک ہوئے اور دوسروں کو بھی ہلاک کیا۔

(ابوخیثمۃ: کتاب العلم: صفحہ 31) شیخ البانی رحمۃاللہ نے کہا کہ اس کی سند صحیح ہے۔

5۔ لغت عرب پر گہری نظر:

قرآن کی افہام و تفہیم کے لیے حضرت علیؓ کا منہج یہ تھا کہ آپ عربوں کی زبان پر گہری نظر ڈالتے، جیسا کہ فرمان الہٰی:

وَالْمُطَلَّقٰتُ يَتَرَبَّصْنَ بِاَنفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ (سورۃ البقرۃ آیت 228)

ترجمہ: ’’اور وہ عورتیں جنھیں طلاق دی گئی ہے اپنے آپ کو تین حیض تک انتظار میں رکھیں۔‘‘ 

کے بارے میں حضرت علیؓ نے فرمایا: ’’قروئ‘‘ سے مراد حیض ہے۔ لہٰذا مطلقہ کی عدت اس وقت تک پوری نہیں ہوگی جب تک کہ تینوں حیض سے پاک نہ ہوجائے۔

(تفسیر ابن کثیر: جلد 1 صفحہ 271)

 حضرت علیؓ نے مطلقہ کے بارے میں فرمایا: اس کے شوہر کے لیے اس وقت تک رجوع کرنا جائز ہے جب تک کہ وہ تیسرے حیض سے غسل نہ کر لے۔

(الدر المنثور: جلد 1 صفحہ 234)۔

 ’’قروئ‘‘ کا لفظ طہر اور حیض دونوں کے لیے بولا جاتا ہے، چنانچہ جب عورت حیض سے ہوتی ہے تو اہل عرب کہتے ہیں: ’’اَقْرَأَتِ الْمَرَأَۃُ‘‘ اور جب پاک ہوتی ہے تو بھی کہتے ہیں: ’’اَقْرَأَتِ الْمَرْأَۃُ

(الصحاح: الجوہری: جلد 1 صفحہ 64)۔

عربوں کی زبان پر آپ کی گہری نظر کی ایک مثال یہ ہے کہ اللہ کے فرمان {اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَائَ} میں آپ نے ’’لمس‘‘ یعنی چھونے سے ’’جماع‘‘ مراد لیا ہے، آپؓ نے فرمایا: یہاں حقیقت میں ’’لمس‘‘ سے ’’جماع‘‘ مراد ہے۔ اللہ نے اس کے لیے یہاں کنایہ پر اکتفا کیا ہے۔

(فقہ الإمام علی: جلد 1 صفحہ 48، الفصول فی الأصول: جصاص: جلد 1 صفحہ 203)۔

اسی طرح فرمان الہٰی:

وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً (سورۃ البقرۃ آیت 237) 

ترجمہ: ’’اور اگر تم انھیں اس سے پہلے طلاق دے دو کہ انھیں ہاتھ لگاؤ، اس حال میں کہ تم ان کے لیے کوئی مہر مقرر کر چکے ہو۔‘‘میں آپ نے ’’مس‘‘ کو خلوت پر محمول کیا ہے، اور فرمایا: یہاں ’’مس‘‘ سے خلوت مراد ہے۔

(الفصول فی الاصول: جصاص: جلد 1 صفحہ 202)۔

 چنانچہ خلوت ہو جانے کے بعد آپ نے پورے مہر کی ادائیگی کو واجب قرار دیا ہے۔

(فقہ الإمام علی: جلد 1 صفحہ 48)

 اور فرمایا: جب شوہر نے اپنی بیوی کو پردے کے آڑ میں کر لیا اور دروازہ بند کر لیا تو کامل مہر اور عدت واجب ہوگئی۔

(مصنف ابن أبی شیبۃ: جلد 4 صفحہ 234) فقہ الإمام علی: جلد 2 صفحہ 531)۔

6۔ قرآن کی ایک نص کو دوسری نص سے سمجھنا:

• اللہ کا ارشاد ہے: وَلَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكَفِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا (سورۃ النساء آیت 141)

ترجمہ: ’’اور اللہ کافروں کے لیے مومنوں پر ہرگز کوئی راستہ نہیں بنائے گا۔‘‘

اس آیت کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے حضرت علیؓ نے آیت کے سیاق و سباق کی طرف رجوع کیا اور فَاللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ

 (سورۃ النساء آیت 141) ’’پس اللہ تمھارے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا‘‘

 سے آیت کا معنیٰ متعین کیا کہ یہ قیامت کے دن کے بارے میں ہے۔ یعنی قیامت کے دن کافروں کو ایمان والوں پر اللہ ہرگز راہ نہ دے گا، 

