Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی دعوتی سر گرمیاں

  ابو شاہین

اللہ کی طرف دعوت دینا امہات المؤمنین کا سب سے بلند مقصد تھا، چناچہ کوئی بھی حدیث ان کو معلوم ہوتی یا نبی کریمﷺ کو جو بھی کام کرتے ہوئے دیکھتیں تو جیسے سنا ہے یا آپ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے اس کی من و عن تبلیغ شروع کرتیں ، کیونکہ ان کو اللہ کے نبیﷺ کا یہ قول ہر وقت یاد رہتا تھا:

’’اللہ تعالیٰ اس بندے کو شاد اور آباد رکھے جو ہم سے کوئی بات سنے تو بالکل اسی طرح دوسروں تک پہنچائے، کیونکہ کبھی سننے والے کے مقابلے میں اس کو بات زیادہ یاد رہتی ہے جس تک پہنچائی جائی۔‘‘ 

(صحیح الجامع الصغیر:حدیث: 6764)

ازواج مطہراتؓ کو وسعت علم اور تفقہ فی الدین میں امتیاز حاصل تھا، چنانچہ فقہاء نے ان سے ایسے احکام سیکھے جو تمام لوگوں کے لیے نافع ہیں، سیرت کی کتابوں میں بہت سے ایسے واقعات ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ امہات المؤمنینؓ نے دوسروں کو نصیحت کرنے، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کی انجام دہی میں اپنا کردار ادا کیا، اگر ہم یہ کہیں تو مبالغہ نہ ہوگا کہ ابتدائے وحی کے وقت اللہ کی طرف دعوت کی کامیابی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ حضرت خدیجہؓ نے آپﷺ کو دلاسہ دیا اور آپﷺ پر سب سے پہلے ایمان لے آئی اور اپنے مال اور اپنی جان سے آپﷺ کی مدد کی، وہ بہترین بیوی تھیں جنھوں نے ابتدائے وحی میں رسول اللہﷺ کے دل کو مضبوط کیا، آپﷺ حضرت خدیجہؓ کے اس احسان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’وہ مجھ پر اس وقت ایمان لائیں جب لوگ مجھ پر ایمان نہیں لائے، انھوں نے میری اس وقت تصدیق کی جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا، اور انھوں نے مجھے اس وقت اپنے مال میں شریک کیا جب لوگوں نے مجھے محروم کیا۔‘‘ 

(الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد 1 صفحہ 589)

اللہ کا دین پھیلانے میں آپ رضی اللہ عنہن کا بہت بڑا حصہ ہے، جس کی وجہ سے اللہ ان سے راضی ہو گیا۔

یہ عائشہ صدیقہ بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا ہیں، جنہوں نے رسول اللہﷺ سے بڑی تعداد میں حدیثوں کو یاد کیا، تاکہ ان کو لوگوں میں عام کریں، چنانچہ فقہاء علماء اور اکثر لوگوں نے ان سے کسبِ فیض کیا اور ان سے بہت سے احکام و آداب کو نقل کیا، یہاں تک کہا جاتا ہے کہ ان سے شریعت کے ایک چوتھائی احکام منقول ہیں۔ صحابہؓ اور تابعینؒ علماء نے حضرت عائشہؓ اور ان کے علم کی تعریف کی ہے، مسروق فرماتے ہیں:

’’میں نے اکابر صحابہ کرامؓ میں سے کئی شیوخ کو حضرت عائشہؓ سے فرائض کے بارے میں سوال کرتے ہوئے دیکھا۔ جب مسروق حضرت عائشہؓ سے کوئی روایت نقل کرتے تو کہتے: مجھے صدیقہ بنت صدیق اللہ کے محبوب کی چہیتی سات آسمانوں کے اوپر سے برأت کردہ شخصیت نے بتایا، جس کی میں نے تکذیب نہیں کی۔‘‘ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 181)

عطاء بن ابو رباح فرماتے ہیں: عائشہؓ تمام لوگوں میں سب سے بڑی فقیہہ، عالمہ اور سب سے بہترین صاحب الرائے تھیں۔

ہشام بن عروہ اپنے والد عروہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: میں نے فقہ، طب اور شعر کے بارے میں حضرت عائشہؓ سے زیادہ جاننے والا کسی کو نہیں دیکھا۔ 

