تیسرا شبہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تیسرا شبہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

روافض کی بے حیائی پر مبنی ہرزہ سرائی کہ ’’عائشہ رضی اللہ عنہا غیر محرموں سے حجاب نہیں کرتی تھیں۔‘‘

روافضہ کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مردوں سے حجاب نہ کرتی تھیں۔ ان میں سے ایک یوں کہتا ہے: یہ تو غیر مناسب ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے وضو کریں، اپنے ہاتھ دھوئیں، اپنے دونوں رخسار دھوئیں، اپنا چہرہ دھوئیں اور اپنے کانوں کا مسح کریں۔ جیسے کہ (سنن نسائی) میں ہے۔۔۔ اور اسی طرح یہ بھی نامناسب ہے کہ وہ مردوں کے سامنے غسل کریں۔ اس نے صحیحین وغیرہ میں مروی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے غسل والی حدیث تحریر کی اور روافض کو یہ شبہ دو درج ذیل احادیث کی وجہ سے لگا۔

حدیث اول: عبدالملک بن مروان بن حارث سے روایت ہے اس نے کہا مجھے ابو عبداللہ سالم سبلان نے خبر دی، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان کی ادائیگی امانت پر تعجب کرتیں اور انھوں نے مجھے دکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے۔ انھوں نے کلی کی اور تین بار ناک جھاڑی اور تین بار اپنے چہرے کو دھویا پھر اپنا دایاں ہاتھ اور پھر بایاں ہاتھ دونوں تین تین بار دھوئے اور اپنے سر کے اگلے حصے پر اپنا ہاتھ رکھا، پھر اپنے سر کے پچھلے حصے تک ایک ہی بار مسح کیا پھر انہی ہاتھوں سے اپنے کانوں کا مسح کیا۔ پھر وہی ہاتھ اپنے رخساروں پر لگائے۔ سالم نے کہا: میں مکاتبت کی ادائیگی کے لیے ان کے پاس آتا تو وہ مجھ سے اوجھل نہ ہوتیں وہ میرے سامنے بیٹھ جاتیں اور مجھ سے باتیں کرتیں۔ حتیٰ کہ میں ایک دن ان کے پاس آیا تو کہا: اے ام المؤمنین! آپ میرے لیے برکت کی دعا کریں، تو انھوں نے فرمایا: تیری کیا مراد ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے مجھے آزاد کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا: اللہ تیرے لیے برکت کرے اور میرے آگے پردہ لٹکا دیا۔ پھر اس دن کے بعد میں نے انھیں نہیں دیکھا۔

(سنن نسائی: جلد 1 صفحہ 72۔ الکنی للدولابی: جلد 2 صفحہ 820، حدیث نمبر: 1430۔ التاریخ الکبیر للبخاری: جلد 4 صفحہ 110۔ المتفق و المفترق للخطیب البغدادی: جلد 3 صفحہ 1524، حدیث نمبر: 854۔ ابن قطان نے کہا: یہ صحیح نہیں۔ (احکام النظر: 213۔) اور علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صحیح ہے۔ (صحیح سنن نسائی: حدیث نمبر: 100) 

دوسری حدیث: جو بخاری و مسلم نے ابوبکر بن حفص سے روایت کی ہے اس نے کہا میں نے ابو سلمہ کو کہتے ہوئے سنا: میں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھائی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو ان کے بھائی نے ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت پوچھی۔ انھوں نے ایک صاع (تقریباً ڈھائی کلو) کے قریب ایک برتن منگوایا اور غسل کیا اور اپنے سر پر پانی بہایا اور ہمارے اور ان کے درمیان حجاب تھا۔

(صحیح بخاری' حدیث نمبر: 251۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 320)

اس شبہے کا جواب:

اول: نسائی کی روایت کے بارے میں وضاحت

 اس حدیث کے صحیح ہونے میں محدثین کا اختلاف ہے۔ اس کی سند میں عبدالملک بن مروان بن حارث بن ابی ذباب مجہول ہے۔ جُعَیْد بن عبدالرحمٰن کے سوا اس سے کسی نے روایت نہیں کی۔

