Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

مسئلہ تکبیرات جنازه

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

چونکہ تکبیراتِ جنازہ دوسری نماز کی رکعات کی بجائے اور کوئی فرض، نماز چار رکعات سے زیادہ نہیں اس لیے شیعہ کا پانچ تکبیرِ جنازہ کا قائل ہونا قول بلا دلیل ہے۔

ہم اس سے پہلے فروعِ کافی جلد، 3، کتاب الروضہ صفحہ، 30، سے ایک طولانی حدیث لکھ چکے ہیں، جس کا مفہوم یہ ہے کہ جناب امیرؓ نے اپنے عہد میں بھی وہی امور قائم رکھے جو خلفاءِ ثلاثہؓ کے عہد میں نافد تھے نہ فدک ورثاءِ فاطمہؓ کو دے سکے نہ متعہ کی حلت کا فتویٰ جاری کیا نہ نمازِ تراویح موقوف کر سکے، نہ پانچ تکبیراتِ جنازہ پڑھا سکے، پھر جب جناب ممدوح اپنے وقت میں چار تکبیر جنازہ پڑھتے رہے تو اب شیعہ اس کے خلاف کرنے کے کس طرح مجاز ہو سکتے ہیں۔ 

دوم: شیعہ کی معتبر کتاب فروعِ کافی جلد صفحہ 95 میں ایک حدیث ہے جس میں تصریح ہے کہ آنحضرتﷺ پہلے (جب منافقین پر نمازِ جنازہ پڑھنے کی اجازت تھی) پانچ تکبیر پڑھا کرتے تھے لیکن جب منافقین کا جنازہ پڑھنے کی ممانعت ہوگئی تو پھر چار تکبیر ہی پڑھا کرتے تھے۔ الفاظ حدیث یہ ہیں:

عَنْ أَمْ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِاللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَقُولُ كَان رَسُولُ اللَّهِﷺ إِذَا صَلَّى عَلَى مَيْتٍ كَبَّرَ وَتَشَهَدَ ثُمَّ كَبَّرَ ثُمَّ صَلَّى عَلَى الْأَنْبِيَاءِ وَدَعَا ثُمَّ كَبَّرَ وَدَعَا لِلْمُؤْمِنِينَ ثُمَّ كَبَّرًا الرَّابِعَةَ وَدَعَا لِلْمَيِّتِ ثُمَّ كَبَّرَ وَانْصَرَفَ فَلَمَّا نَهَاهُ اللَّهُ عَنِ الصَّلوةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ كَبَّرَ وَتَشَهَّدَ ثُمَّ كَبَّرَ وَصَلَّى عَلَى النَّبِينَ وَدَعَا لِلْمُؤْمِنِينَ ثُمَّ كَبَّرَا الرَّابِعَةَ وَانْصَرَفَ وَلَمْ يَدْعُ لِلْمَيِّتِ۔

ترجمہ: ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت ہے کہ سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا آنحضرتﷺ جب میت پر نمازِ جنازہ پڑھتے تھے، تکبیر کہتے اور کلمہ شہادت پڑھتے پھر تکبیر کہتے، پھر انبیاء پر درود پڑھتے اور دعا کرتے اور پھر تکبیر پڑھتے اور مؤمنوں کے لیے دعا کرتے پھر چوتھی تکبیر کہتے اور میت کے لیے دعا کرتے پھر تکبیر کہتے اور فارغ ہو جاتے تھے پھر جب منافقین پر نماز جنازہ پڑھنے کی ممانعت ہوگئی تو یوں نماز پڑھتے، تکبیر پڑھتے اور کلمہ شہادت پڑھتے پھر تکبیر کہتے اور انبیاء پر درود پڑھتے اور مؤمنوں کے لیے دعا کرتے تھے پھر چوتھی تکبیر کہتے اور فارغ ہو جاتے تھے اور میت کے لیے دعا نہ پڑھتے تھے۔

(بعینہ یہی حدیث من لا یحضره الفقیہ صفحہ 50 اور علل الشرائع صفحہ 137 میں بھی موجود ہے۔)

اس حدیث سے جو سیدنا صادقؒ سے مروی ہے بالتصریح ثابت ہوا کہ پانچ تکبیر نمازِ جنازہ کا عمل رسول ابتداء میں تھا جب تک منافقین پر بھی نماز جنازہ پڑھا کرتے تھے لیکن آخری عمل جب منافقین پر نماز پڑھنے کی ممانعت ہوگئی یہی تھا کہ چار تکبیریں پڑھا کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ آخری فعلِ رسولﷺ ہی حجت ہوا کرتا ہے اس سے زیادہ صاف زبردست دلیل کیا ہوسکتی ہے جو شیعہ کی اپنی معتبر کتاب کافی کلینی وغیره بروایتِ صادقؒ چار تکبیر نمازِ جنازہ کا ثبوت پیش کر دیا گیا ہے کیا اب بھی شیعہ ضد سے باز نہ آئیں گے؟ ہماری کتابوں میں یوں تصریح ہے: صلَّى جِبْرَائِيلُ عَلَى آدَمَ وَكَبُرَّ عَلَيْهِ اربعا۔ (دار قطنی)

 آدم علیہ السلام پر جبرئیل علیہ السلام نے مع ملائکہ کے نمازِ جنازہ پڑھی اور چار تکبیریں کہیں۔

اس کتاب دارِ قطنی جلد، 1 صفحہ، 90 میں حضرت انس رضی اللہ عنہ ہی کی روایت سے ایک حدیث ہے کہ آدم علیہ السلام پر چار تکبیریں پڑھی گئی۔ رسول اللہﷺ کے جنازہ پر بھی چار تکبیریں پڑھی گئیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جنازہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر صحبیب ﷺ نے جنازہ عمر فاروقؓ پر حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت حسنؓ پر چار تکبیریں پڑھیں۔ 

اہلِ السنت والجماعت کی جملہ کتب حدیث میں تصریح ہے کہ آخری عملِ رسولﷺ کا جنازہ نجاشی کے بعد چار تکبیر نمازِ جنازہ پر ہی رہا جب کتبِ معتبرہ فریقین سے یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچ گیا کہ آخری عمل آنحضرتﷺ کا چار تکبیر نمازِ جنازہ پر ہی رہا تو اب شیعہ کو اپنی ضد چھوڑ دینا چاہیے۔ 

والله الھادی