Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

پانچواں طعن جنازہ رسول ﷺ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

پانچواں طعن جنازہ رسولﷺ

شیعہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضورﷺ کا جنازہ نہیں پڑھا اس کو بڑا کھینچ تان کر بیان کیا جاتا ہے تاکہ لوگ گمراہ ہوں کہ جن لوگوں نے اپنے رسولﷺ پر نماز جنازہ بھی نہیں پڑھی وہ خلیفہ کیسے ہو سکتے ہیں؟ 

جواب: جھوٹ محض جھوٹ اگر آج کل کے شیعہ اپنی کتابوں کا بھی مطالعہ کریں تو ایسے جھوٹ کہنے سے شرم آئے مگر اللہ رے جہالت اپنی کتابوں سے انہیں واقفیت نہیں ہے۔

1: شیعہ کی نہایت معتبر کتاب اصولِ کافی کے صفحہ 286 میں لکھا ہے 

عَنْ أَبِی جَعْفَرَ عَلَيْه السَّلاَمُ قَالَ لَمَّا قُبِضَ النَّبِیﷺ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ والْمُهَاجِرُوْنَ وَالانْصَارُ فَوْجاً فَوْجاً۔

ترجمہ: سیدنا باقرؒ نے فرمایا جب نبیﷺ فوت ہوئے آپﷺ پر فرشتوں اور تمام مہاجرین اور انصار نے فوج در فوج نماز پڑھی 

یہ مانی ہوئی بات ہے کہ الف لام جب صیغہ جمع پر واقع ہو تو استغراق کا معنیٰ دیتا ہے اس لیے بقول سیدنا باقرؒ جب جمیع مہاجرین و انصار کا نماز جنازہ رسولﷺ پڑھنا ثابت ہے تو پھر شیعہ کی بکواس شیخین کریمینؓ نے آپﷺ کا جنازہ نہیں پڑھا کیا وقعت رکھتی ہے تم سچے ہو یا سیدنا باقرؒ سچے؟

2: شیعہ کی ایک دوسری مستند کتاب اخبارِ ماتم مطبوعہ حسینی رام پور کی مجلس اول صفحہ 65 میں ہے۔

عَنْ أَبِي جَعْفَرَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ النَّاسُ كَيْفَ الصَّلَوةُ عَلَيْهِ فَقَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِنَّ رَسُولِ اللَّهِ اللهِ إِمَامُنَا حَيًّا وَمَيْتًا فَدَخَلُوا عَلَيْهِ عَشَرَةٌ فَصَلُّوا عَلَيْهِ يَوْمَ لِاثْنَيْنِ وَلَيْلَةَ الثُّلُثَاءِ حَتَّى الصُّبْحِ وَيَوْمَ الثَّلَثَاءِ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ صَغِيرُهُمْ وَكَبِيرُهُم وَذَكَرُهُمْ وَانْتَاهُمْ وَنَوَاحِيَ الْمَدِينَةِ بِغَيْرِ إِمَامٍ.

ترجمہ: سیدنا باقرؒ نے فرمایا: لوگوں نے دریافت کیا کہ حضورﷺ نام پر کس طرح نماز پڑھیں؟ حضرت علیؓ نے فرمایا: آپ ہماری زندگی میں اور بعد وفات بھی امام ہیں۔ دس دس نے داخل ہو کر آپ پر نماز پڑھی۔ پیر کے دن اور منگل کی رات صبح تک نماز ہوتی رہی۔ اور منگل کے دن حتیٰ کہ تمام چھوٹے بڑے مرد عورت نے مدینہ اور اردگرد کے لوگوں نے بغیر امام کے نماز پڑھی۔

اب شیعہ خود ہی انصاف کریں کہ جب تمہاری کتابوں میں تصریح ہے کہ تمام مہاجرین و انصار چھوٹے بڑے مرد، عورت، مدینہ و مضافات کے لوگ نماز جنازہ رسول میں شامل تھے تو کیا مہاجرین و انصار اور صغیر و کبیر اور ذکر و انثی کے عموم سے شیخین خارج ہو سکتے ہیں۔ اگر شیخین نے نماز نہیں پڑھی تھی تو امام نے اُن کو مستثنیٰ کیوں نہ کر دیا؟

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا شاملِ جنازہ ہونا

اگرچہ مذکورہ بالا دلائل نہایت صاف ہیں اور ان سے بالوضاحت ثابت ہے کہ حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ جو سرخیل مہاجرین و انصار تھے نماز جنازہ رسول میں شامل تھے۔ لیکن ضدی شیعوں کی شاید اس سے تسلی نہ ہو اس لیے اب ہم وہ روایات لکھ دیتے ہیں جن سے حضرت ابوبکرؓ کا شامل جنازہ ہونا بالصراحت ثابت ہے۔