(نساء حول الرسول از: عاطف صابر شاہین: 66، مطبعہ: دارالغد المنصورۃ۔)

عبداللہ بن عبید بن عمیر نے فرمایا: اس پر وہی شخص غمگین ہوگا جس کی وہ ماں ہیں۔ (یعنی ہر مسلمان ان کے انتقال پر غمگین ضرور ہے)۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 185)

حضرت عائشہؓ کی دعوت و تبلیغ کا ایک واقعہ یہ منقول ہے کہ حضرت حفصہ بنت بن عبدالرحمٰن بن ابوبکر آپ کے پاس آئیں، جس کے جسم پر پتلی اوڑھنی تھی جس سے ان کی پیشانی جھلک رہی تھی، حضرت عائشہ نے اس اوڑھنی کو پھاڑ دیا اور فرمایا: اللہ نے سورہ نور میں جو نازل فرمایا ہے، کیا تمہیں اس بارے میں معلوم نہیں ہے؟ پھر دوسری اوڑھنی منگائی اور اس کو پہنایا۔

وہ عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتی تھیں: عورتو! اپنے پروردگار اللہ سے ڈرو، اور اچھی طرح وضو کرو، اپنی نماز قائم کرو اور اپنی زکوٰۃ خوش دلی کے ساتھ ادا کرو، اور پسند اور ناپسند میں اپنے شوہروں کی اطاعت کرو اور ان کی بات مانو۔

حضرت عائشہؓ فرمایا کرتی تھیں: عورت پر اللہ کا خلیفہ اور نائب اس کا شوہر ہے، جب اس کا شوہر اس سے راضی ہوگا تو اللہ اس سے راضی ہو جائے گا، اگر اس کا شوہر اس سے ناراض ہو گا تو اللہ اور اس کے فرشتے اس سے ناراض ہوں گے، کیونکہ وہ شوہر کو اپنی پسند پر مجبور کر رہی ہے۔

ان کے اقوال زریں میں سے یہ بھی ہے کہ بیوی پر شوہر کا یہ حق ہے کہ وہ اس کا بستر لازم پکڑے اور اس کی ناراضگی سے بچی رہے، اور اس کو راضی کرنے والی چیزوں کی تلاش میں رہے، اس کی کمائی کی حفاظت کرے، اس کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرے، اور اپنی ذات میں اس کی حفاظت کرے۔ (یعنی اپنی ذات میں خیانت نہ کرے)۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 185)

زینب بنت جحشؓ کو رسول اللہﷺ کی زندگی میں اور آپﷺ کے انتقال کے بعد آپ کی سنتوں پر عمل کرنے میں ہر مومن مرد اور عورت کے لیے عالمہ، واعظہ اور خیر خواہی کرنے والی کا مقام حاصل ہے، انہوں نے اللہ کو ناراض کرنے والی ہر چیز سے اپنے کان اور آنکھوں کی حفاظت کی، جب رسول اللہﷺ نے ان سے سیدہ عائشہؓ کے بارے میں واقعہ افک کے موقع پر دریافت کیا تو انہوں نے کہا: میں اپنے کانوں اور اپنی نگاہوں کی حفاظت کرتی ہوں، مجھے ان کے بارے میں خیر ہی معلوم ہے۔

ام المؤمنین میمونہ بنت حارثؓ نے فقہی احکام سے متعلق بعض حدیثوں کو امت میں منتقل کیا ہے، مثلاً یوم عرفہ میں لوگوں کو شک ہو گیا کہ آپﷺ روزے سے ہیں یا نہیں۔ حضرت میمونہؓ نے آپﷺ کی خدمت میں دودھ بھیجا جب کہ آپﷺ ابھی اپنی جگہ کھڑے ہی تھے، آپﷺ نے لوگوں کے سامنے اس کو پیا۔ 

(صحیح مسلم کتاب الصوم: صوم یوم عرفۃ: حدیث: 1989)

انہوں نے غسلِ جنابت میں رسول اللہﷺ کا طریقہ روایت کیا ہے۔ 

(صحیح مسلم: کتاب الحیض: باب صفۃ غسل الجنابۃ حدیث: 317)

آپؓ کا شمار امت کے خیر خواہوں اور واعظوں میں ہوتا ہے، اللہ ان سے اور باقی تمام امہات المؤمنین سے راضی ہو جائے۔ آمین۔