Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ساتواں طعن

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قول ہے لست بخیرکم و علی فیکم اقیلونی اقیلونی (میں تمہارے لیے بہتر نہیں ہوں جب کہ علیؓ تم میں موجود ہیں۔ مجھے واپس کرو، واپس کرو) اس سے فضیلتِ سیدنا علیؓ حضرت ابوبکرؓ پر ثابت ہوتی ہے اور افضل کی موجودگی میں مفضول خلیفہ نہیں ہو سکتا۔ 

جواب: اولاً یہ کہ یہ صرف شیعہ کی گھڑت ہے۔ اہلِ سنت کی کسی مستند کتاب میں اس کا وجود نہیں ہے اگر اہل سنت کی کسی کتاب میں یہ قول ابوبکر صدیقؓ کا درج ہوتا تو ہم پر جواب دہی فرض ہوتی، واذا لیس فلیس

ثانیاً صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کہ اس قسم کے اقوال ان کی کمال بے نفسی اور زہد و اتقاء کی وجہ سے ہوتے تھے جیسا کہ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ میرا وزیر ہونا میرے امیر ہونے سے تمہارے حق میں بہتر ہے۔ وہ اپنے نفس پر دوسروں کو ترجیح دیا کرتے تھے۔ انا ولا غیری کا دم بھرنا دنیا دار ان مغرور النفس کا خاصہ ہوتا ہے۔ اس سے یہیں ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے دل میں طمع خلافت و حکومت ہرگز نہ تھی۔ یہ بار گراں اہل حل و عقد نے بالاجماع ان کی گردن پر رکھ دیا اور انہوں نے باحسنِ وجوہ اس کو انجام دیا۔ غرض اس قول سے ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکرؓ پر فضیلت تھی یا آپؓ خلافت کے نااہل تھے۔ ایسے متواضعانہ کلمات کہنے والے کی عظمت شان پر دلالت کرتے ہیں: 

تواضع کند ہو شمندے گزیں 

نہد شاخ پر میوہ سربر زمین

تکبر و غرور شیطانی اوصاف ہیں۔ بزرگانِ خدا باوجود کمال و جلال خود کو سب سے کمتر سمجھتے ہیں۔ تکبر و نخوت نے ہی شیطان کا بیڑا غرق کیا اور تواضع اور منکسر المزاجی ہی سے آدم مقبول بارگاہِ ایزدی ہوئے:

راندہ شد ابلیس از مستکبری 

گشت مقبل آدم از مستغفری