اس واقعہ کی تفصیل یوں ہے کہ ایک آدمی حضرت علیؓ کے پاس آیا اور کہا کہ اللہ فرماتا ہے: وَلَنْ يَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا سورۃ النساء آیت 141) کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: قریب آؤ، قریب آؤ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمھارے درمیان فیصلہ کرے گا اور اس دن کافروں کو مومنوں پر ہرگز راہ نہ دے گا۔

(تفسیر ابن جریر: جلد 9 صفحہ 327) اس کی سند صحیح ہے۔)

• اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 

وَالسَّقۡفِ الۡمَرۡفُوۡعِ۞(سورۃ 52 الطور آیت 5)

ترجمہ: اور بلند کی ہوئی چھت کی۔ 

 ابن کثیر رحمۃاللہ علیہ نے ابن جریر کی روایت سے لکھا ہے کہ حضرت علیؓ نے اونچی چھت کی تفسیر ’’آسمان‘‘ سے کی، سفیان کہتے ہیں کہ پھر آپ نے تلاوت کیا:

وَجَعَلۡنَا السَّمَآءَ سَقۡفًا مَّحۡفُوۡظًا وَّهُمۡ عَنۡ اٰيٰتِهَا مُعۡرِضُوۡنَ‏۞(سورۃ الأنبياء آیت 32)

ترجمہ: اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا ہے، اور یہ لوگ ہیں کہ اس کی نشانیوں سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔

• اللہ کا ارشاد ہے:

حَافِظُوۡا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الۡوُسۡطٰى وَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ قٰنِتِيۡنَ۞(سورۃ البقرة آیت نمبر 238)

ترجمہ: تمام نمازوں کا پورا خیال رکھو، اور (خاص طور پر) بیچ کی نماز کا اور اللہ کے سامنے باادب فرمانبردار بن کر کھڑے ہوا کرو۔

حضرت علیؓ نے درمیانی نماز یعنی صلاۃ وسطیٰ کی تفسیر عصر کی نماز سے کی ہے، اور اس سلسلہ میں حدیث نبویﷺ پر اعتماد کیا ہے۔ آپﷺ نے غزوۂ احزاب کے موقع پر فرمایا تھا:

شَغَلُوْنَا عَنِ الصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی صَلَاۃَ الْعَصْرِ مَلَأَ اللّٰہُ بُیُوْتَہُمْ وَ قُبُوْرَہُمْ نَارًا۔

(صحیح مسلم: جلد 1 صفحہ 437)۔

’’مشرکوں نے ہمیں صلاۃ وسطیٰ یعنی عصر کی نماز سے غافل کر دیا، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔‘‘

• اللہ تعالیٰ کا فرمایا:

اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا كَبٰٓئِرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡـكُمۡ مُّدۡخَلًا كَرِيۡمًا ۞ (سورۃ النساء آیت 31)

ترجمہ: اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرو جن سے تمہیں روکا گیا ہے تو تمہاری چھوٹی برائیوں کا ہم خود کفارہ کردیں گے۔ اور تم کو ایک باعزت جگہ داخل کریں گے۔

سہل بن ابی خیثمہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: میں کوفہ کی مسجد میں تھا، اور حضرت علیؓ منبر پر خطبہ دے رہے تھے، آپؓ فرما رہے تھے: اے لوگو! بڑے بڑے گناہ سات ہیں، آپؓ نے بلند آواز سے لوگوں کو مخاطب کیا اور تین مرتبہ یہی دہرایا، پھر کہا: اِن کے بارے میں تم لوگ مجھ سے پوچھتے کیوں نہیں؟ لوگوں نے کہا: اے امیر المؤمنین وہ کیا ہیں؟ حضرت علیؓ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، کسی جان کو ناحق قتل کرنا، پاک دامن عورتوں پر تہمت باندھنا، یتیم کا مال کھانا، سود کھانا، میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا، ہجرت کے بعد واپس دیہات میں چلے جانا۔

(تفسیر الطبری: جلد 5 صفحہ 25)۔

حضرت علیؓ نے بڑے بڑے گناہوں کی یہ تفسیر اس حدیث نبوی پر اعتماد کرتے ہوئے کی تھی جس میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

اِجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ۔

’’سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو۔‘‘

صحابہ کرامؓ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول وہ کیا ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا:

اَلشِّرْکُ بِاللّٰہِ وَ السِّحْرُ وَ قَتْلُ النَّفْسِ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ، وَ أَکْلُ الرَّبٰوا وَ أَکْلُ مَالَ الْیَتِیْمِ وَ التَّوَلِّیْ یَوْمَ الزَّحْفِ وَ قَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ۔

(صحیح البخاری: الوصایا: حدیث نمبر 2766)۔

’’اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو کرنا، ناحق کسی کو قتل کردینا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جانا، مومنہ بھولی بھالی اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔‘‘