اگر اسے صحیح بھی مان لیا جائے تو بھی اس میں ایسی کوئی بات نہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا غیر محرموں سے حجاب نہیں کرتی تھیں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک فقیہہ اور مجتہدہ صحابیہ تھیں اور ان کا یہ ایک اجہتادی مسئلہ تھا کہ وہ غلام سے پردے کو ضروری نہیں سمجھتی تھیں، یہاں غیر محرم کی بات نہیں بلکہ غلام کی بات ہے اس کے اجتہاد پر بھی انھیں اجر ہی ملے گا اور جب انھیں آزاد کر دیا گیا تو ان کے آگے فوراً پردہ لٹکا دیا۔ جیسا کہ حدیث کے الفاظ ہیں: انھوں نے میرے آگے پردہ لٹکا دیا اس دن کے بعد میں نے انھیں نہیں دیکھا۔

(سندی نے کہا اس کی بنیاد یہ ہے کہ مکاتب پر جب ایک درہم بھی باقی ہو تو وہ بہرحال غلام ہوتا ہے اور شاید وہ عائشہ کے کسی قریبی کا غلام تھا اور وہ سمجھتی تھیں کہ غلام اپنی مالکن اور اس کے رشتہ داروں کے پاس آ سکتا ہے اور بہتر علم اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ (حاشیہ السندی علی النسائی: جلد 1 صفحہ 73۔) 

کتب سنت میں اس کے شواہد بے شمار ہیں ۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے ایک غلام لائے۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہبہ کر دیا تھا۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا پر ایک کپڑا تھا اگر وہ اس کے ساتھ اپنا سر ڈھانپتی تو وہ ان کے پاؤں تک نہ پہنچتا تھا اور اگر اس کے ساتھ پاؤں ڈھانپتیں تو وہ ان کے سر تک نہ پہنچتا تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشکل دیکھی تو فرمایا:

اِنَّہٗ لَیْسَ عَلَیْکِ بَاْسٌ، اِنَّمَا ہُوَ اَبُوْکِ وَ غُلَامُکِ

’’تم پر کوئی حرج نہیں کیونکہ یہاں تمہارا باپ اور تمہارا غلام ہیں۔‘‘

(سنن ابو داود: حدیث نمبر: 4106۔ الاحادیث المختارہ لضیاء المقدسی، حدیث نمبر: 1716۔ سنن کبری للبیہقی: جلد 7 صفحہ 95، حدیث نمبر: 13929۔ اس حدیث کو ابن القطان نے احکام النظر، 196 میں صحیح کہا۔ ضیاء المقدسی نے السنن و الاحکام: جلد 5 صفحہ 107 پر کہا مجھے اس کی سند میں کوئی نقص معلوم نہیں اور علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے المہذب: جلد 5 صفحہ 2671 میں اور ابن الملقن نے البدر المنیر: جلد 7 صفحہ 510 میں اس کی سند کو جید کہا اور علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح سنن ابی داود میں اسے صحیح کہا۔

اکثر علمائے اہل سنت غلام کے لیے اپنی مالکن کو دیکھنا جائز قرار دیتے ہیں۔ ’’شرح مختصر خلیل‘‘ میں لکھا ہوا ہے: ’’جو غلام بغیر کسی شریک کے ہو اور جو قسط وار اپنی آزادی کے لیے ادائیگی کے مرحلے میں ہو اور بد صورت ہو تو وہ اپنی مالکن کے بالوں اور اس کے ہاتھوں اور پاؤں وغیرہ کو دیکھ سکتا ہے۔ جو کچھ عورت کے محرم اس سے دیکھ سکتے ہیں اور خلوت میں بھی اس کے ساتھ جا سکتا ہے۔ ابن ناجی کا یہی قول مشہور ہے۔ بشرطیکہ وہ غلام مکمل طور پر مذکورہ مالکن کا ہو۔‘‘

(شرح مختصر خلیل للخرشی: جلد 3 صفحہ 221)

روافض خود بھی یہی کہتے ہیں کہ عورت پر غلام سے حجاب واجب نہیں صرف اس صورت میں کہ وہ اپنی آزادی کی قیمت ادا کر چکا ہو۔

صفحہ 1 از 4