ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 4 از 4

دوازدہم: جہیز فاطمہؓ ابوبکر نے خرید کیا۔ تزویجِ فاطمہؓ کی ابتدائی تحریک ہی حضرت ابوبکرؓ نے نہیں بلکہ آخری رسوم خرید جہیز وغیرہ بھی سیدنا ابوبکرؓ ہی کے ہاتھ سے انجام پذیر ہوئی۔ چنانچہ جلا العیون اردو: صفحہ 123 پر مذکور ہے۔

جناب امیر نے فرمایا: حضرت رسولﷺ نے مجھے ارشاد کیا: علی اُٹھو اور اپنی زرہ بیچ ڈالو۔ پس میں گیا اور زرہ فروخت کر کے اُس کی قیمت حضرت کی خدمت میں لایا اور روپے حضرت کے دامن میں رکھ دیئے۔ حضرت نے مجھ سے پوچھا کتنے روپے ہیں؟ اور میں نے کچھ نہ کہا۔ پس ان میں سے ایک مٹھی روپیہ لیا اور بلال کو بلا کر دیا اور فرمایا فاطمہؓ کے لیے عطر، خوشبو لےآ۔ پس ان دراہم میں دو مٹھیاں لیکر ابوبکرؓ کو دیں اور فرمایا بازار میں جا کر کپڑا وغیرہ وغیرہ جو کچھ اثاث البیت درکار ہے لے آ۔ پس عمار بن ہیر اور ایک جماعت صحابہؓ کو ابوبکرؓ کے پیچھے بھیجا اور سب بازار میں پہنچے۔ پس ان میں سے ہر ایک شخص جو چیز لیتا تھا حضرت ابوبکرؓ کے مشورہ سے خرید کرتا اور دکھا لیتا تھا۔ بس ایک پیراہن سات درہم کو اور ایک مقنعہ چار درہم کو اور ایک چادر سیاہ خیبری و کرسی کہ دونوں پاٹ اُس کے لیف خرما سے جڑے تھے اور دو تو شک جامہ ہاے مصری، کہ ایک لیف خرما سے اور دوسری کو پشم گوسپند سے بھرا تھا اور چار تکیے پوست طائف کے ان کو گیاہ اذخر سے بھرا تھا اور ایک پردہ پشم اور بوریا اور چکی اور بادیہ مسی اور ایک ظرف پوست پانی پینے کا اور کاسہ چوبیں دودھ کے لیے اور ایک مشک پانی کے لیے اور ایک آفتابہ قیر اندود اور ایک سبوئی سبز اور کوزہ ہائے سفالین خرید کیے۔ جب سب اسباب خرید چکے۔ بعض اشیاء سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اور سب اصحاب رضی اللہ عنہم نے بھی اسباب مذکورہ اُٹھایا اور حضرت رسولﷺ کی خدمت میں لائے۔ حضرت رسولﷺ ہر ایک چیز کو دست مبارک میں اُٹھا کر ملاحظہ فرماتے اور کہتے تھے خداوندا میرے اہلِ بیت پر مبارک کر (صفحہ 122)

اس سے سے معلوم ہوا کہ حضرت علی المرتضیٰؓ کی دوستی کے علاوہ حضرت رسول پاکﷺ کو بھی حضرت ابوبکرؓ پر اس قدر بھروسہ و اعتماد تھا کہ جہیز فاطمہؓ کی خرید پر بھی وہی مامور ہوئے اور سب اسباب ان کے مشورہ سے خریدا گیا۔ دشمنوں کو بھی ایسے مبارک کام کے لیے منتخب کیا جاتا ہے؟