اصول کافی صفحہ 185 میں ہے:

عَنْ أَبِی عَبْدِاللَّهِ عَلَيْه السَّلاَمُ قَالَ اَتَى العَبَّاسُ اَمِيْرُ الْمُؤْمِنِينَ فَقَالَ يَا عَلِی إِنَّ النّاسَ اجْتَمَعُوْا أَنْ يَّدفَتُوْا رسول اللهﷺ فِى بَقِيْعِ الْمُصَلىّٰ وَاَنْ يَّؤُمَّهُمْ مِنْهُمْ رَجُلٌ فَخْرَجَ اَمِيْرُ الْمُؤْمِنِين اِلَى النّاسِ فَقَالَ يَا أَيُّهَا أَنَّ رسول اللهﷺ اِمَامَ حَيًّا وَمَيِّتًا وَ قالَ إِنَّىْ اُدفنُ فى البقعة الَّتِی اُقْبَضُ فِيْهَا ثُمَّ قَامَ عَلى الْبَابِ فَصَلّٰی عَلَيْه اَمَرَ النّاسَ عَشَرَةً عَشَرَةً يُصَلُّوْنَ ثُمَّ يَخْرجُوْن۔ 

ترجمہ: سیدنا جعفر صادقؒ نے فرمایا حضرت عباسؓ حضرت امیرؓ کے پاس آئے اور کہا لوگوں نے اتفاق کیا ہے کہ رسول اللہﷺ کو جنتِ بقیع میں دفن کریں اور یہ کہ ان لوگوں سے ایک شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ امام ہو پس امیرؓ لوگوں کے پاس آۓ اور کہا رسول اللہﷺ ہماری زندگی میں اور بعد وفات میں بھی امام ہیں اور آپﷺ نے فرمایا ہے کہ میں اسی جگہ دفن کیا جاؤں جہاں میرا انتقال ہوا امیرؓ دروازہ پر کھڑے ہو گئے اور خود نماز پڑھی پھر لوگوں کو حکم دیا 10 ،10 آدمی نماز پڑھتے اور پھر چلے جاتے تھے 

اس روایت سے ثابت ہے کہ بوقتِ جنازہ رسول اللہﷺ سیدنا ابوبکر صدیقؓ موجود تھے اور لوگوں کا اس امر پر اتفاق تھا کہ آپ کو امام بنایا جائے لیکن سیدنا امیر رضی اللہ عنہ کے کہنے پر امام کی ضرورت نہیں دس دس اشخاص نے بلاامامت نماز پڑھی پھر کس طرح کہہ سکتے ہو کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے نماز نہیں پڑھی ممکن ہے کہ اس سے ایک متعصب شیعہ کی تسلی نہ ہو کیونکہ اسی روایت میں بالاشارہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے امام بنائے جانے کی خواہش کا ذکر ہے آپ کا نام بھی تصریح موجود نہیں ہے لو اب ہم آپ کو وہ روایت دکھائیں جس میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کا نام بھی درج ہے 

جلاء العیون اردو مطبوعہ جعفری لکھنو: جلد، 1 صفحہ، 80 میں ہے سیدنا صادقؒ سے روایت ہے کہ عباس رضی اللہ عنہ جب امیر رضی اللہ عنہ کے خدمت میں آئے اور کہا لوگوں نے اتفاق کیا کہ حضرت کو بقیع میں دفن کریں اور ابوبکر صدیقؓ آگے ہو کر نماز پڑھائیں اور جناب امیرؓ نے کہا بدر ستیکہ رسول خدا پیشوا و امام ہمارے حیات و ممات ہیں اور حضرت نے خود فرمایا تھا کہ میں دفعہ ہوں گا جہاں میری روح قبض کی جائے۔

اب تو شیعہ حضرات کی تسلی ہو جائے گی کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ حسبِ روایت سیدنا صادقؒ سے نماز جنازہ میں شامل ہی نہ تھے بلکہ تمام مسلمانوں نے اتفاق کر لیا تھا کہ آپ ہی امام ہوں کیونکہ حضورﷺ نے اپنی زندگی میں آپ کو امامت نماز پر مامور فرما چکے تھے پھر کس قدر بے شرمی ہے کہ ائمہ اہلِ بیتؓ کو جھٹلا کر شیعہ صاحبان تمام لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں کہ یہ اچھے خلیفے تھے رسول اللہﷺ کا جنازہ ہی نہ پڑھا۔