فضائل صدیقی پر روشن دلائل
مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہاس آیت پر بنظرِ انصاف غور کرنے سے فضائلِ صدیقی رضی اللہ عنہ ستاروں کی طرح چمکتے دکھائی دیتے ہیں۔
1: ایسے ہولناک وقت میں بامرِ الٰہی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتخاب ہونا اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا ایسے خطرناک موقعہ پر اپنے اخلاص و عقیدت میں پکا پکا نکلنا، بڑی بہادی سے اس پرخطر خدمت کا بصدقِ دل منظور کرنا اور دشمن کی تلواروں کے سائے تلے سے اپنے پیارے آقاﷺ کو بچا کر اپنے کندھے پر سوار کر کے غارِثور میں لےجانا، صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے فضل عظیم پر روشن دلیل ہے۔
2: خدا کے حضور سے ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ اور لِصَاحِبِهٖ ثانی رسول اور صاحبِ نبی دو عظیم الشان خطابوں کا عطا ہونا، رسول اللہﷺ کا لَا تَحۡزَنۡ ایک تسلی بخش اور تسکین دہ فقرہ بھی اس عاشق صادق کے لیے کچھ کم فخر نہیں ہے اور یہ مانی ہوئی بات ہے کہ عاشقانِ ذات احمدیﷺ اگر اس سردار دو جہان کے منہ سے کوئی معمولی اور اتفاقی فقرہ بھی سن لیا کرتے تھے تو مدت العمر اس کا لازمی وِرد رکھتے اور اس کو طرہ امتیاز سمجھ کر اپنے ہم نشینوں میں اس پر اظہارِ فخر و مباہات کیا کرتے تھے اگرچہ بظاہر وہ فقرہ زجر و توبیخ کے غرض سے ہی اس پاک منہ سے نکل جاتا تھا، چنانچہ ایک دفعہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ جب کہ گھر سے کچھ مُنغّض ہو کر مسجد میں جا کر زمین پر لیٹے ہوئے تھے اور رسولِ اکرمﷺ ڈھونڈتے ہوئے سر پر جا کھڑے ہوئے، انکا چہرہ خاک آلود دیکھ کر آپﷺ نے فرمایا "قُم٘ یَا اَبَا تُرَاب" وہ فقره "ابوتراب" سیدنا علی المرتضیٰؓ کو ایسا پیارا ہوا کہ اپنی کنیت ہی اس کو بنا لیا۔ اب آپؓ کی یہ کنیت زبانِ زدِ عوام ہے۔
ایسا ہی ایک صحابی کو بلیوں سے پیار کرتے ہوئے دیکھا تو "اَبُوھُرَی٘رَہ" کہہ دیا تھا۔ اُنہوں نے فخر کے ساتھ یہی کنیت اختیار کر لی۔
ایک دفع ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بار بار آماده سوال کیا، آپﷺ نے تیسری دفعہ کے جواب میں فقرہ "عَلیٰ رَغْمِ انْفِ اَبِی ذرٍّ" خفگی سے فرمادیا، وہ عاشقِ ذاتِ رسالت مآبﷺ اس حدیث کو ہر مجلس میں ذکر کرتے اور وہ فقرہ "عَلیٰ رَغ٘مِ اَن٘فِ ابِی٘ ذَرٍّ" فخر سے دوہرایا کرتے تھے۔
اب خیال فرمائیے کہ آں جنابﷺ کا اس خلوت کی مجلس میں حضرت ابوبکر صدیقؓ جیسے عاشق صادق جاں نثار کو لَا تَحۡزَنۡ کا دلاسا دینا اور پھر اس پیارے راحت بخش فقرہ کا رب العزت کے حضور میں منظوری کا شرف حاصل کر کے کلامِ الٰہی میں درج ہو جانا، یہ فخرِ صدیق اکبرؓ کے حصہ میں تھا۔ کون ہے جو صدیقی رتبہ کی ہمسری کا دم بھر سکتا ہے؟ اور کون مردود ازلی ہے جو صدیقی فضائل سے انکار کر سکتا ہے؟
3: پھر دوسرا پاک فقرہ لَا تَحۡزَنۡ کے بعد جو حضرت صدیق اکبرؓ نے اس زبان ترجمان سے سنا "اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا" کا تعظیمی فقرہ ہے جو حضرت صدیق اکبرؓ کی عظمت پر روشن دلیل ہے۔ جانتے ہو معیت ایزدی کیا معنیٰ رکھتی ہے؟ خُدا کن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے؟ "اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِيۡنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِيۡنَ هُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ" خدا کی معیت متقین اور محسنین کو ہی نصیب ہوتی ہے۔ پھر جب معیت ایزدی آیت مذکورہ کی رو سے حضرت ابوبکرؓ کے لیے منصوص ہوگئی تو پھر اُن کا متقی اور محسن ہونا کسی مزید دلیل کا محتاج نہ رہا۔ اللہ اکبر معیت ایزدی اور کونسی معیت، وہی جو رسولِ پاکﷺ سے معیت ایزدی تھی۔ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے نصیب ہوئی "مَعَنَا" کی ضمیر جمع پر غور کرو "وَ مَعِیَ يا مَعَكَ" نہیں فرمایا بلکہ "مَعَنَا" فرمایا یعنی خدا تیرے اور میرے دونوں کے ساتھ ہے اگر سیدنا صدیق اکبرؓ ایسے خاص وقت میں حبیب کبریاء رسولﷺ الٰہی کی سچی معیت اختیار نہ کرتے تو کیوں کر اس قدر اکرام و اجلال درگاہ رحمانی سے میسر ہو سکتا؟ ایسی سچی خدمت گزاری کا صلہ ہے کہ رسول اکرمﷺ سے اس خاص تعلق حضوری کی وجہ الٰہی سے حصہ لیا۔ سچ ہے "اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ"
4: پھر قول الٰہی فَاَنۡزَلَ اللّٰهُ سَكِيۡنَـتَهٗ عَلَيۡهِ پر غور فرمائیے یعنی خداوند کریم نے "سَكِيۡنَـتَهٗ" (رحمت اپنی) اس پر نازل فرمائی۔ کیا رحمتِ الٰہی کا حاصل کرنا کوئی معمولی بات ہے؟ بڑا مبارک ہے و شخص جس پر رب العالمین رحمت بھیجنےکی خبر قرآن کریم میں دے چکا ہے۔
5: قول باری تعالىٰ اِذۡ اَخۡرَجَهُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ (کافروں نے رسولﷺ کو اس حالت میں گھر سے نکالا کہ اس کے ساتھ ایک شخص اور بھی تھا) اس امر کی دلیل ہے کہ کفار کو جس قدر عداوت رسولﷺ سے تھی اسی قدر حضرت ابوبکر صدیقؓ سے بھی تھی اور ہر دو کو یکساں اپنا دشمن سمجھتے تھے اور دونوں کے ساتھ ایک سا برتاؤ کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ جناب رسولﷺ کی ہرمصیبت میں شریک کامل تھے۔ جائے غور ہے کہ قرآن پاک میں جس خصوصیت اور تشخیص و تعیین کے ساتھ سیدنا ابوبکرؓ صدیق کا صاحبِ رسولﷺ ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ ہونا اور دیگر فضائل کا صراحت سے بیان کیا گیا ہے جس سے موافق و مخالف کو انکار کی گنجائش نہیں رہتی اور کسی دوسرے صحابی کا ذکر بالتصریح اس طرح قرآن میں پایا نہیں جاتا۔