7: مشکل آیات کے بارے میں استفسار کرنا:

قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے امیر المؤمنین علیؓ کے منہج میں یہ بات بھی شامل تھی کہ جو قرآنی آیات آپؓ کے لیے مشکل ہوتیں، حضرت علیؓ ان کے بارے میں استفسار کرتے، چنانچہ ارشاد الہٰی: وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُولِهٖ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ (سورۃ التوبۃ آیت 3) 

ترجمہ: اور اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے حجِ اکبر کے دن

تمام لوگوں کی طرف صاف اعلان ہے۔ میں ''حج اکبر‘‘ کے بارے میں حضرت علیؓ نے رسول اللہﷺ سے پوچھا کہ وہ کون سا دن ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: ’’یَوْمُ النَّحْرِ‘‘ 

(سنن الترمذی: حدیث نمبر 970 شیخ البانیؒ نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ جلد 1 صفحہ 282)۔ قربانی کا دن۔ 

حضرت علیؓ نے اپنے اس منہج کو نبی کریمﷺ سے روایت کرتے ہوئے یوں واضح فرمایا کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول اگر ہمیں کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جس میں شریعت کا کوئی امر یا نہی وارد نہ ہو تو ہم کیا کریں؟ آپﷺ نے فرمایا:

’’علماء و عابدین سے مشورہ کرو اور بلامشورہ اس میں نہ گھسو۔‘‘ 

(تاریخ خلیفہ بن خیاط: صفحہ 66، منہج علی بن أبی طالب فی الدعوۃ إلی اللہ: 78) 

8۔ سبب نزول کا علم:

اسبابِ نزول کی معرفت سے آیات کے معانی کو سمجھنا اوران سے احکام مستنبط کرنا بہت حد تک آسان ہو جاتا ہے، آپ کو قرآنی آیات کے اسبابِ نزول کا گہرا علم تھا، جیسا کہ حضرت علیؓ نے قرآن کے بارے میں استفسار کرنے پر لوگوں کو رغبت دلاتے ہوئے کہا: مجھ سے پوچھو مجھ سے پوچھو، اور مجھ سے اللہ کی کتاب کے بارے میں پوچھو، اللہ کی قسم! میں آیات کے بارے میں جانتا ہوں کہ کون سی آیت رات میں اتری اور کون سی دن میں (الإصابۃ: جلد 2 صفحہ 509)

اور ایک روایت میں ہے کہ اللہ کی قسم! جتنی آیات اتری ہیں میں سب کے بارے میں جانتا ہوں کہ کس کے بارے میں اور کہاں اتری ہیں۔

(طبقات ابن سعد: جلد 2 صفحہ 338)۔

9: عام حکم کی تخصیص:

’’عام‘‘ کا اطلاق اس لفظ پر ہوتا ہے جو ایک کیفیت کے تمام معانی پر ایک ہی حالت میں ایک ساتھ بلا کسی حصر کے دلالت کرے۔

(تیسیر علم أصول الفقہ: عبداللہ الجدیع: صفحہ 262)۔

 اور کسی لفظ کو عموم پر محمول کرنے کا قاعدہ یہ ہے کہ جب تک کوئی تخصیص نہ وارد ہو یہ لفظ اپنے عموم پر باقی رہتا ہے، کبھی کبھار شریعت کی طرف سے ایسا حکم آ جاتا ہے جو عمومی حکم کو صرف بعض افراد تک محدود کر دیتا ہے، جسے ’’عام حکم کی تخصیص‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

(تیسیر علم أصول الفقہ: عبداللہ الجدیع: صفحہ 269)۔

سیدنا علیؓ سے ایسے آثار ملتے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ’’عام کی تخصیص‘‘ کے قائل تھے، چنانچہ آپ سے ایسی دو لونڈیوں کے بارے میں پوچھا گیا جو حقیقی بہنیں ہیں اور ایک ہی مالک کی ملکیت میں ہیں، اس نے ایک سے وطی کی، پھر دوسرے سے بھی وطی کرنا چاہتا ہے، حضرت علیؓ نے فرمایا: نہیں۔

(فقہ الإمام علی: جلد 1 صفحہ 560)۔

ابن الکواء سے روایت ہے کہ انھوں نے سیدنا علیؓ رضی اللہ عنہ سے دو بہنوں کو ایک ساتھ لونڈی کی حیثیت سے رکھ کر ان سے مباشرت کرنے کے بارے میں پوچھا تو حضرت علیؓ نے جواب دیا: ایک آیت نے حرام کیا ہے، اور ایک آیت نے حلال کیا ہے، لیکن نہ میں اسے کرنے والا ہوں اور نہ ہی میری آل اولاد۔