جلاء العیون اردو: صفحہ 77 میں لکھا ہے۔ 

ثعلبی نے روایت کی ہے کہ جس وقت مرض حضرت رسولﷺ پر سنگین ہوا۔ اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور کہا یا حضرتﷺ! آپ کس وقت انتقال کریں گے؟ حضرت نے فرمایا۔ میری اجل حاضر ہے۔ ابوبکرؓ نے کہ: آپ کا بازگشت کہاں ہے؟ حضرت نے فرمایا: جانب سدرۃ المنتہیٰ و جنت الماویٰ و رفیق اعلیٰ و عیش گزار و جرعہاء شراب قرب حق تعالیٰ میری بازگشت ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا آپ کو غسل کون دے گا۔ حضرت جی نے فرمایا جو میرے اہلِ بیت سے ہے مجھ سے بہت قریب ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا کس چیز میں آپ کو کفن کریں گے؟ حضرت نے

فرمایا: انہیں کپڑوں میں جو میں پہنے ہوں، پاجامہ ہائے یمنی و مصری میں۔ حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا؟

کس طرح آپ کی نماز پڑھیں؟ اس وقت جوش وخروش اور غلغلہ آواز مردم بلند ہوا اور در و دیوار کانپنے لگے۔ حضرتﷺ نے فرمایا صبر کرو۔ خدا تم لوگوں سے عفو کرے۔ انتہیٰ

اب شیعہ سے پوچھا جاتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ معاذ اللہ عجیب منافق تھے کہ آخر وقت میں بھی حضورﷺ راز کی باتیں اور وصیتیں اسی کو سناتے رہے۔ آخری وقت تو انسان تمام دنیوی علائق سے آزاد ہو کر صرف متوجہ الی اللہ ہو جاتا ہے اور اس وقت وہی بھلا معلوم ہوتا ہے جو متوجہ الی اللہ ہو۔ پاک لوگ آخری دم میں کبھی بھی ناپاک لوگوں کو پاس پھٹکنے نہیں دیتے۔ غرض حضورﷺ کو اپنے محبت صادق حضرت ابوبکر صدیقؓ سے اس درجہ محبت و پیار تھا کہ بوقت نزع بھی اسی کو شرف ہم کلامی بخشا (خوشا حال ابوبکرؓ)

چہار دہم: شیعہ کی متعدد کتب میں شیخین رضی اللہ عنہما کی نسبت سیدنا جعفرؒ سے مروی یہ حدیث موجود ہے۔

هُمَا إِمَامَانِ عَادِلانِ فاسطانِ كَانَا عَلَى الْحَقِّ وَمَاتَا عَلَيْهِ فَعَلَيْهمَا رَحْمَةُ اللَّهِ يَوْمَ القِيَامَةِ 

ترجمہ: ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما دونوں امام عادل اور باانصاف حق پر تھے۔ حق پر ہی فوت ہوئے۔ ان دونوں پر خدا کی رحمت ہو قیامت کے دن۔

پانزدهم: نہج البلاغہ کی شرح کبیر مؤلفہ کمال الدین ابنِ میسم بحرانی جو 677ھ میں تصنیف کی گئی میں یوں درج ہے.

وَكَانَ أَفْضَلَهُمْ فِي الإسلام كَمَا زَعَمَتِ وَانْصَحَهُمْ لِلَّهِ وَرَسُوْلِهِ الْخَلِيفَة الصديق والخليفته الفاروق.

ترجمہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسلام سب سے بہتر اور خدا اور رسولﷺ کے بڑے مبلغ اسلام حضورﷺ کے جانشین حضرت ابوبکر اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما تھے۔

اب میں پندرہ شہادت کتب شیعہ سے لکھ کر حضرات شیعہ کو دو از دہ آئمہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ اس قدر روشن شہادات دربارہ تعریف اعتراف فضیلت و صدیقیت حضرت ابوبکر صدیقؓ دیکھ کر بھی تم لوگ ضد سے باز نہ آؤ گے؟ ہاں! مگر جن کے دلوں پر شقاوت کی مہر لگ چکی ہے، ان کو کون ہدایت کرے۔

وَاللّٰهُ يَهۡدِىۡ مَنۡ يَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِمُ


صفحہ 4 از 4