(فقہ الإمام علی: جلد 2 صفحہ 560)۔

حضرت علیؓ کے استنباط کی نوعیت یہ تھی کہ جس آیت نے دونوں کو ایک ساتھ رکھنے کو حرام کیا ہے وہ یہ ہے:

وَاَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ (سورۃ النساء آیت 23) 

’’اور یہ کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو۔‘‘

جس آیت سے اس کی حلت ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے:

إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (سورۃ المومنون 6)

’’مگر اپنی بیویوں، یا ان (عورتوں) پر جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں تو بلاشبہ وہ ملامت کیے ہوئے نہیں ہیں۔‘‘

مذکورہ دونوں آیات کے درمیان عموم و خصوص کی نسبت ہے، جس کی توضیح یہ ہے کہ دوسری آیت میں ملکیت کی لونڈیوں سے لذت اندوز ہونے کا جو عمومی حکم ہے، اسے پہلی آیت میں دو بہنوں کی یکجائی زوجیت کی ممانعت سے خاص کر لیا گیا ہے۔

(الاحکام: الآمدی: جلد 2 صفحہ 445، روضۃ الناظر: جلد 2 صفحہ 129)۔

• اسی اصول پر عمل کرتے ہوئے حضرت علیؓ نے حکم دیا کہ جس حاملہ عورت کا شوہر وفات پاچکا ہو، اس کی عدت یہ ہے کہ حمل اور وفات کی دونوں عدتوں میں جس کی مدت طویل ہو اسی کا اعتبار کرے۔

 (الفصول فی الاصول: الجصاص: جلد 6 صفحہ 106)۔

• گویا حضرت علیؓ نے دو آیات کے عمومی احکام کو ایک دوسرے سے خاص کیا، ایک آیت ہے:

وَالَّذِيۡنَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنۡكُمۡ وَيَذَرُوۡنَ اَزۡوَاجًا يَّتَرَبَّصۡنَ بِاَنۡفُسِهِنَّ اَرۡبَعَةَ اَشۡهُرٍ وَّعَشۡرًا۞ (سورۃ البقرة آیت 234)

’’اور جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ (بیویاں) اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن انتظار میں رکھیں۔

دوسری آیت میں ہے:

وُاولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ (سورۃالطلاق آیت 4)

’’اور جو حمل والی ہیں ان کی عدت یہ ہے کہ وہ اپنا حمل وضع کر دیں۔‘‘

حضرت علیؓ کا خیال تھا کہ ایسی حاملہ عورت جس کا شوہر فوت ہو گیا ہو، اگر اسے چار مہینے دس دن سے پہلے ولادت ہو جاتی ہے تو وہ دوسری آیت کے عمومی حکم پر عمل نہیں کرے گی، بلکہ بقیہ ایام کی تکمیل کرے گی، اس لیے کہ پہلی آیت دوسری آیت کی تخصیص کرتی ہے، اور اگر وفات کی عدت پوری ہو جاتی ہے اور ولادت نہیں ہوتی تو ولادت ہو جانے تک اس کی عدت ہے، اس لیے کہ پہلی آیت کا عموم اپنی حالت پر باقی نہیں بلکہ دوسری آیت کے حکم سے مخصوص ہے۔ اس طرح آپ کے نزدیک دونوں آیات میں سے ہر ایک، ایک وجہ سے خاص ہے اور دوسری وجہ سے عام ہے۔ شاید احتیاط کے مدِنظر حضرت علیؓ کا ایسا خیال تھا تاکہ دونوں آیات پر عمل ہو جائے۔

(فقہ الامام علی: جلد 1 صفحہ 50)۔

لیکن راجح اور صحیح بات یہ ہے کہ ایسی عورت کی عدت دونوں حالتوں میں وضع حمل (ولادت) تک ہے، کیوں کہ عبداللہ بن عتبہ سے بسند صحیح ثابت ہے کہ سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے انھیں بتایا کہ وہ سعد بن خولہؓ کی زوجیت میں تھیں، وہ بدری صحابی تھے۔حجۃ الوداع کے موقع پر ان کی وفات ہو گئی اور وہ حاملہ تھیں، ابھی کچھ ہی ایام گزرے تھے کہ ان کو ولادت ہو گئی اور جب نفاس سے پاک ہو گئیں تو پیغامِ نکاح دینے والوں کے لیے زیب و زینت کی، ایک دن ان کے پاس ابوالسنابلؓ آئے اور کہنے لگے: کیا بات ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ تم زیب و زینت کر رہی ہو؟ شاید تمھیں نکاح کی خواہش ہے، جان لو! تم اس وقت تک نکاح نہیں کر سکتی ہو جب تک کہ عدت وفات چار مہینے دس دن نہ گزر جائیں، سبیعہ کہتی ہیں کہ جب ابوالسنابلؓ نے مجھ سے یہ بات کہی تو میں نے شام کو اپنے کپڑوں